تھل "ڈاکڑ مہر عبدالحق"

تھل کے جغرافیائی کوائف

مصنف:ڈاکڑ مہر عبدالحق

پاکستان کا نقشہ پھیلا کر سامنے رکھیے – ۱7 اور ۷۲ درجے طول بلد اور ۳۰ سے ۳۲.۵ درجے عرض بلد کے درمیان ، ساڑھے سولہ ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ایک ایسا علاقہ نظر آئے گا جس کے ایک طرف تین دریا جہلم ، چناب ، راوی اور دوسری طرف دریائے سندھ بہتا دکھائی دے گا ۔ اس علاقے کو تھل کہتے ہیں ۔ کسی زمانے میں اس کا نام دوآبہ سندھ ساگر بھی تھا لیکن ابتدا یہ نام اس خطے کو دیا گیا تھا جو دریائے جہلم کے دائیں کنارے سے کوہستان اور پنڈ دادن خان سے کالا باغ تک پھیلا ہوا تھا ۔ شمال کی طرف اس کے احاطے میں پوٹھوار تھا جو ہزارہ اور مری کی پہاڑیوں تک چلا جاتا ہے ۔ چونکہ یہ علاقہ دو دریاؤں ، جہلم اور سندھ ، کے درمیان واقع تھا اس لئے بجا طور اسے دوآبہ کا نام دیا گیا – خوشاب کو کندیاں سے ملانے والی ریلوے لائن اس اصلی دوآبہ سندھ ساگر کو تھل سے علیحدہ رکھتی تھی ، لیکن اب تھل کو بھی یہی نام دیا جاتا ہے ۔ مذکر وہ ریلوے لائن کو تھل کی شمالی سرحد قرار دیا جائے تو تھل کے آخری کونے تک کی لمبائی تقریباً 190 میل بنتی ہے ۔ اسی طرح اسکی زیادہ سے زیادہ چوڑائی . میل ہے ۔ تھل کی شکل بے قاعدہ مثلث کی سی ہے ۔ جہلم چناب اور راوی باہم مل کر ایک خط مستقیم کی صورت میں اسکی مشرقی سرحد بناتے ہیں اور دریائے سندھ میں جو اس کی مغربی سرحد ہے ، جنوبی کونے سے تقریباً پچاس میل دور جانتے ہیں ۔ اس طرح تھل کی یہ قدرتی حد بندی اسے علیحدہ شناخت عطا کرتی ہے ۔ اس خطے کا کچھ حصہ ضلع جھنگ ، کچھ خوشاب ، کچھ ضلع میانوالی اور کچھ ضلع مظفر گڑھ میں اور باقی اضلاع بھکر اور لیہ میں شامل ہیں ۔
سندھ کرایا تھاکےآج سے ۲۳۰۰ سال پہلے پامیر کی پہاڑیوں سے لیکر گوادر تک پھیلی ہوئی وادی یہ مرکزی جغرافیائی خطہ تاریخ عالم کو انمٹ نقوش مہیا کرتا رہا ہے ۔ لیکن آج کے تاریخی واقعات کو یکجا کرنے کیلئے بھی ہمیں چھ مختلف اضلاع کے اس ریکارڈ کو اس کھنگالنا پڑ رہا ہے جو انگریزوں نے رعایا کی نفسیات کو سمجھنے کیلئے مقامی ذرائع سے مرتب ۔ اس ریکارڈ کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ سینہ بہ سمینہ چلنے والی روایات بھی باقی نہیں رہیں ، بلکہ مختلف بستیوں کے ناموں کے ساتھ جو تاریخی نیم تاریخی یا دیو مالائی قصے وابستہ تھے وہ بھی عوامی یاد داشتوں سے مٹ چکے ہیں ۔ مثال کے طور پر مظفر گڑھ سے سات میل دور مغرب کی طرف تھل کے بڑے بڑے ٹیلوں کے درمیان بدھ نام کا ایک گاؤں اور ایک قوم آباد ہے جس کا براہ راست تعلق یقینی طور پر مہاتما بدھ اور اس کے قدیمی مذہب بدھ سے ہے لیہ کے تھل میں دو مواضعات کفل کے نام سے موسوم ہیں جو راجہ اشوک کا بیٹا تھا اور بدھ مت کا پیروکار تھا آریاؤں کو ہماری وادی سندھ کے لوگوں سے جو شدید نفرت تھی اس کے بے شمار ثبوت انکی اپنی تحریروں اور تاریخی کتابوں سے ملے ہیں ۔ اس نفرت کے اظہار کا ایک لفظ ” پہل ” ہے ۔ اس لفظ کی بازگشت ہمیں مہا بھارت اور بدھیانہ کے دھرما سوترا میں بھی سنائی دیتی ہے ۔ نفرت سے بھرا ہوا یہ لفظ کٹر اور متعصب برہمنوں نے ان لوگوں اور علاقوں کیلئے استعمال کیا جو ان کے عقائد اور رسم و رواج کے مخالف تھے اور باختری طور طریقے پسند کرتے تھے ۔ اب دیکھئے بھکر کے جنوب میں ” پہل ” نام کا قصبہ اب بھی موجود ہے جو اس تاریخی واقعہ کو یاد دلا رہا ہے۔ سکسیر نام کے صحت افزا مقام سے کون واقف نہیں ۔ اصل میں یہ لفظ ساکا سر ہے جس کے معنے ہیں ” ساکا قوم کا تالاب مائیتھین اقوام کو سا تھا ، زط ، جت ، جٹ وغیرہ کے علاوہ ساکا بھی کہا گیا ہے ۔ مہاتما بدھ کو ساکیہ منی یعنی ” جٹ قوم کا بزرگ ” کہا گیا ہے ۔ وادی سندھ کے دریاؤں کوصدیوں تک مور قوم کا تسلط رہا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق ملتان کا اصل نام مورستان ہے جو لسانی اصولوں کے مطابق درست معلوم ہوتا ہے ۔ ” مور ” دنیا کے اولین جہازران اور کشتی ساز سائیتھین لوگ تھے ۔ انہوں نے دریاؤں کے ساتھ ساتھ ہر جگہ مچھلی منڈیاں قائم کر رکھی تھیں مچھلی کو قدیم زبان میں ” مین ” کہتے ہیں ۔ می کے معنے ماہیگیر کے ہیں اور میانی مچھلی منڈی ہے ۔ جس کسی مقام یا قوم کے نام ساتھ می یا میاں یا میانی کا جز آئے تو بلاتا مل پہچان جائیے کہ اس مقام یا قوم کا تعلق اسی عظیم جہازران قوم مور اسے ہے ۔ مور جھنگی ، سورہ، میانی ، میانی ، کشمور اور مورد وغیرہ سب اسی فراموش کرده تاریخ قدیم کی کڑیاں ہیں ۔ پیپل کے درخت کے نیچے ہی مہاتما بدھ کو گیان حاصل ہوا تھا اس لئے پیپل کے ساتھ بدھ مت کے پیروکاروں کا عقیدت واضح ہے ۔ پہلاں کا شہر جسے پہلاں ونی اور پہلاں والی کہا جاتا تھا اسی درخت کی کثرت کی وجہ سے موسوم ہوا ہے ۔ کوہ سلیمان کے دامن میں ایک اور آبادی کا نام ہانبھی ہے ۔ سکندر مقدونی کی یلغاروں کے خلاف جس راجے نے جرات کر کے علم بغاوت بلند کیا تھا اس کا نام سامسجو تھا اور وہ اسی علاقے کا حکمران تھا ۔ یونانی تلفظ میں ہر اسم ” اس ” پر ختم ہوتا ہے جیسے پورس ، انڈس وغیرہ ۔ لہذا یونانی مورخین نے سامبھو کو ” سابس ” لکھا ہے ۔ لسانی اصولوں کے تحت س آوازہ کی آواز سے بدل جاتی ہے ۔ چنانچہ سامبھو کا لفظ ہانجو بن گیا اور راجے کی اولاد با سمبھی کہلائی سکندر مقدونی نے اپنے زخمی اور عسکری خدمات سرانجام نہ دے سکنے والے معزور فوجیوں کے لئے پو ٹھو ہار میں جابجا بستیاں آباد کیں تو پورے علاقے کا نام اونسکاری پڑ گیا ۔ ایونا (IONA ( ایک صوبے کا نام ہے جس سے خود یونان کا لفظ وجود میں آیا ہے ۔ اسی قبیل کے اور بہت سے لفظ ہیں جنکی تہ میں تاریخ اور جغرافیے کے بڑے بڑے حقائق پوشیدہ ہیں ۔ یہ حقائق صرف اسی صورت میں سامنے آسکتے ہیں کہ تاریخ جغرافیے اور آثار قدیمہ کے علم کو لسانیات سے مربوط کر کے دیکھا جائے ۔ مواضعات ، قصبات اور شہروں کے نام زیادہ تر جغرافیائی ماحول کے مطابق رکھے جاتے تھے ۔ مقامی زبان میں مختلف پودوں یا درختوں یا ندی نالوں یا جنگلوں یا ٹیلوں کی مناسبت سے مقامات کے نام رکھے گئے ہیں ۔ مثلاً جہاں سرکانے یا کاتھ کے جنگل ہوں اسے جھر کہتے ہیں ۔ کینجھ کا شہر اصل میں کانے جھر تھا ۔ جہاں لئی ( دریائی فراش ) کا پودا بکثرت پایا جائے اسے بیلہ کہتے ہیں ۔ مکھن بیلیہ ، خان بیلہ وغیرہ میں یہ لفظ موجود ہے ۔ جہاں جال ( پیلو کے درخت ) زیادہ ہوں اسے جھنگ ، جھنگی ، جھنگڑ وغیرہ کہتے ہیں ۔ مور جھنگی ، جھنگڑ ماڑھا اور مشہور شہر جھنگ بلکہ خود جنگل کا لفظ جو جھنگ کا اسم مکبر ہے اپنے ماخذ کا پتہ دے رہا ہے ۔ گہرے پانی کی تیز رفتار ندی کو گنگ یا گڑنگ کہتے ہیں ۔ تلہ گنگ میں گنگ ندی کے معنوں میں ہے اور تلہ ” تل ” سے ہے جس کے معنی طاس یا دریائی گزرگاہ کے ہیں ۔ سنگھر، کا لفظ سنگ اور ہر ۲ ۔ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں طوفانی پہاڑی ندی ۔ اسی طرح پاک پتن ، پتن مناره ، آدم وامین ، خانواه ، سرواہی بیله ، واژه سیڑھاں وغیرہ ندی نالوں کی یاد دلاتے ہیں ۔
مستقل اقامت گاہ کیلئے دیرہ ، عارضی کیمپ کے لئے کہڑی ، دریا کے کنارے پر آبادی کیلئے جھوک ، دریا کے پار پہلی آباد منزل کیلئے تڑ ، قریب قریب آبادیوں کیلئے وسیب ، انبوہ کثیر کیلئے ٹھٹھہ ، گائے بیل کی تجارت گاہ کیلئے ترنڈہ ، شہر پناہ کیلئے کوٹ ، کوٹلہ ، کوٹلی ، مینار کے لئے کھل ، سیلابی اراضی کے لئے بیٹ ، اور خانہ بدوش لوگوں کی نیم مستقل آبادی کیلئے جوہ کا لفظ ہے ۔ ان الفاظ کی مدد سے ، کئی شہروں کے ابتدائی حالات معلوم ہو سکتے ہیں ۔ یہ آخری لفظ ( جوه ) بڑا دلچسپ ہے ۔ حضرت خواجہ فرید کا ایک مصرع ہے : جوہ پڑ جوہ پڑھبکن مٹیاں ۔ جو ہ یہاں شتربانوں کی عارضی قیام گاہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ پڑ کے معنے ہیں دائرہ ، حلقہ ، منزل وغیرہ ، جوہ پڑ سر کنڈے وغیرہ سے بنائی ہوئی عارضی قیام گاہ ہو گئی – ہ کی آواز منتقل ہو کر جیم سے مل گئی تو لفظ جھپڑی ( جھونپڑی ) وجود میں آگیا ۔ گھپ اور گپ اندھیرے اور چھپ جانے کو کہتے ہیں اس حوالے سے گپڑی اور گبڑی کے معنے بھی سمجھ میں آسکتے ہیں ۔
یہ الفاظ جو ہم نے اوپر بیان کئے ہیں دریائی ماحول سے متعلق ہیں جسے کچا یا جھک بھی کہتے ہیں ۔ اس کے بر عکس ماحول کا نام پکا یا اتاڑ ہے ۔ ایسی زمین جو دریائی طغیانی کی زد سے محفوظ ہو اوکاڑ کہلاتی ہے ۔ وہ ہستی جو ذرا دور ایک طرف ہٹ کر واقع ہو وائنڈھا ” واں ” کہلاتی ہے قصبہ نما پکی آبادی کو بکھری یا بکھر کہتے ہیں ۔ تھوڑی تھوڑی ریت والی پکی زمین کو جو شجر کاری اور کاشت کیلئے موزوں ہو ڈگر اور ڈگری کہلاتی ہے ۔ ریت کے ٹیلے کو شبہ — آڑہ – – – آڑی کہتے ہیں ۔ دریا کسی مقام سے ہٹ جائے تو اپنے مجھے ریت چھوڑ جاتا ہے ۔ جو ناقابل کاشت ہوتی ہے ۔ ایسی جگہ کو بھونگ یا بھنگ کہتے ہیں ۔ درہ ، ٹھیڑھ اور ٹھیڑھی ویران شدہ آبادی کے آثار کو کہتے ہیں ۔ اسی طرح مترو کہ کنوئیں ڈکھ کہلاتے ہیں ۔ دمر ، رپڑ ناقابل کاشت اراضی ہے ۔ ان جغرافیائی اصطلاحات کی روشنی میں بھی بہت سی آبادیوں کے ابتدائی حالات معلوم ہو سکتے ہیں ۔ تھل میں کوئی بہت بڑا دریا تھا یا سمندر تھا یا کئی دریا مل کر بہتے تھے اس کے بارے میں لسانی شواہد بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں ، مستند حوالوں سے یہ بات پائیہ ثبوت تک پہنچتی ہے کہ لیہ اور اس کے نواح میں ایسے گھنے جنگل تھے جن میں بکثرت شیر اور چیتے پائے جاتے تھے ۔ شیر کو مقامی زبان میں شینہ او چیتے کو واگ کہتے ہیں ۔ شینہہ والا موضع ، شینہ مار بن اور ڈگر سہواگ کا موضع ان جنگلی جانوروں کے دندناتے پھرنے کی شہادت پیش کرتا ہے ۔ سہنواگ شینہ اور واگ دونوں کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے یہ موضع تھل میں ہے ۔ ظاہر ہے کہ شیر اور جیتے ریگستانوں کے نہیں گھنے جنگلوں کے جانور ہیں اور گھنے جنگل وہیں ہو سکتے ہیں جہاں پانی کی فراوانی ہو اور دلدلیں ہوں ۔ پس ڈگر سہواگ کے قریب یقینا کوئی بہت بڑا دریا تھا پھر یہ ڈگر لمبی پٹی کی صورت میں اس مقام سے آرہا ہے جہاں سے تھل شروع ہوتا ہے ۔ اسکی گہرائی میں ایسی مٹی کی تہیں ہیں
جو دریا اپنے ساتھ بہا لاتے ہیں ۔
تھل کے اونچے اونچے ٹیلوں میں گھرے ہوئے ایک اور مقام کا نام واندر ہے ۔ یہاں پچھلی نصف صدی تک سیرابی کے کوئی نشان موجود نہیں تھے ۔ تاہم واندریا واندھڑ کا لفظ بتاتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہ علاقہ مزروعہ تھا اور اس کے قریب کوئی دریا بہتا تھا
