تھل "ڈاکڑ مہر عبدالحق"

تھل کی تہذیب و ثقافت

تہذیب اور ثقافت دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں ۔ تہذیب کا مادہ جذب ہے جس کے معنے ہیں زائد فالتو حصے کو کاٹ دینا ۔ شاخ تراشی کرنا ، لکڑی کو چھیلنا ، مطابقت پیدا کرنا ۔ بچے کی پرورش کرنا ۔ اپنے انداز و اطوار کو سنوارنا ، تکمیل و اتمام کرنا ، تعلیم دینا ، عمدہ بنانا ، ثقافت کا مادہ ثقف ہے جس کے معنے ہیں : تیز فہم رکھنا ۔ عقل و ذکا میں سبقت لے جانا ، نیزے کے ٹیڑھے پن کو دور کر کے اسے تیز کرنا اورچمکانا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف مہارتیں پیدا ہوتی گئیں اور ان میں اصلاحات ہوتی رہیں موروثی ہنر مندیاں تراش خراش کے مراحل سے گزر کر رسوم و رواجات کے زمرے میں داخل ہو گئیں ۔ علم و عمل کی ترقی کے ساتھ رسوم و رواجات بھی بدلتے چلے گئے اور طرز معاشرت اور زندگی کے انداز و اطوار میں بھی تغیرات نمودار ہو گئے ۔ ان تغیرات نے تہذیب و ثقافت کے معنوں میں بھی وسعت پیدا کر دی انگریزی کے لفظ سیولیزیشن کا تعلق شہری زندگی کے ارتقا کے ساتھ تھا ۔ کلچر کا تعلق اعلیٰ قدروں سے اور اخلاقی معیارات سے ہے جب یہ الفاظ انگریزی سے ہمارے ہاں آئے تو ان کا ترجمہ تہذیب و ثقافت سے کیا گیا ۔ لیکن اب ثقافت کے مفہوم کو اور بھی زیادہ وسعت دے دی گئی ہے ۔ چنانچہ اس لفظ میں تفریحات ، رسوم و رواجات ، مذہب ، تعلیم و تربیت ، معاشرتی طور طریقے ، ورثے میں ملنے والی روایات عقید تمندیاں ، توہم پرستیاں ،اجتماعی پسندیدگیاں اور ناپسندیدگیاں ، تاریخ اور افسانہ وغیرہ سب شامل ہیں ۔
بچے کی پیدائش تھل کے علاقے میں بیٹے کی پیدائش پر دھوم دھام سے خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔ بیٹی پیدا ہو جائے تو سارے افسردہ ہو جاتے ہیں ۔ مائیں اور بڑی بوڑھیاں اپنے بچوں کویہ دعائیں دیتی ہیں ؛شمالا است پترنیا تھیویں ،شمالا تی وانہ لگی ۔ شمالا چڑھی کمان ہودی -حتجھ پیر ہو دی اتھ خیر ہو دی ۔مریندیاں دے لال طرے – وجدیاں واجیاں نال آدیں ۔ مریندیاں دے اگوں نے بھجدیاں دے پچھوں رہو یں ۔دشمن را دار خطا -پتر ا تو ہیں تے دُکھ پچھو ہیں ۔ان ڈدھیاں چھڑ نہیں ۔ ڈیندیں ہتھ نہ تھکی ۔جگ جگ جیویں ۔ جیویں ہو دیں ۔ جندڑی مانڑیں ۔ جوانیاں مانڑیںجیون جو گا ۔جند جیوی ۔ صحت دی بادشاہی ہوی – سراں دی خیر ۔ سکھیں لدھا ۔ شمالا کھلا متھے بگیں ۔ تیکوں سہرے بنھاں ۔ رب دی رکھ ہو دی ۔ بیٹیوں کیلئے زیادہ سے زیادہ یہ دعا مانگی جاتی ہے کہ شمالا سہاگن تھیویں ، سرداسائیں جیوی ، ست پتریتی تھیویں ۔ رجی کجی ہو دیں ۔ ڈدھ پتر دی خیرا بیٹے کی خواہش دوسرے ملکوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اس علاقے میں قدرے شدت سے ہے ۔ شادی کے سال ڈیڑھ سال بعد تک بچہ نہ ہو تو میکے اور سسرال والے دونوں پریشان ہو جاتے ہیں ۔ خاص طور پر عورتیں تو ٹونوں ٹوٹکوں ، گنڈے تعویزوں

