ماتھے پہ سجائے ہوئے منصب سے نہیں تھی
یہ دوستی تجھ سے کسی مطلب سے نہیں تھی
کچھ یاد سا پڑتا ھے مجھے عشق ہوا تھا
وہ یاد جو, اب یاد نہیں، کب سے نہیں تھی
اک ساتھ گزاری ھے یہ صدیوں کی اذیت
تجھ ہجر سے یاری بھی کوئی اب سے نہیں تھی
ویسے تو مجھے تجھ سے بھی شکوہ نہیں کوئی
ویسے تو شکایت بھی کوئی رب سے نہیں تھی
خالق کو بھی ھے ذاتی تعلق سے سروکار
دلچسپی مجھے بھی کسی مذھب سے نہیں تھی