اس نظرئیے کو تقویت دینے والا لفظ منکیرہ ہے جو تھل کے عین وسط میں ایک تاریخی قصبے کا نام ہے ۔ من دریا کے عمودی کنارے کو کہتے ہیں ۔ جو کنارے سطح آب سے زیادہ بلند نہ ہو اسے من نہیں کہتے ، کندھی کہتے ہیں ۔ جو دیوار یا چھت مسلسل اورمتواتر تھوڑی تھوڑی گرتی رہے اس کے لئے کہتے ہیں کہ اسے کیرا بھورا لگ گیا ہے ۔ کرن اور بھرن ہم معنی مصدر ہیں اور ان کے معنے ہیں کسی چیز کے اجزا کا آہستہ آہستہ ٹوٹنے اور گرتے رہنا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ منکیرہ کسی دریا کے کنارے پر واقع تھا جسکی” من ” بھر بھری ہونے کی وجہ سے اور پانی کے اثرات سے متواتر گرتی رہتی تھی ۔ آخری دلیل اس نظرئیے کی تائید میں یہ ہے کہ تھل کے طول وعرض میں ہر جگہ ریت میں ملے ہوئے گھونگھے ملتے ہیں ۔ گھونگھے دریائی چیز ہے ریگستانی نہیں ہے ۔ لہذا گھونگھوں کی بکثرت موجودگی سے بھی کسی دریا یا سمندر کا ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ یہ دریا یا سمندر کہاں سے کہاں تک تھا ، کب تھا اور کیسے معدوم ہو گیا اس کا ابھی تک کسی کو کوئی علم نہیں ہے ۔ البتہ علم الارض کے ماہرین نے جو ایک دو نظریات مرتب کر رکھے ہیں کہ یہ تھل کیسے وجود میں آگیا ان کی تفصیل یہ ہے :- ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ” تحصل ” ارضی تغیرات کی قدیم ترین صورت ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے صحرائے بیکانیر کے بالکل مشابہ ہے ۔ کسی زمانے میں یقیناً یہ اس صحرا کا حصہ ہو گا ۔ اور یہ دونوں سمندر میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ۔ لڑھکتی ہوئی ریت ( ریگ رواں ) کے ٹیلوں کا رخ یکساں طور پر ایک ہی سمت کو ہے تاہم اس وقت زیر زمین پانی کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ یہاں کنوئیں نہیں کھودے جا سکتے ۔
ریت کے یہ جو اونچے اونچے ٹیلے ہیں یہ آندھیوں کے عمل سے وجود میں آئے ہیں – زیادہ تر امکان اس بات کا ہے کہ تشکیل ارض کے تیسرے دور میں جب وادی سندھ کا زیرین حصہ اور ان کچھ ، کے علاقے سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے تو اس کے بعد کے زمانے میں ساحل پر بہت سی ریت جمع ہو چکی تھی ۔ اس کے علاوہ ریت کا صحرائی خطے میں جمع ہو جانا اس وجہ سے بھی ہے کہ یہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں اور بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ندی نالے نہیں بہتے جو ریت کو مٹی سے آمیز کر دیں یا اسے بہا کر لے جائیں ۔ تھوڑی سی بارش ہوتی ہے اسے مسامدار زمین پی جاتی ہے ریت کی جزوی تقسیم کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہواؤں کے بے قاعدہ اور غیر مستقل عمل کا نتیجہ ہے ۔- دنیا بھر کے دریا گردش ارضی کی وجہ سے شمالی نصف کرہ میں مغرب کی طرف اور جنوبی نصف کرہ میں مشرق کی طرف کناروں کی آہستہ آہستہ توڑ پھوڑ کرتےہوئے بڑھ رہے ہیں ۔ یہ نظرئیے مفروضات سے آگے نہیں بڑھ سکتے جبتک علم الارض اور علم الآآثار کے ماہرین پوری توجہ سے تھل کا چپہ چپہ نہ چھان ماریں ۔ عام جغرافیائی حالات تھل کے اس طرح ہیں کہ میانوالی تحصیل کا ایک حصہ کھدری کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ سخت کھردی زمین چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر مشتمل ہے جس میں بہت سے بارانی نالے بہتے ہیں ۔ خشک نیازی اور کھدری کے درمیان ایک وادی ہے جو پہاڑیوں سے گھری ہوئی ہے ۔ اس وادی کے جنوب میں ریتلی زمین شروع ہو جاتی ہے جو بتدریج ٹیلوں کی شکل اختیار کرتی جاتی ہے ۔ یہ ریتلی زمین مشرق میں خوشاب کے تھل کے ساتھ اور جنوب میں بھکر کے تھل کے ساتھ مل جاتی ہے اس ریتلی بیٹی کو ہم تھل کی مثلث کا بنیادی خط قرار دے سکتے ہیں ۔ خوشاب کو کندیاں سے ملانے والی ریلوے لائن اسی ریتلی پٹی میں سے گزرتی ہے لہذا ہم نے اسی کو تحمل کی مثلث کا قاعدہ کہا ہے ۔
تھل اپنے آپ دو قدرتی حصوں میں منقسم ہے ۔ ایک کو تھل کلاں یا اتلا تھل کہتے ہیں دوسرا ڈگر یا تھل جنڈی کہلاتا ہے ۔ جنڈی اس لئے کہ یہاں جنڈی کریر اور کیکر کے درخت بکثرت ہیں ۔ ڈگر اور ڈگر ایسی زمین کو کہتے ہیں جس میں ریت کے بڑے ٹیلے نہ ہوں اور یہ سخت ہونے کے باوجود قابل کاشت ہو ۔ ڈگری کی معیشت کا انحصار زیادہ تر چای آبپاشی پر ہوتا ہے ۔ چونکہ یہاں بارش کم ہوتی ہے اس لئے زرعی درخت بھی کم ہیں ۔ ڈگر کے مشرق میں ہر طرف ریت ہی ریت ہے ۔ کہیں کہیں صحرائی پودوں کی چرا گا میں دکھائی دے جاتی ہے ۔ بارش ہو گئی تو یہ ہری بھری ہو جاتی ہیں نہ ہوئی تو سوکھ جاتی ہیں ۔ یہ حصہ تھل صحیح معنوں میں صحرا ہے یعنی ایسا بے آب و گیاہ خطہ جہاں چرند پرند اور سبزے کا دور دور تک نشان نہیں ملتا ۔ اگر زندگی کے کوئی مظاہر ہیں بھی تو وہ بے یقینی اور بیم درجا کی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں ۔ ریت کے بڑے بڑے اور اونچے ٹیلوں کا رخ شمال مشرق سے جنوب مغرب کی طرف ہے تھل کے دائیں بائیں جو دریا بہتے ہیں ان کی سمت بھی یہی ہے اور شاید ہواؤں کا بھی یہی رخ ہے ۔ ایسا کیوں ہے ، اس کا جواب ماہر ارضیات ہی دے سکے گا ۔ ٹیلوں کے درمیان پتھریلی تو نہیں لیکن پتھر کی طرح سخت زمین کے اوپر ریت کی ہلکی سی نہ بچھی رہتی ہے ۔ ڈگر اور تھل کلاں کے درمیان ٹیلوں کی بلندی کم ہوتی چلی جاتی ہے اور ان کی بناوٹ بھی کسی قدر بے قاعدہ ہو جاتی ہے ۔ مغرب کی طرف ٹیلے اور بھی چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ ان کے درمیان سخت لیکن ہموار زمین کی ایک پٹی دکھائی دیگی جس کا رخ دریا کے متوازی ہے ۔ پٹی ختم ہوتی ہے تو ” ہواہا ” شروع ہو جاتا ہے ۔ مقامی زبان میں آبادی کے ارد گرد کی زمین کو پواہا کہتے ہیں ۔ کندیاں کے قریب دریائے سندھ کا کنارا عام طور پر بیس فٹ اونچا ہے ۔ یہاں سے جنوب کی طرف بڑھتے چلے جائیں تو یہ اونچائی پانچ میلوں میں ایک فٹ کے حساب سے گھٹتی جاتی ہے ۔ لیہ کے قریب چار پانچ فٹ رہ جاتی ہے اور کوٹ سلطان پہنچ کر تو یہ عام سطح کے برابر ہو جاتی ہے ۔ اس ڈھلوان اور منبع کی بلندی سے پانی کی تیز رفتاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے

قدرتی نباتات


بے آب ریگستان کے پودے بھی سخت جان ہیں ۔ ہم نے پھوگ کی ایک جھاڑی کی جڑ کو پانی کی تلاش میں دو اڑھائی فرلانگ دور تک چلے جاتا دیکھا ہے ۔ قدرت نے تھل میں ایسے پودے بکھیر دیتے ہیں جو ہوا کی نمی چوس کر زندہ رہتے ہیں ۔ وسطی تھل میں ” جال ” کا درخت بکثرت پایا جاتا ہے اس کے پتے او نیٹ کی مرغوب غذا ہیں ۔ یہ پھلدار درخت ہے ۔ اس کا پھل جسے پیلو کہتے ہیں کالے چنے کے برابر ہوتا ہے ۔ یہ بڑا خوش رنگ اور خوش ذائقہ ہوتا ہے تھل کے باشندوں کی خوراک کا بڑا حصہ یہی پیلو ہے جال کے جھنڈ کو جھنگ کہتے ہیں ۔ ان جھنگیوں پر مختلف قبائل کا قبضہ تھا ۔ مثلاً مور جھنگی ایسی جھنگی تھی جس پر مور قوم کا قبضہ تھا ۔ جھنگڑ ماہڑہ میں ماہرہ قبیلہ آباد تھا ۔ جھنگ سیال سیالوں کے تصرف میں تھا ۔ علیٰ ہذا القیاس ۔ تھل کے درختوں کی عمر خاصی جال کا ریشہ دار تنا عام درختوں کی طرح سیدھا نہیں ہوتا اور اس کی طویل ہوتی ہے۔لکڑی بھی کچھ زیادہ مضبوط نہیں ہوتی پھر بھی یہ خاصا قد آور ہو جاتا ہے جال کے بعد دوسرے نمبر پر کریر کا درخت ہے اسے کری اور کرینہ کہتے ہیں ۔ یہ جھاڑی دار درخت ہے ۔ اسکی شاخیں پتلی لیکن مضبوط ہوتی ہیں ۔ چھت پر ڈالنے کی کڑیاں اور دنگے چھاچھ بلونے کے جھگڑیں اور کنوؤں کی آرٹریاں اسی کی لکڑی سے بنتی ہیں اس کے پھولوں کا سالن پکایا جاتا ہے اس کے کچے پھلوں کا اچار ڈالتے ہیں ۔ یہ کھٹے ہوتے ہیں لیکن پک جانے پر خوشنما سرخ رنگ اور خوش ذائقہ ہو جاتے ہیں ۔ انہیں ڈیکھے کہتےہیں ۔ درخت کے پتے بھیڑ بکریاں بڑے شوق سے کھاتی ہیں ۔ پکچے پھل کو سکھا کر بھی کھایا جاتا ہے ۔ تھل کے پھلدار درختوں میں تیسرے نمبر پر بیریا بیری کا نام آتا ہے ۔ یہ درخت پانی کے قریب زیادہ پھلتا پھولتا ہے ۔ چاہات پر اسے کاشت بھی کرتے ہیں کیونکہ اسکی لکڑی مضبوط اور سخت ہونے کے باعث کاشتکاروں کے بہت کام آتی ہے ۔ اسکی شاخیں خاردار ہوتی ہیں ۔ پھل میٹھا اور خوش ذائقہ ہوتا ہے پھل کو بیر کہتے ہیں ۔ کچھ بیر کھٹے بھی ہوتے ہیں جو بھیڑ بکری کا چارہ بنتے ہیں ۔نڈ اور کھنگل تھل کے غیر نمردار درخت ہیں لیکن بہت اہم ہیں کیونکہ ان کیکر ، جنڈ اورکی لکڑی سے ضرورت کی اکثر چیزیں تیار ہوتی ہیں ۔ مایلی ( شمیشیم ) شہر ینہہ ( سرس ) نیم اور پیپل تھل کے قدرتی درخت نہیں ہیں لیکن پانی میسر ہو تو ریتلی زمین انہیں بہت راس آتی ہے ۔ درخت بس یہی ہیں ۔ باقی جھاڑیاں پودے اور جڑی بوٹیاں ہیں ۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ جو جھاڑی یا پودا کسی خاص مکڑے میں ہے وہ وہاں میلوں تک پھیلا ہوا ملتا ہے ۔ بعض اہم پودوں کے نام یہ
ہیں
۱ – سرکاناں ۔ قدرت کا نہایت بیش بہا عطیہ ہے ۔ پانی کے قریب میں خوب پھلتا پھولتا ہے جھونپڑی ہو ، چھری ہو ، ساتھ ہو مکان ہو ، کوٹھا ہو ، گھریلو سامان ، جانوروں کے بھانڑیں ہوں ، بھوسہ وغیرہ ذخیرہ کرنے کے پہلے ہوں یا بچوں کا پڑھنا لکھنا یا کھیلنا ہو کر اور ا ہو کر اور کاناں اور مونج ہر ضرورت کیلئے موجود ہے چار ہزار سال پہلے تو دریائے سندھ کی مور قوم نے اس سے کشتیاں بنا کر شام اور مصر تک یہاں کی تجارت کو
پھیلا دیا تھا ۔
۲ – کمپ – یہ بہت قیمتی ہوتی ہے ۔ زیریں تھل میں ملتی ہے ۔ اسکی شاخوں سے ٹوکریاں بنتی ہیں ۔ چونکہ اس کا چھلکا ریشے دار ہوتا ہے اور یہ ریشہ سفید اور مضبوط ہوتا ہے اس لئے اسکی باریک رسیاں بٹی جاتی ہیں ۔ اس کے تنے ایندھن کے کام آتے
ہیں اور جھونپڑیوں وغیرہ کی چھتوں پر ڈالے جاتے ہیں ۔

ہوئی ۔ یہ پودا کہیں کم کہیں زیادہ ، تھل میں ہر جگہ موجود ہے ۔ کمہار کی آدی اور انیٹیں پکانے کی بٹھی اس فراوانی سے دستیاب ہونے والے ایندھن کے بغیر نہیں پک سکتی ۔
– پھوگ ۔ گھر کے چولھے چا پتھاری اور تنور کو گرم رکھنے کیلئے پھوگ کا پودا
سارا سال کام آتا ہے ۔ لانڑاں ، لانڑیں ، پھسک لانڑیں ۔ اونٹ کا من بھاتا کھا جا ہے ۔ لانڑیں کو خاص طریقے سے جلا کر اسکی کھار بناتے ہیں جو کپڑے دھونے کے کام آتی ہے ۔ – برڑہ ، جواہنہ ، پھلاہی ، بکھڑ چھوٹے چھوٹے پودے ہیں جو ایندھن کے طورپر بھی استعمال ہوتے ہیں اور ان کو چھتوں پر بھی ڈالا جاتا ہے جھینبرگھا ، سمین اور پھٹ سمین قدرتی گھاس ہیں جو مویشیوں کا چارہ بنتے ہیں خس ایک خوشبودار پودا ہے ۔ – مویشی کھائے تو اس کے دودھ سے بھی
-خوشبو آتی ہے ۔ اسے کھاوی کہتے ہیں ۹ – اک – زہریلے دودھ والا پودا ہے ۔ اسکی شاخوں سے حقے کی نے بناتے ہیں ۔ – حرمل ۔ اس کے بیج کی دھونی دینے سے گھر کے کیڑے پتنگے مر جاتے ہیں ۔

تھل کے جانور اور پرندے


تھل کا سب سے زیادہ کارآمد جانور اونٹ ہے ۔ اسے صحراؤں کا جہاز کہا گیا ہے سفر حضر میں انسان کا ساتھی ، خاردار جھاڑیوں اور جنگلی پودوں اور جڑی بوٹیوں پر گزارہ کرنے والا یہ جانور بغیر پانی پیئے کوسوں کا سفر تیز رفتاری سے لے کر جاتا ہے ۔ اس صفت میں دنیا کا اور کوئی جانور اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ دس من کا وزن اٹھا کر دور
در از تک بلا تکان چلا جاتا ہے .بچوں تک سے مانوس ہو جانے کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں بلا خوف و خطر اس طاقتور اور طویل القامت جانور کے گلے چراتے رہتے ہیں ۔ اس کا چمڑا ، اس کی پشم ، اسکی چربی ، اسکی ہڈیاں ، اس کا گوشت اور اس کا دودھ وغیرہ تمام چیزیں ایسی ہیں جن پر تھل کی پوری معیشت کا دارو مدار ہے ۔ بار برداری کے علاوہ اس سے کنواں اور ہل چلانے کا کام بھی لیا جاتا ہے ۔ چونکہ زیر زمین پانی بہت گہرائی پر ہے اس لئے اونٹوں کے سوا اور کوئی جانور کنواں نہیں چلا سکتا ۔
آپ نے ڈاچی کا یہ گیت تو سنا ہو گا : –
ڈاچی والیا موڑ مہار دے
تیڈی ڈاچی دے گل وچ ڈھولنا کوڑے سجڑاں دے نال نہیں بولنا
تیڈا نام گھدا پیڑا پار دے

 

ڈاچی والیا موڑ مہار دے
ڈاچی اونٹ کی مادہ ہے ۔ اس تجھیل کے اور نام دیکھئے جو اٹھوالوں نے اپنی متاع
عزیز کیلئے مقرر کر رکھے ہیں : –
توڈا ۔ اونٹ کا نر پچہ
توڑی ۔ اونٹ کا مادہ بچہ
کٹھیلا ۔ ایک سال کی عمر کا اونٹ
مرات – دو سال کی عمر کا
سرحان – تین سال کی عمر کا لہاک – چار سال کی عمر کا
چھتر ۔ چھ سال کی عمر کا
نیش – جوان اونٹ
کھا مجھا ۔ بوڑھا اونٹ
جھروٹ ۔ بوڑھی ڈاچی
پراف ۔ ایک سے چارل سال تک کی ڈاچی
مارها – مارضی ۔ تیز رفتاری سے دوڑنے والا اونٹ یا ڈاچی جس کو قابو میں رکھنے
کے لئے ماہر شتر سوار کی ضروت ہوتی ہے ۔
گھوڑا تھل کا جانور نہیں ہے تاہم مزروعہ علاقوں میں بعض زمیندار اسے شوقیہ پالتے ہیں سواری اور ہلکی پھلکی بار برداری کے لئے لکڑ ہارے ، کمہار اور دھوبی اسے استعمال کرتے ہیں لیکن شہروں اور آبادیوں کے قریب قریب وسطی تھل کے اونچے اونچے ٹیلوں میں چلنا اس کیلئے ممکن نہیں ہے ۔ تھوڑے سفر کے لئے گدھا بڑا مفید جانور ہے ۔ دھوبی ، لکڑ ہارے اور غریب آدمیوں کی سواری ہے اور ان کی ہلکی پھلکی بار برداری کے کام بھی آتا ہے خشک گھاس پر پر پھوس کھا لیتا ہے اور روڑیوں پر چرتا رہتا ہے اس لئے اس کا پالنا مہنگا نہیں پڑتا ۔ عام گدھا دو اڑھائی من وزن بآسانی اٹھا لیتا ہے ۔ سخت جان جانور ہے لیکن کبھی کبھی بہت ضد کرتا ہے اور مالک سے مار کھاتا ہے ۔ اس کی دولتی ، جیسے مینبریں کہتے ہیں بہت سخت ہوتی ہے ۔ مستی میں اگر دولتیاں جمازتا ہے ۔ ویسے بہت جلدی مانوس ہو جاتا ہے ۔ تھل کی معیشت کا دوسرا بڑا ذریعہ بھیڑیں بکریاں پالنا ہے ۔ یہ دونوں جانور ریگستانی جھاڑ جھنکار کھا کر گزارہ کر لیتے ہیں ۔ بکری کا دودھ صحتمند ہوتا ہے ۔ بھیڑ کے دودھ سے مکھن اور گھی تیار کرتے ہیں ۔ ان کے بالوں سے اعلیٰ درجے کی لکار میں ( شمال ( تیار ہوتی ہیں ۔ بھیڑ اور دنبے کے بالوں کو اون کہتے ہیں ۔ ان سے دریاں ، فلاشیں ، ٹوپیاں ، سویٹر وغیرہ تیار ہو سکتے ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ تھل کے ہر کنبے کے پاس کم سے کم نہیں تھیں بھیڑ بکریاں ہوتی تھیں ۔ مگر اب کہیں کہیں اکا دکا بھیڑ چرتی دکھائی دیتی ہے ۔
اسی طرح بکریاں بھی ناپید ہوتی جا رہی ہیں ۔ جنگلوں میں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں اس مال کو ہونا چاہئیے تھا وہاں چار پانچ بکریاں دکھائی دے رہی ہیں بھینس بے آب و گیاہ تھل کی گرمی برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ یہ پانی اور دلدلوں میں پڑے رہنے کو پسند کرتی ہے ۔ البتہ گائے بیل کو اب لایا جا رہا ہے کیونکہ کہیں کہیں بجلی کے پہنچ جانے سے ٹیوب ویلوں کے ذریعے کاشت شروع کر دی گئی ہے ۔ تھل کے پالتو جانور بس یہی کچھ ہیں ۔ صحرائی جانوروں میں ہرن اور خرگوش نصف صدی پہلے بکثرت پائے جاتے تھے ۔ لیکن اب شکاریوں نے انہیں تقریباً ختم ہی کر دیا ہے ۔ بعض لوگ انہیں پالتے بھی ہیں ۔جنگلی جانورں میں بھیڑیا جسے مقامی زبان میں ہر کہتے ہیں تھل میں عام ہے ۔ دوسرے جنگلی جانور یہ ہیں ۔ گیڈر – لومری – نیولا ( نولو ) ڈھوئی ڈنگا -گوہ ۔ سانھاں جاہا – گالھڑ ۔سانپ ۔ بچھو ۔ کوم کرڑی ۔ گلائی وغیرہ بھی بکثرت پائے جاتے ہیں ۔

تھل کے سانپ


کر ونڈیا : اس نسل کے سانپ کا رنگ مٹی جیسا ہوتا ہے ۔ بہت زہریلا ہوتا ہے رتزا – رتوا : اس سانپ کا رنگ سرخ ہوتا ہے جسم پر خوبصورت کو ڑیاں ہوتی ہیں ۔

پرم :- اس کو ۔ پھول پر ” بھی کہتے ہیں ۔ اس کا رنگ سبز ہوتا ہے ۔ اس کے ہیں ۔ اس کا رنگ سبز ہوتا ہے جسم میں بھی کوڑیاں ہوتی ہیں ۔

اگن جھاڑ :  اس کا رنگ سفید اور کالا ہوتا ہے ۔ جسم پر گلہری کی طرح کالی اورسفید لکیر ہوتی ہیں ۔ پھی ۔ سوتڑ : ۔ اس سانپ کا رنگ اوپر سے سیاہ اور نیچے سے سفید ہوتا ہے ۔

سنگ چور – چونسرا : ۔ اس کی رنگت اوپر سے سیاہ اور نیچے سے پہلی ہوتی ہے ۔ پھیر لکڑ : سانپ کی یہ نسل ” دور گا ” بھی کہلاتی ہے ۔ اس کی جلد اوپر سے سیاہ اور نیچے سے خاکستری ہوتا ہے ۔

کھن ۔ دو مونہی : ۔ اس سانپ کا منہ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے اور اس کارنگ بھورا ہوتا ہے ۔

 

جانوروں کی بیماریاں اور ان کے علاج


گائے بھینس میں ” ٹھنڈیاں ” اور ” واہ ” کی بیماری پائی جاتی ہے ۔ ٹھنڈیاں چیچک کے رانوں کو کہتے ہیں اور پیچش کے مرض کو واہ کہا جاتا ہے ۔ علاج کے لئے گندھنگ ، نمک اور سرکہ مساوی مقدار میں اور دھتورا کے بیج ، گڑ ، پانی کیکر کے پتے اور کھتے کو کوٹ کر آمیزہ بنا لیا جاتا ہے ۔ جانوروں کو یہ آمیزہ پلانے سے قبل گھی اور دودھ بھی پلایا جاتا ہے ۔ منہ کھر : جس بیماری میں گائے بھینس کا منہ اور کھر گلنے لگتے ہیں ۔ منہ کے اندر کانٹے سے اگ آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کھانے پینے اور چلنے کا قابل نہیں رہتا ۔ اس کے علاج کے لئے اجوائین ، نمک سفید ، سرسوں کا تیل اور گھی کو ملا کر جانور کو دیا جاتا ہے اور کھروں پر سندور میں تیل ملا کر لگایا جاتا
ہے۔
مست گرلو : ۔ اس بیماری میں جانور کا جسم جگہ جگہ سے سوج جاتا ہے ۔ اس کے علاج کے لئے ایسی اور گڑ کو کوٹ کر اس میں گھی اور دودھ ملا کر جانور کو پلایاجاتا ہے ۔
بخار : – جانور کو بخار ہو جائے تو ایسی حالت میں اسے جنگھ ، منگل گندم کا آنا اور خلک جوائین کو چھان کر آمیزہ تیار کر کے اس کے جسم پر ملا جاتا ہے ۔ اور اس کے کانوں اور دم سے خون نکالا جاتا ہے.

کچھ لگنا : ۔ عام طور پر اگر آنتوں کے اندر خشک چارے کا کوئی حصہ پھنس جائے تو اس کو ” پچھ لگ گیا ” کہتے ہیں ۔ ایسی حالت میں گڑ اور باجرے کے آٹے کی لئی سی بنا کر جانور کو پلائی جاتی ہے ۔ کھ بند -: جانور کے سر کے اوپر کی رگیں پھول جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ کھانے پینے کے قابل نہیں رہتا ۔ اس کے علاج کے لئے اسے مجھیٹھ ہلدی اور گڑملا کر دیا جاتا ہے ۔
خارش : – جانور کے جسم میں خارش کے علاج کے لئے اسے چارے میں گندھک
کا سفوف ملا کر دیا جاتا ہے ۔

اونٹوں کی بیماریاں


پچھلی ۔ اس بیماری میں اونٹ کا پیشاب گہرے رنگ کا ہو جاتا ہے جسم سے بدبو آتی ہے ۔ اس کے علاج کے لئے پسی ہوئی سرخ مرچیں گڑ بکرے کا تازہ خون ، بادام ، گڑ ، کالی مرچیں اور شہد ملا کر دیا جاتا ہے ۔

جوڑوں کا درد : ۔ اس کے علاج کے لئے اگر کسی دوسرے اونٹ کے پیشاب میں چار دن تک جوائین بھگو کر رکھی جائے تو یہ مرض خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ ہی : ۔ اس بیماری میں اونٹ کی گردن پر سوجن آجاتی ہے ۔ ایسی حالت میں مکو اور املتاس کو پانی میں ابال کر متاثرہ حصے پر لگایا جاتا ہے ۔
کپالی : ۔ اس بیماری میں کانوں پر سوجن کے علاوہ ناک سے مواد خارج ہوتا رہتا ہے ۔ اس کے علاج کے لئے کانوں کو ٹکور کرنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے ۔

گھوڑوں کی بیماریاں


کیمک : ۔ یہ ایک طرح کا بخار ہوتا ہے جس کے علاج کے لئے مجیٹھ ہلدی اور گڑکا مرکب تیار کر کے گھوڑے کو دیا جاتا ہے ۔
کھبک یا پیا : – گلے میں خرابی یا سانس وغیرہ رک جانے کی حالت میں گھوڑے کو جوار کا آنا پانی میں گھول کر پلایا جاتا ہے ۔
زہر باد : ۔ اس بیماری میں انسان کا بیشاب اجوائین ، سرکہ اور سرخ پسی ہو مرچیں ابال کر گھوڑے کو پلائی جاتی ہیں ۔ اس حالت میں اسے دودھ بھی پلایاجاتا ہے ۔

کنار : ناک سے پانی یا مواد کے خارج ہونے کی صورت میں جانور کو کالی مرچیں ، پیاز ، لہسن اور گڑ ملا کر کھلایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گھوڑے کے باک میں نیلے پیلے رنگ کے کپڑوں کے چیتھروں کا دھواں بھی دیا جاتا ہے ۔

 

پرندے


تھل میں پرندوں کی کمی نہیں ہے ۔ بعض پرندے یہیں کے مقامی ہیں بعض خاص موسموں میں باہر سے آتے ہیں اور بعض مزروعہ رقبوں اور دائیں بائیں دریاؤں کے بیٹوں کے قرب جوار سے آجاتے ہیں ۔

تیتر

ماہرین طیور نے اسکی پانچ قسمیں بتائی ہیں ۔ کالا یا مشکی تیتر – منقش تیتر – عام پہاڑی تیتر – چٹا تیتر اور سرخی مائل مٹیالے رنگ کا خار دار مانگوں والا مرغ کالا یا مشکی تیتر دم سے سر تک ۳۳ سنٹی میٹر لمبا ہوتا ہے ۔ یہ پانی کے قریب گھنی جھاڑیوں میں چھپا ہوا ملتا خاردار ٹانگوں والا مرغ ( ۳۷ سنٹی میٹر ) اب ہے علیحدہ نسل کا پرندہ نہیں رہا بلکہ گھریلو مرغیوں کی نسل میں مدغم ہو چکا ہے ۔ نر کی مانگوں کی پشت پر چار چار اور مادہ کی مانگ کی پشت پر دو دو خار تھے ۔ چٹا ( بھورا ) اور کالا تیتر پالا بھی جاتا ہے ۔ چٹا تیتر اپنے مالک کے ہاتھ میں پنجرا دیکھ کر اس کے پیچھے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اور اس کی سیٹی کا جواب دیتا ہے ۔ نر تیتر کی آواز تیز ” للکار نے والی ” ہوتی ہے جو پہلے اونچی پھر تین دفعہ ذرا دھیمی غرغوں کی مانند نکلتی ہے ۔ خطرہ درپیش ہو تو یہ اڑ جانے کی بجائے تیز دوڑنے کو ترجیح دیتا ہے ۔ مجبوراً اڑنا پڑے تو جب زمین پر اترتا ہے تو خاصی دور تک دوڑتا چلا جاتا ہے خشک کھلے میدانوں میں رہتا ہے جہاں ہلکے پھلکے جنگل ہوں ۔ کوڑ کی اور دوسرے پھندوں کے ذریعے شکار کرنے والوں نے اسکی تعداد بہت کم کر دی ہے ۔ اس تیتر کی لمبائی ۳۳ سنٹی میٹر ہے ۔

چکور :

تھل سے طبق دریائے سندھ کے پار کے علاقے میں کوہ سیلمان کی ننگی بے آب و گیاہ پہاڑیوں میں ایک خاصا بڑا ( ۳۷ سنٹی میٹر لمبائی کا ) پرندہ پایا جاتا ہے جسے چکور کہتے ہیں ۔ ماہرین طیور اسے تیتر کی نسل میں شمار کرتے ہیں ۔ یہ زرد رنگ کا مضبوط اور تیز رفتار پرندہ چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر رہتا ہے ۔ قدموں کی چاپ سنتے ہی پروں کو محرابی صورت دے کر زور دار پھڑ پھڑاہٹ کے ساتھ اڑ جاتا ہے اور اپنی اڑان میں پہاڑوں کی ڈھلوان کا رخ اختیار کرتا ہے جفاکش اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بلوچستان کی سخت گرمی اور کوہ ہمالیہ کی پانچ ہزار میٹر تک کی بلندی والی سخت سردی کو بھی برداشت کر لیتا ہے ۔ طبعاً لڑاکا ہے

بٹیر:

ماہرین نے اس پرندے کی پانچ قسمیں بتائی ہیں ۔ یہ عام بشیر ( ۲۰ سنٹی میٹر لمبا ) شمال مغربی پہاڑوں کا پرندہ ہے جو سردیوں میں نقل مکانی پر مجبور ہوتا ہے ۔ اس کی مکڑیاں ہزاروں پرندوں پر مشتمل ہوتی ہیں ۔ تھل میں یہ روس اور یورپ کو جاتا ہوا رات گزانے کیلئے اترتا ہے اور فصلوں میں چھپ جاتا ہے ۔ ان دنوں یہاں بہار کی آمد آمد ہوتی ہے ۔ تت وژت کی آواز سے پہچانا جاتا ہے ۔ شکاری اسے ہنکار کر مال کی طرف لے آتے ہیں اور پھنسا لیتےہیں بٹیر بازی برصغیر ہند و پاکستان میں ہر جگہ پسندیدہ مشغلہ ہے تھل میں شوقین لوگ بٹیروں کو پالتے ہیں اور ر لاوے کی مدد سے بٹیر کا شکار کھیلتے ہیں ۔

کبوتر :

اس خوبصورت ، باوقار اور انسان سے بہت جلد مانوس ہو جانے والے بھولے بھالے پرندے کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ ” کبوتر بازی ” پورے پاکستان بالعموم اور تھل میں بالخصوص ایک تفریحی نہیں بلکہ فنون لطیفہ کی حد تک ترقی یافتہ کھیل بھی ہے ۔ جس میں عوام اور خواش دونوں دلچسپی لیتے ہیں ۔ ماہرین طیور اس پرندے کو چھ اقسام میں تقسیم کرتے ہیں ان میں سے چار کو وہ فاختہ اور صرف دو کو کبوتروں میں شمار کرتے ہیں ۔

جنگلی مرغا مرعی:

دنیا بھر کی گھریلو مرغیوں کا مورث اعلیٰ اسی جوڑے کو سمجھا جاتا ہے ۔ انہیں گوڑی لکڑ اور گوڑی لکڑ کہتے ہیں ۔ ۲۵ سنٹی میٹر کا یہ پرندہ مزروعہ زمین کے قریب بانسوں کے جھنڈ اور گھنے پودوں میں رہتا ہے اور ٹولیوں کی شکل میں ملتا ہے ۔ مرغا زور دار آواز میں کو کڑو کو کرتا ہے تو پوری ٹولی کی موجودگی کا سپتہ چل جاتا ہے ۔ راتوں کو درخت کی ٹہنی پر سو جاتا ہے اور دن کو دھوپ سے کہنے کیلئے درختوں کے نیچے اگی ہوئی گھاس میں چھپ جاتا ہے ۔ خبردار کیا جائے تو تیزی کے ساتھ کسی پناہ گاہ کی طرف بھاگ جاتا ہے ۔ اس وقت اسکی گردن باہر کی طرف نکلی ہوئی اور دم اندر کی طرف دبی ہوئی ہوتی ہے ۔

در کھان پکھی :

لمبی چونچ والا یہ خوبصورت کلغی دار پرندہ تھل میں کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ مزروعہ کھیتوں میں ، درختوں کی ٹہنیوں پر اور سٹرکوں کے کنارے کنارے ہر جگہ دیکھنے میں آتا ہے اپنی لمبی اور تیز چونچ سے درختوں کے تنوں میں سوراخ کرتا رہتا ۔ اسی سوراخ میں رہتا ہے اسکی لمبائی ۳۰ سنٹی میٹر ہے ۔

کوا :

اس کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک خانگی کوا ہے جسے مقامی زبان میں کاں کہتے ہیں ۔ دوسرا جنگلی کوا ہے جسے ڈوڈر کاں کہا جاتا ہے ۔ گھریلو کوا بھی دو طرح کا ہوتا ہے ۔ ایک پورا کالا جو تھل میں بہت کم نظر آتا ہے دوسرا سر کے پچھلے حصے سے پیٹ تک سیاہی مائل سفید ہوتا ہے ۔

مینا:

مقامی زبان میں اس پرندے کو ” لالی ” کہتے ہیں ۔ گھروں میں کھیتوں اور سڑکوں پر ہر جگہ دکھائی دیتی ہے ۔ مینا سات قسموں کی ہوتی ہے .

گھریلو چڑیا :

اس کے کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ہر گھر میں موجود ہوتی ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ انسان پر مکمل انحصار کے باوجود یہ اس سے زیادہ مانوس نہیں ہے ۔ بھدا سا گھونسلا بناتی ہے چوں چوں کا بہت شور مچانی ہے ۔ پکی فصلوں کا بہت نقصان کرتی ہے ۔

ساوی چڑیا :

زرد گلے والی یہ چڑیا مزروعہ کھیتوں اور کھلے میدانوں میں رہتی ہے جہاں معمولی جھاڑ جھنکار ہو ۔ اس کی ٹولیاں اکثر سڑکوں کے کنارے پر یا کھیتوں میں جگتی نظر آتی ہیں ۔ قریب جائیں تو پھر سے اڑ کر درختوں پر جا بیٹھتی ہے ۔ اپنا گھونسلا درخت کی کھوہ میں بناتی ہے ۔

بیا:

کہتے ہیں کہ انسان نے کپڑا بننے کا فن اسی سے سیکھا تھا ۔ پتلے پتلے ڈنٹھلوں کو بڑی مہارت کے ساتھ بن کر ایسا مضبوط گھونسلا بناتا ہے کہ دشمن اور طوفان دونوں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ۱۵ سنٹی میٹر کا یہ پرندہ مزروعہ کھیتوں کے قریب درختوں کی شاخوں کے ساتھ لٹکتے ہوئے گھونسلے بناتا ہے جن کے نیچے سرنگ نما راستہ ہوتا ہے ۔ یہ پوری رفتار کے ساتھ اڑتا ہوا اس راستے سے اندر داخل ہو جاتا ہے ۔

بھٹ تیتر

یہ ۲۵ سنٹی میٹر کا پرندہ وسیع ریگزاروں اور بے آب و گیاہ میدانوں میں پایا جاتا ہے ۔ پانی تک خاصہ طویل سفر طے کر کے جاتا ہے زمین پر اسکی چال بھری ہوتی ہے لیکن ہوا میں چست ہو کر تیز رفتار سے اڑتا ہے ۔ تیتر کی شکل کا ہے لیکن اس سے قدرے چھوٹا عام طور پر ٹولیوں میں
رہتا ہے۔

الو :

اس شکاری پرندے کو اس علاقے میں بے وقوفی ، ویرانی اور نحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ یورپ میں یہ دانائی کی مثال ہے ۔ پرواز کے دوران اس کے پر سیدھے ہو جاتے ہیں ۔ یہ طا ۔ یہ طاقتور اور باوقار پرندہ ہے ۔ کٹی پھٹی زمینوں چٹان دار علاقوں ، اندھیرے جنگلوں ، درختوں کے جھنڈوں اور سوکھی گھاس یا جھاڑ جھنکار والی جگہوں میں رہنا پسند کرتا ہے ۔ رات کو جب کوے اور دوسرے پرندے گہری نیند میں ہوتے ہیں تو یہ اچانک خوفناک آواز نکالتا ہے ۔ پرندے گھبرا کر ادھر ادھر اڑنے لگتے ہیں تو یہ انہیں دبوچ لیتا ہے ۔
دوسرا اس سے قدرے چھوٹا ۵۵ سنٹی میٹر قذ کا الو ہے اور بظاہر اسی کی شکل شباہت کا ہے ۔ اسکی ننگی مانگیں اور ننگے پاؤں مچھلی پکڑنے کے لئے بہت موزوں ہیں ۔ یہی اسکی خوراک ہے ۔ دریاؤں ، جھیلوں اور تالابوں کے نزدیک سارا دن کسی درخت میں یا ٹیلے کے سوراخ میں چھپا رہتا ہے ۔ سورج غروب ہوتے ہی شکار کیلئے نکل پڑتا ہے ۔ آواز اسکی گہری اور گونج دار ہے ۔
یہ مکمل طور پر شب بیدار پرندہ ہے ۔ دن کے وقت اس کا نظر آجانا بہت مشکل ہے خواہ یہ کسی شاخ پر بالکل سامنے ہی کیوں نہ بیٹھا ہو ۔ وقفے وقفے کے بعد باقاعدگی سے ایک نرم آواز نکالتا ہے ۔ ۔ جنگلوں ، باغیچوں ، درختوں کے جھنڈوں اور پہاڑوں اور میدانوں میں ہر جگہ مل جاتا ہے ۔ تھل میں جو چھوٹا الو پایا جاتا ہے اور جسے چربل کہتے ہیں ۔ چربل کے جسم پر نقطے نقطے سے ہوتے ہیں یہ عمارتوں میں ، پرانے درختوں کی کھوہ میں یا بستیوں کے آس پاس درختوں میں چھپا رہتا ہے ۔ کوئی مداخلت کرے تو پہلے اسے گھور کر دیکھتا ہے پھر زور سے بڑبڑاتا ہوا ، جیسے طنز کر رہا ہو ، اڑ جاتا ہے چربل سرخی مائل بھورا بھی ہوتا ہے ۔ یہ جنگلوں میں رہتا ہے یا جہاں درختوں کے جھنڈ ہوں ۔ قد دونوں کا ۲۰ سنٹی میٹر ہوتا ہے ۔

بلبل

اس کی دنیا میں میں اقسام ہیں ۔ ہم تھل اور اس کے نواح میں پائی جانے والی پانچ چھ بلبلوں کا ذکر کریں گے ۔ پہلی قسم کی بلبل کا قد ۲۰ سنٹی میٹر ہوتا ہے اسکی دم کے نیچے کا حصہ سرخ ہوتا ہے ۔ مزروعہ کھیتوں ، باغوں ، سوکھی جھاڑیوں والے میدانوں اور شہروں میں ہر جگہ مل جاتی ہے ویسے یہ چمن زاروں کا پرندہ ہے جو پتوں اور شاخوں میں چھپا رہ کر پھل پھول یا تتلیوں کو پکڑ کر کھاتا ہے ۔ اس کی موسیقی میں دلکش اور ۔ اور سریلی آواز کے پردے میں کئی کئی مختصر جملے شامل ہوتے ہیں ۔ یہ خبردار اور ہوشیار پرندہ ہے ۔ د دشمن کو دیکھ لے تو سب سے پہلے شور مچا کر دوسرے پرندوں کو متنبہ کرتا ہے ۔ لڑا کا ہونے کی وجہ سے لوگ شوق سے اسے
پالتے ہیں اور لڑائیوں کا تماشا دیکھتے ہیں ۔ دوسری قسم کی بلبل تھل کے علاقے کی نہیں لیکن کبھی کبھار بھٹکی ہوئی ادھر آجاتی ہے ۔ اس کے گلے میں بہت سی سریں ہیں ۔ ایک جھاڑی پر بیٹھ کر ایک گیت گائیگی تو دوسری پر جا کر دوسرا راگ الا دیگی ۔ قد اس کا بھی ۲۰ سنٹی میٹر ہوتا ہے ۔ تیسری اور چوتھی قسم کی بلبل میں سوائے کلفی کے کوئی فرق نہیں ہے دونوں کا قد ۲۰ سنٹی میٹر ہے ، رخسار سفید اور نیچے کا حصہ زرد ہے ۔ بہت باتونی پرندہ ہے ۔ کسی جھاڑی یا ڈھینگروں کی باڑ میں گھاس اور جڑوں کا
گھونسلا بنا لیتا ہے ۔ پانچویں قسم کی ۲۲ سنٹی میٹر قد کی کالی بلبل ہے ۔ درختوں کے جھنڈ پسند کرتی ہے اور ٹولیاں بنا کر رہتی ہے ۔ پوری ٹولی ایک درخت کی چوٹی سے چھیں چیں کرتی ہوئی دوسرے درخت پر جا بیٹھیگی : کونپلوں کا رس ، بیر اورپھل اسکی غذا ہیں ۔ شور بہت مچاتی ہے ۔چھٹی قسم کی بلبل سفید بھوؤں والی بلبل کہلاتی ہے ۔ جھاڑیوں کی چھت میں چھپی ہوئی یا گھنی باڑ میں سے میٹھے میٹھے گیت الاپتی سنائی دیتی ہے ۔ یہ میدانوں کا پرندہ ہے اگر چہ باغوں اور چمن زاروں میں بھی دستیاب ہے ۔

کوئل:

ساون کے پر کیف موسم میں جہاں بھی درختوں کا کوئی جھنڈ ہو گا کوئل کی ، بنسری کی طرح کی ، دوہری آواز آپ کے کانوں میں ضرور پڑیگی ۔ ۲۲ سنٹی میٹر کے قدوقامت کا یہ پرندہ پرواز میں ہو تو باز معلوم ہوتا ہے ۔

موسیقار پرندے :

تھل کے موسیقار پرندوں کا کوئی نام بھی ہو تا ہو ۔ ہم انہیں لارک ہی کہیں گے ۔ ان کی پانچ اقسام ہیں ۔
پہلی قسم کی لارک سرخ پروں والی جھاڑیوں کے دوران گاتی ہے تو پر پھڑ پھڑاتی ہوئی عموداً اوپر کو اٹھتی ہے اور جب واپس آتی ہے تو پیراشوٹ کی طرح آتی ہوئی بازو او پر کو اٹھا لیتی ہے ۔ قد ۱۴ سم ہے ۔دوسری قسم کی لارک کو خاکستری تاج والی لارک کہتے ہیں ۔ ۱۳ سم کی یہ په لارک اپنے آشیانے کی فضائی حدود میں بلند ہو کر تھر تھرائی آواز میں گیت گاتی ہے وار ساتھ ہی پرواز میں اوپر لہریں بناتی جاتی ہے ۔ تیری قسم کی چھوٹی لارک زمین سے سیدھی عموداً آسمان کی طرف اٹھتی دار آواز میں گیت گاتی اور ساتھ ہی پر پھڑ پھڑاتی ہے ۔ اسکی ساز و آواز کی یہ سنگیت تمام دوسری لارکوں سے زیادہ دلکش ہے ۔ قد ۱۸ کم ہےہوئی گھنگھرو چوتھی قسم کی ۱۸ سنٹی میٹر قد کی لارک زرد رنگ کی ہوتی ہے اور ماتھے پر کھڑے بالوں کی کلغی اسے اور بھی خوبصورت بناتی ہے ۔ تار کے کھمبے پر بیٹھی ہوئی بھی گیت گاتی سنائی دیگی اور پھر جب زمین سے ذرا بلند ہو کر ہوا میں چکر کاٹتی ہے تو اس وقت بھی گاتی ہے ۔
پانچویں قسم کی چھوٹے چھوٹے پاؤں والی لارک ۱۵ سنٹی میٹر قد کی ہوتی ہے تھل میں سردیوں کے موسم میں آتی ہے اور بڑی بڑی ڈاروں میں اگر بسیرا کرتی ہے ۔ مداخلت کی جائے تو گرد کے بادل اڑاتی ہوئی ڈار کی ڈار اٹھتی ہے اور خوبصورت سا نغمہ گاتی ہے ۔ دوسری جگہ پر بیٹھنے سے پہلے چکر کاٹتی ہے ۔

کونج ( سارس )

اس کے بارے میں ماہرین طیور کہتے ہیں کہ نر اور مادہ عمر بھر عہد وفا نبھاتے ہیں ۔ ایک کے مرجانے پر دوسرا گھل گھل کر ختم ہو جاتا ہے ۔ نوے سم کے اس پرندے کی پرواز نہایت خوبصورت اور منظم ہوتی ہے ۔ مارچ اور اکتوبر میں سینکڑوں کی تعداد میں یہاں آتا ہے ۔

بلور ( بکھڑ)

۱۲۰ سنٹی میٹر قد دار ۱۴ کلوگرام وزن کا یہ تلور تھل کے علاوہ دنیا میں اور کہیں نہیں پایا جاتا ۔ دوڑتا ہے تو سر کے بال خوبصورت کلغی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔ نر اپنی مادہ سے ایک تہائی بڑا ہوتا ہے ۔ پر پھڑ پھڑ کر مادہ کو متوجہ کرتا ہے ۔ مادہ کھلے میدان میں بیک وقت چار انڈے دیتی ہے ۔ چھوٹی ٹولیاں بنا کر رہتا ہے ۔ بہت شرمیلا اور لڑاکا پرندہ ہے ۔ اڑنے کی بجائے بھاگنے کو ترجیح دیتا ہے ۔

دوسری قسم کا تلور پچاس سنٹی میٹر قد کا ہے ۔ اسے تیرتی مور اور لکھ یا یخ بھی کہتے ہیں ۔ تمام تلوروں میں سب سے زیادہ شرمیلا اور چھوٹا ہے ۔ بڑےگروہ بنا کر نہیں رہتا ۔ تیسری قسم کا تلور سردیوں میں باقاعدگی کے ساتھ تھل میں آتا ہے ۔ اسے ” ہاؤ برا ” بھی کہتے ہیں ۔ اس کا قد ۷۰ سنٹی میٹر ہے ۔ بہت لڑاکا ہے ۔ اس کے قریب پیدل پہنچنا بہت مشکل ہے ۔ جیپوں پر سوار ہو کر اس کا شکار کرتے ہیں دوسرے تلوروں کی طرح یہ بھی ” ہمہ خور ” ہے یعنی دانکے دنکے ، غلہ ، بیر ، چھپکلیاں اور سانپ وغیرہ سب کچھ کھا جاتا ہے

چانہہ :

یہ نیلے پروں کا خوبصورت پرندہ ہر جگہ دیکھنا جا سکتا ہے ۔ اس کا تد ۳۰ سنٹی میٹر ہے ۔ زمین پر سے کپڑے پتنگے پکڑ کر کھاتا ہے ۔ درخت یا کسی کھیے پر بیٹھا ہواست اور غیر دلچسپ سا دکھائی دیتا ہے ۔

طوطا :

اس کا شمار بھی خوبصورت پرندوں میں ہوتا ہے ۔ بڑے شوق سے پالا جاتا ہے ۔ پھلدار درختوں کے بہت نقصان پہنچاتا ہے ۔ پھل کتر کتر کر ضائع کردیتا ہے ۔

سلارا (ابابیل) :

سورج کے غروب ہوتے ہی ، خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں ، گھر کے صحن میں گلیوں بازاروں میں غرض ہر جگہ اس پرندے کے جھنڈ کے جھنڈدائرے بناتے ، چکر کاٹتے اور تیزی سے پلٹے کھاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ 10 سنٹی میٹر قد کا یہ پرندہ چرچہ کرتا ہوا یکدم بہت اونچا چلا جائیگا اور پھر اسی تیزی کے ساتھ نیچے آجائیگا ۔ ہمیشہ غولوں میں رہتا ہے ۔ اکیلا دیکھنے میں نہیں آتا ۔بشیر جتنا بڑا ہوتا ہے پیپل کے درخت پر پتوں کے جھنڈ میں بیٹھتا ہے فصلی پرندہ ہے مکڑی کا دشمن ہے ۔

 نوٹ : یہ مضمون ڈاکڑ مہر عبدالحق سمرا کی کتاب "تھل” سے لیا گیا ہے 

 

یہ بھی پڑھیں

جواب دیں

Back to top button

For copy this text contact us :thalochinews@gmail.com