1؛اور نیم حکیموں پر بے تحاشا روپیہ پیسہ خرچ کر دیتی ہیں ۔ کسی بزرگ کے مزار پر جا کر منوتی مانی جاتی ہے کہ بچہ ہو گیا ( خاص طور پر لڑکا ) تو گھر سے مزار تک ننگے پاؤں چل کے آئیں گے یا چوری کا چھناں دیں گے ۔ یا اما گھٹا دیں گے یا کوئی لیلا یا پھڈورا لاکر اس کی قربانی دیں گے یا حلوہ ماناں تقسیم کریں گے یا چاولوں کی دیگ پکوا کر بانٹیں گے یا لال پنگھوڑا آشکا ئیں گے یا مزار پر بچے کو لے آئیں گے اور اسکی جھنڈ ( پہلے بال ) یہاں منڈوائیں گے یا ناچ گانے کرائیں گے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ بچہ ہو گیا یعنی مراد پوری ہو گئی تو اب منوتی لازماً ادا کرنی ہو گی اور اسے لفظ بہ لفظ پورا کرنے کا خیال رکھنا پڑیگا ۔ پوری نہ ہوئی یا کوئی کمی رہ گئی تو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ پہلے حمل کے ساتویں مہینے دلہن کو آراستہ پیراستہ کیا جاتا ہے اور مٹھائی وغیرہ تقسیم کی جاتی ہے ۔ اس رسم کو کنجی
ڈھن کہتے ہیں ۔
پہلے بیٹے کی پیدائش پر خوشی کے اظہار کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دوست احباب دولھا کے کپڑوں پر رنگ چھڑکتے ہیں اور پگڑی کے دونوں پلوں کو پہلے اور سرخ رنگ کے چھینٹوں سے رنگین کرتے ہیں ۔ پہلا ہفتہ دعوتوں اور رنگ رلیوں میں گزر جاتا ہے ۔ پھر ” جھنڈ لہاون ” کی رسم ادا کی جاتی ہے ۔ اس پر اپنی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کیا جاتا ہے ۔ بالوں کے وزن کے مطابق سونا یا چاندی خیرات کر دیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد عقیقے کی رسم ادا ہو گی ۔ پیدائش کے چالیس دنوں کے اندر عقیقہ کرنا ہو گا ۔ لڑکا ہے تو دو بکروں اور لڑ اور لڑکی ہے تو ایک بکرے کی قربانی ہو گی ۔ اس کا گوشت بانٹ دیا جائیگا ۔ مقررہ مدت کے اندر یہ رسم پوری نہ کی جائیگی تو پھر اتنا ہی گوشت پکا کر تقسیم کیا جائیگا ۔ جب بچہ پیدا ہوا تو نہلا دھلا کر اس کے کان میں پہلی آواز اذان کی ڈالی گئی تھی اب نانیاں دادیاں بچے کو ” آڑھ وڈیر ” کر پنگھوڑے میں سلا کر اسے لوری دیں گی ۔لولی ڈیندی میں ونجاں گھولی ادیم جھوٹالولی ڈیندیں میں ونجاں گھولی پینگھاڈیندیں پٹ دیاں لانہاں محکم بانہاںلولی ڈیندیاں میں رقی دے رادے نندرلولی ڈیندیں میں ونجاں گھولی خوشی دی تیڈیاں اکھیاں کوں آوےستمنکے اٹھی تےدیلے کوں جاگ تیڈے جاگیں میڈے دیڑھے بھاگ لولی ڈیندیں میں ونہاں گھولی” جث را بال پٹیلے جیڑا بل دی چوڑی پکڑے ” ۔ بچے جس ماحول میں رہتے ہیں اسکی کے مطابق اپنی طبیعت ، عادات و اطوار کو ڈھال لیتے ہیں ۔ بھیڑ بکریوں ، لیلوں بھڈوروں اور گاہوں توڑوں سے مانوس ہو جاتے ہیں اور اوائل عمر سے ہی ان کی دیکھ بھال میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ چار پانچ سال کی عمر تک پہنچتے گھر کے اندر باہر کے اکثر کاموں سے واقف ہو جاتے ہیں ۔ لڑکی کو مائی جی کے پاس اور لڑکے کو مسجد کے مولوی صاحب کے پاس ناظرہ قرآن پڑھنے کے لئے بٹھا دیا جاتا ہے اور حسب توفیق مائی جی کو مولوی صاحب کو شیرینی پیش کی جاتی ہے ۔ عام طور پر یہ آٹے کی بھری ہوئی تھالی اور گڑ اور گھی کا نذرانہ ہوتا ہے ۔ بچوں کے والدین اپنی اپنی ا استطاعت کے مطابق ماہانہ یا سالانہ یا فصلوں کی برداشت کے وقت اجناس کی شکل میں اور خدمت بھی کرتے ہیں ۔ مولوی صاحب کی بہت عزت کی جاتی ہے ۔ یہ قو – یہ قرآن حکیم ناظرہ پڑھانے کے علاوہ بچوں کو آداب مجلس بھی سکھاتا ہے اور اخلاقی تعلیم بھی دیتا ہے ہم درس طلبہ کو الگ الگ ٹولیوں میں بھی درس دیتے اور انفرادی توجہ سے بھی کام لیتے ہیں ۔ ختنے یا طہور بھاون کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے ۔ بعض لوگ پیدائش کے پہلے دن ہی یہ فریضہ سرانجام دے دیتے ہیں ۔ بعض جھنڈ لہاون اور عقیقے کو ختنے کے ساتھ اکٹھا کر دیتے ہیں ۔ تاہم اسے بھی شادی کی طرح تقریب بنا لیا گیا ہے ۔ اس اعتبار سے یہ خاصی مہنگی رسم بن چکی ہے اور اسے برادری میں اونچی ناک رکھ لینے کا بہانہ بنا دیا گیا ہے ۔ استطاعت ہو یا نہ ہو ، زیور بیچے جائیں یا زمین گروی رکھی جائے یا قرض لیا جائے بہندے سکدے جیون جو گے” کی یہ پہلی خوشی تو دھوم دھام سے . منائی جائیگی ۔ وڈیروں کے لئے یہ خوشی ” ایک نفع مند تجارت ” کی صورت اختیار کر کے مزید خوشیاں لاتی ہے کیونکہ وسیب کی رعایا پر فرنس ہے کہ وہ بھا گوند ” کی خوشی میں شریک ہونے کے ثبوت میں کوئی ردنہ یا بکرا یا لیلا بھنڈورا یا نقدی یا گھی کا کنستر یا اناج کی بوری ضرور پیش کرے ورنہ اس کا وسیب میں رہنا دو بھر ہو جائیگا ۔
شادی بیاہ کی رسمیں تھل میں پچاس ساٹھ سال پہلے شادی بیاہ کا مرحلہ جن رسوم سے گزر کر طے ہوتا
تھا ۔ آج بھی یہ رسمیں قریب قریب ویسے ہی ادا کی جاتی ہیں ۔ بیٹی بیٹا جوان ہو جائیں تو ان کی شادی کی ذمہ داری والدین کی ہوتی تھی ۔ بسا اوقات لڑکے لڑکی کی پیدائش کے وقت ہی انہیں ایک دوسرے سے منسوب کر دیا جاتا تھا ۔ لڑکے لڑکی کی مرضی کو بہت کم دخل تھا ۔ لڑکی والے صرف یہ دیکھتے تھے کہ لڑکا صحت مند اور کماؤ ہے بدقماش نہیں ہے ۔ لڑکے والے یہ دیکھتے تھے کہ لڑکی سگھڑ اور خدمتگزار ہے ۔ معاشی اعتبار سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ دونوں کنبے ہم پلہ ہیں ۔ تعلیم بہت کم تھی اور لڑکیوں کا لکھا پڑھا ہونا تو ویسے بھی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ لڑکیوں کی تربیت کو صرف خانہ داری اور سینے پرونے تک محدود رکھا جاتا تھا ۔ غیر برادری میں بحالت مجبوری شادی کی جاتی تھی ۔ پہلے عورتیں آپس میں بات طے کر لیتی تھیں پھر گھر کے مردوں کو راضی کرتی تھیں ۔ جب اندرون خانہ بات ہو جاتی تو پھر لڑکے والے نائی کے ہاتھ لڑکی والوں کو پیغام بھیجتے کہ باہمی طے شدہ تاریخ پر ہم اپنی برادری کے چند معتبر لوگ رشتہ مانگنے کیلئے آئیں گے آپ بھی اپنی برادری کے معتبر لوگ جمع کر لیں ۔ رشتہ مانگنے کی رسم کو ڈھک دینا کہتے تھے ۔ دونوں برادریوں کی رضامندی ” دعائے خیر ” کے ذریعے پکی ہو جاتی ۔ لڑکی والے مہمانوں کو میٹھا دودھ پلاتے تھے ۔ یہ بھی رضا مندی کے اظہار کا ایک طریقہ تھا ۔ اب لڑکے والے ( پتریتے ) فیصلہ کرتے کہ فلاں تاریخ کو منگنی کی رسم ادا ہو گی ۔ پتر یتے گھر کی عورتیں مراثنوں کی ڈھول ڈھمکنی کے ساتھ دیتے گھر جاتیں ، بڑی بوڑھی یا دھن ) کنوار ( کی ساس کنوار کے سر پر سرخ رنگ کا دوپٹہ ( سوہا ڈالتی اور ایک دو جوڑے کپڑوں کے پیش کرتی تھی ۔ منگنی کی انگوٹھی کنوار کو پہناتی تھی اور ” دھیتی ” برادری میں بانٹنے کیلئے حسب توفیق مٹھائی ( لڈو یا توشہ – لاچی دانے یابط جمان شادی رہتی مینڈھی کائی ہودمیدے یعنی بتاشے ) یا گڑ لے جاتی تھی ۔ کچھ دیر تک گانا بجانا ہوتا اور ایک دوسرے پر رنگ پھینکا جاتا ۔ پھر منگنی اور شادی کے درمیانی عرصے میں جتنی عید میں آتی تھی پریتے کنوار کو تحفے تحائف لازماً بھیجتے تھے ۔ اگر خدا نخواستہ ناراضگی کا کوئی شدید واقعہ ہو جاتا تو منگنی ٹوٹ بھی سکتی تھی ۔ ایسی صورت میں زیورات اور پارچات واپس کر دیئے جاتےتھے ۔ تاہم منگنی کا ٹوٹ جانا دونوں طرف سے بہت معیوب اقدام سمجھا جاتا تھا ۔ شادی کی تاریخ مقرر کرنے کی رسم کو ” گنڑ حسین بخھن ” کہتے ہیں ۔ طرفین کی برادری کے سرکردہ افراد دیتے گھر جمع ہوتے ۔ مولوی صاحب سے سعد اور نحس دن پوچھا جاتا ۔ محرم الحرام ، صفر ، ( جیسے تیرہ تیزی کا مہینہ کہتے تھے اور خیال تھا کہ اس میں سفر در پیش آتا ہے ) ذی الحجہ اور رمضان شریف کی تاریخیں چھوڑ دی جاتی تھیں اور موسم کا بھی خیال کر لیا جاتا تھا ۔ تاریخ قمری مہینوں کے حساب سے مقرر کی جاتی اور اسے دعائے خیر سے پکا کر لیا جاتا تھا ۔ شادی والے مہینے کی پہلی تاریخ کو پتریتے گھر پر مراثی اگر ” چند رانہ ” بجاتے تھے تاکہ ہمسایوں کو اور عام و خاص لوگوں کو خبر ہو جائے چندرا نہ بج جانے کے دوسرے دن سے کاندھے ( دعوت نامے ) پھرنے شروع کر دیئے جاتے تھے ۔ کاندھے پھیرنا نائی کی ذمہ داری تھی ۔ دور دراز کے رشتہ داروں تک اطلاع پہنچانا بھی اس کا فرض تھا ۔ نائی ہر شادی شدہ شخص کو کنبے کا سربراہ تصور کرتے ہوئے علیحدہ علیحدہ کا نڈھا دیتا تھا اور تمام اہم رسوم کے ادا کئے جانے کا وقت بھی بتاتا تھا ۔ مثلاً پھنڈر لیک ( جانور ذبح کرنا ( گھبرو کا کھارے چڑھنا ۔ گانا باندھنا ۔ سہرا بندی ، جنج چڑھن – جنج بھت وغیرہ میں سے کسی ایک کا نام نہ لے اور وقت نہ بتائے تو رشتہ دار ناراض ہو ۔ اسی طرح کسی کے پاس نائی نہیں پہنچا اور کسی اور ذریعے سے اطلاع دی گئی ہے تو بھی ناراضگی پیدا ہو سکتی ہے ۔ دیتے کا نڈھے بھی اسی احتیاط سے پھیرے جاتے تھے
جاتا تھاشادی سے ایک دو دن پہلے مینڈھی کھولنے کی رسم ادا کی جاتی تھی ، لڑکی جب تک کنواری رہتی اس کے ماتھے کے بالوں کو زنجیری کی شکل میں گوندھا جاتا تھا ۔ اس زنجیری کو مینڈھی کہتے تھے ۔ شادی سے سات دن پہلے مینڈھی کھولنے کے لئے پریتے گھر کی عورتیں گاتی بجاتی رھیتے گھر جاتی تھیں ۔ کنوار کو چیکوں ( ایٹنا ) ملا جاتا ۔ مینڈھی کھول دی جاتی اوربالوں کو خوشبو دار تیل لگایا جاتا ۔ منگنی کی رسم پہلے ادا نہ کی ہوتی تو اب اس رسم کے ساتھ ادا کر دی جاتی ۔ یعنی انگوٹھی پہنا دی جاتی ۔ لال جوڑا ، خشک میوے ، پنجیری ، پسی ہوئی مہندی کا بھرا ہوا تھال کنوار کو دیا جاتا ۔ کنوار کو اور اسکی سہیلیوں کو مہندی لگائی جاتی ۔ پھولوں کے گجرے گلے میں ڈالے جاتے ۔ دلہن کے منہ میں شہد اور مکھن دیا جاتا خشک میوہ اسکی جھولی میں ڈال دیا جاتا اور اس کے پاؤں کے نیچے سوا روپیہ رکھا جاتا جونائن اٹھا لیتی ۔ مراثیوں کو بڑھ چڑھ کر ویلیں دی جاتیں اور یہ ویل دینے والے کا نام لیکر اس طرح ” ہو گا ” دیتی : ” کنوار دی ماسی دی دیل ، بک روپے دی ویل ۔ شمالا ودھ ودھ تھیوے ڈھیر ” کچھ دیر تک گانے بجانے اور رقص و سرود کا دور رہتا ۔ پریتے واپس اپنے گھر پہنچ جاتے تو اب دیتے گھر کی عورتیں گھرو کو مہندی لگانے آجاتیں اور پھر اسی طرح رات گئے تک رقص و سرود کی محفل بھی رہتی ۔
شادی والے دن صبح کی اذان سے پہلے جانور ذبح کئے جاتے تھے تاکہ برادری کو ہر وقت ” کھانی مانی ” مل سکے ۔ مراثی ڈھول بجا کر اعلان کرتا تھا کہ ” پھنڈر لیک ” ہونے والی ہے دعا خیر کیلئے آجاؤ ۔ ادھر جانور ذبح ہو رہے ہیں ۔ قصائی گوشت بنا رہا ہے ادھر کمہاریوں نے آٹا گوندھنا شروع کر دیا ہے ۔ کئی بوریاں آٹے کی خرچ ہوں گی ۔ زمین میں گڑھا کھود کر اس میں کھدر کی موٹی چادر بچھا دی جاتی ہے اور اس میں آنا گوندھا جاتا ہے آٹھ دس من آٹا گوندھنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے ۔ ایک بہت بڑے اوندھے توے پر ، جسے جھانگی تو ا کہتے تھے ، مانے پکنے شروع ہو گئے ۔ ایک کمہاری پیرے گھڑ رہی ہے ۔ دوسری ان کے پتلے سے ” مانے ” ( بڑی اور پتلی روٹیاں ) بنا کر توے پر ڈال رہی ہے تیسری اسے صرف ایک دفعہ الٹا کر اتارتی جارہی ہے ۔ اور ایک دوسرے کے اوپر رکھکر پچاس پچاس کی گنتی کا ” تضب ” لگا رہی ہے اور چوتھی توے کے نیچے آگ کو برابر جلتا رکھ رہی ہے ۔ مانے سینکڑوں کی تعداد میں ایکدوسری کے اوپر بڑے رہنے سے پچیوں کی طرح نرم ہو جاتے ہیں ۔ ضرورت کے تمام برتن ، گھڑے ، ڈولے ، جھجھریاں ، آخورے ، پاتریاں ، پتروئے اور پھیلیاں نیم حقے ، چلمیں اور استادے مہیا کرنا کمہار کا فریضہ ہے ۔ دیگیں پکانا چڑھوئے ( دھوبی ) کا کام ہے ۔ برادری کو چار پائیوں پر بٹھایا جاتا ہے ۔ چار پائیاں ، بسترے اور ایک دو مکان ہمسایوں سے مانگے جاتے تھے ۔ ہر کنبے کو ایک حصہ پتری تمباکو کا لوما ، پانی کا گھڑا اور جھری مہیا کئے جاتے تھے ۔ کھانا زمین پر نڈیاں اور نکھاں بچھا کر اور ان کے اوپر سفید چار میں یا کھیں سجا کر کھلایا جاتا تھا کھانے میں صرف دو چیزیں پیش کی جاتی تھیں : پلاؤ اور گوشت روٹی ۔ میزبان خواہ کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو برادری کے قوانین کا پابند تھا ۔ دھینے گھر کا کھانا صرف میٹھے چاولوں پر مشتمل ہوتا تھاجس میں گڑیا چینی اور میواجات حسب استطاعت ڈالے جاتے تھے ۔ہے گبھرودن کے نو دس بجے برادری دول دمامے ، تو تیوں شہنائیوں اور جھمر کے جلو میں گبھرو کو گانا باندھنے کے لئے مسجد کے دروازے پر لے جاتی تھی ۔ گاماں تین رنگوں سرخ ، سبز اور زرد کا دھاگہ ہوتا تھا جس میں لونگ اور لوہے کا ایک چھلا بندھا ہوتا تھا برادری کا کوئی بزرگ گھرو اور سیالے کی کلائی پر گانا باندھ دیتا ہے اور دعائے خیر مانگی جاتی ہے ۔ پھر یہ جلوس گاتا بجاتا واپس آجاتا ہے ