کوٹ ادو کی شخصیات

پٹھانے خان، جس نے بھٹو کو رلا دیا تھا

وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پٹھانے خان سے تین بار پوچھا کہ ”کیا ان کی کوئی خواہش ہے” تو ہر بار اس گلوکار کا جواب تھا، ”اللہ بہوں ڈیوے تے صحت دی بادشاہی ہوے”۔ اس پر بھٹو نے پٹھانے خان کو گلے لگایا اور کہا ”میں ضرور غریبوں کی دیکھ بھال اور خیال کروں گا۔”
درویش انسان، فقیر روح ، پٹھانے خان پاکستان کے ایک سرائیکی لوک گلوکار تھے۔ انہوں نے زیادہ تر کافیاں یا غزلیات (سرائیکی میں)گائیں ۔ انہوں نے صوفیانہ کلام کو متعارف کروا کر پاکستان میں لوک موسیقی کو ایک نئی جہت بخشی۔ عام طور پر مٹھن کوٹ کے بزرگ خواجہ غلام فرید اور شاہ حسین کی صوفی شاعری پر نقش کرتے۔ ان کے پہلے استاد بابا میر خان تھے، جنہوں نے انہیں ہر وہ چیز سکھائی جو وہ خود جانتے تھے۔
پٹھانے خان 1926ء میں پنجاب کے شہر کوٹ ادو سے کئی میل دور صحرائے تھل میں واقع گائوں بستی تمبو والی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام غلام محمد تھا۔ غلام محمد جب صرف چند سال کے تھے، ان کے والد نے تیسری شادی کر لی اور نئی بیوی کو گھر لے آئے جس کے بعد بیوی ناراض ہوئیں اور انہیں لے کر اپنے والد کے ساتھ رہنے کے لئے اپنے میکے کوٹ ادو آ گئیں۔ اس دوران غلام محمد شدید بیمار ہوئے تو ان کی والدہ انہیں ایک روحانی پیشوا ”سید” کے گھر لے گئیں۔ سید کی بیگم نے ان کی دیکھ بھال کی اور ان کی والدہ کو لڑکے کا نام تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے لئے ”روحانی لحاظ سے بہت زیادہ وزن” ہے۔ سید کی بیٹی نے تبصرہ کیا کہ ”وہ پٹھانوں کی طرح نظر آتے ہیں اوراس خطے میں محبت اور بہادری کی علامت ہیں”۔ ان کی والدہ نے بیٹے کی زندگی بچانے کیلئے انہیں نیا نام پٹھانے خان دیا اور اسی دن سے غلام محمد ”پٹھانے خان” کے نام سے پہچانے جانے لگے۔
پٹھانے خان اپنی والدہ سے بہت لگاؤ رکھتے تھے۔ انہوں نے بھی ان کا خوب خیال رکھا اور انہیں تعلیم دلانے کی کوشش کی تاہم انہوں نے اپنے والد خمیسہ خان کی طرح اپنا وقت بھی گھوم پھر کر، غور و فکر کرتے اور گاتے ہوئے صرف کیا۔ ان کی موروثی طبیعت نے انہیں اپنے ہائی سکول میں ساتویں جماعت کے بعد سکول سے دور کرنے کا لالچ دیا۔ اس دور میں انہوں نے گانا شروع کیا۔ تنہا گانے سے ضروریات زندگی پوری نہیں ہوئیں تو نوجوان پٹھانے خان نے اپنی والدہ کے لئے لکڑیاں اکٹھا کرنا شروع کیں جس سے کنبہ کی معمولی گزر بسر ہوتی تھی۔ پٹھانے خان نے اپنی والدہ کی وفات کے بعد گانا بطور پیشے کے طور پر اپنا لیا۔ ان کی گائیکی میں اپنے سامعین کو حیرت زدہ کرنے کی گنجائش موجود تھی اور وہ گھنٹوں گانا گاتے تھے۔
پٹھانے خان کا بچپن انتہائی کسمپرسی اور غربت کی حالت میں گزرا، انہیں بابا فرید کے کلام سے عشق تھا، وہ مکمل طور پر خواجہ فرید کے عقیدت مند تھے۔ انہوں نے خواجہ صاحب کی شاعری کو اپنے مخصوص انداز کی جوشیلی گائیکی کے ذریعہ اپنا کر ایک گہرا مطلب دیا۔ مثال کے طور پر خواجہ فرید کی کافی ”پالو پاکیوں نی واے”، ثریا ملتانیکر، حسین بخش ڈھڈی اور بہت سے دوسرے لوگوں نے گائی ہے۔ ثریا ملتانیکر کی کمپوزیشن نے اسے ایک ہلکے لوک گیت کے طور پر پیش کیا جبکہ حسین بخش ڈھڈی نے کلاسیکی موسیقی کے گلوکار عاشق علی خان کے انداز میں اپنی منفرد ”تانوں” سے سجا ہوا کلاسیکی ٹکڑا پیش کیا ہے۔ تاہم، اس کافی کے پٹھانے خان ورژن نے اس کیلئے گہرے کائناتی معنی لایا ہے۔
پٹھانے خان نجی محفلوں میں خواجہ فرید کا کلام گاتے گاتے ریڈیو پاکستان ملتان تک جا پہنچے اور 1970میں ”میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں ” ریکارڈ کروا کر، اس کافی اور اپنے فن کو امر کر دیا۔ جنوبی پنجاب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن پر انہیں پرفارمنس کا موقع مل گیا۔ انہیں متعارف کرانے کا سہرا پروڈیوسر مشتاق صوفی کے سر ہے۔
سابق وزیراعظم پاکستان ذ والفقار علی بھٹو اور سابق صدرضیاء الحق پٹھانے خان کے دلدادہ تھے۔ عارفانہ کلام سننے کے لئے انہیں خصوصی طور پر اسلام آباد مدعو کیا جاتا۔ 1976 میں اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ جب پٹھانے خان نے ”جندری لوٹی تو یار ساجن، کڑی مور مہران تے وال ایک وطن” گایا تو بھٹو کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔ پروگرام کے بعد، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پٹھانے خان سے تین بار پوچھا کہ ”کیا ان کی کوئی خواہش ہے” تو ہر بار اس گلوکار کا جواب تھا، ”اللہ بہوں ڈیوے تے صحت دی بادشاہی ہوے”۔ اس پر بھٹو نے پٹھانے خان کو گلے لگایا اور کہا ”میں ضرور غریبوں کی دیکھ بھال اور خیال کروں گا۔” پٹھانے خان نے ساری عمر کسمپرسی اور غربت میں گزار دی لیکن کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا۔ آفر ہونے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو سے کچھ نہ مانگا، بس ایک ہی جواب دیتے ”اللہ بہوں ڈیوے تے صحت دی بادشاہی ہوے”۔ یعنی (اللہ آپ کو اور بھی زیادہ دے اور صحت مند زندگی عطا کرے)
پٹھانے خان کا ظاہر باطن سب فقیر تھا، کیا سادگی تھی۔ ایک پروگرام میں میزبان نے پوچھا۔ سنائیں زندگی کا سفر کیسے گزرا؟ تو جواب میں کہنے لگے ”کوٹ ادو توں رات بس تے بیٹھے تے اوں ساکوں دھکے دھوڑے دیندے دھمی بدامی باغ آن سٹے۔ پہلے سوچم ویگن تے باہنواں وت آکھم دیر تھی ویسی ولا اتھوں رکشہ گدے تے ٹی وٹی سٹیشن آن پہنچا”۔ میزبان نے ہنستے ہوئے پھر سوال کیا۔ میرا کہنے کا مطلب ہے کہ آپ نے موسیقی کا سفر کیسے طے کیا؟ پٹھانے خان نے پھر اپنی سادگی اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ”او وی اینویں دھکے دھوڑے کھاندے گزردی پئی اے”۔
پٹھانے خان سے کسی نے پوچھا ”موسیقی حلال ہے یا حرام ؟” پٹھانے خان نے ہاتھ جوڑتے ہوئے جواب دیا۔ ”سائیں اے کم تے عالماں دا اے جو ایں سوال دا جواب ڈیون ،میں ہک ان پڑھ جیاں بندہ آں میکوں ایو پتہ اے کہ اے روح دی غذا اے ھن کھاون آلیاں کو پتہ کہ او اپنڑے آپ کو کیا سمجھ تے ایں غذا دا لطف چیندن ”۔ صدیوں سے موجود اس متنازعہ سوال کا اس سے بہترین اور جامع جواب نہیں ہو سکتا ۔
اس درویش کی زندگی کے واقعات میں ما سوائے دُکھ، کرب اور غربت کے کچھ نہیں، ہاں ایک اعزاز ضرور ہے اور وہ یہ کہ اللہ نے پٹھانے خان سے خواجہ فرید کی کافی ”میڈا عشق وی توں ” گوائی اور ایسی گوائی کہ ویسی آج تک کوئی نہ گا سکا ۔ بڑے بڑے استادوں نے یہ کلام پڑھا، نئے دور میں جدید آلات موسیقی کے ساتھ پڑھا مگر پٹھانے خان کی دھول کو بھی نہ پہنچ سکے کیونکہ باقی لوگوں نے خواجہ فرید کی کافی پڑھی اور پٹھانے خان نے اس کی کافی پڑھی جس کے لئے خواجہ فرید نے لکھی۔ یہ کلام کم و بیش ہر خاص وعام نے سن رکھا ہے ۔ آئیے! اس کافی کو پڑھتے ہیں، یقین جانیئے آپ کو لطف آئے گا، لطف اس زبان کا، اس لہجے کا، اس ردھم کا ۔
میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں
میڈا دِین وی توں ایمان وی توں
میڈا جسم وی توں میڈا روح وی توں
میڈا قلب وی توں جند جان وی توں
میڈا کعبہ قبلہ مسجد ممبر مصحف تے قرآن وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں، صوم صلو اذان وی توں
میڈا ذکر وی توں میڈا فکر وی توں
میڈا ذوق وی توں وجدان وی توں
میڈا سانول مٹھڑا شام سلونڑا من موہن جانان وی توں
میڈا مرشد ہادی پیر طریقت شیخ حقائق دان وی توں
میڈی آس امید تے کھٹیا وٹیا تکیہ مانڑ تے ترانڑ وی توں
میڈا دھرم وی توں، میڈا بھرم وی توں
میڈی شرم وی توں ،مینڈی شان وی توں
میڈا ڈکھ سکھ روونڑ کھلنڑ وی توں
میڈا درد وی توں ،درمان وی توں
میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں
میڈے سولاں دا سامان وی توں
میڈا حسن تے بھاگ سہاگ وی توں
میڈا بخت تے نام و نشان وی توں
میڈا ڈیکھنڑ بھالنڑ جاچنڑ جوچنڑ،
سمجھنڑ جانڑ سنجانڑ وی توں
میڈے تھدڑے ساہ تے مونجھ منجھاری ہنجنڑوں دے طوفان وی توں
میڈے تلک تلوے سیندھاں مانگھاں ناز نہورے تان وی توں
میڈی مہندی کجل مساگ وی توں
میڈی سرخی بیڑا پان وی توں
میڈی وحشت جوش جنون وی توں
میڈا گِریہ آہ و فغان وی توں
میڈا شعر عروض قوالی وی توں
مینڈا بحر وی توں، اوذان وی توں
میڈا اول آخر اندر باہر، ظاہر تے پنہاں وی توں
میڈا فردا تے دیرزوی وی توں
الیوم وی توں، الان وی توں
میڈا بادل برکھا، کھمڑیاں گاجاں بارش تے باران وی توں
میڈا ملک ملیر تے مارو تھلڑا روہی چولستان وی توں
جے یار فرید قبول کرے سرکار وی توں
سلطان وی توں
نہ تاں کہترا کمترا حقر ادنی، لاشئے لا امکان وی توں”۔
پٹھانے خان کو 1979ء میں صدر پاکستان نے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا۔ 9 مارچ 2000ء بروز جمعرات کو یہ درویش منش گلوکار اپنے آبائی شہر کوٹ ادو میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گیا۔ انہیں کوٹ ادو میں واقع آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

جواب دیں

Back to top button

For copy this text contact us :thalochinews@gmail.com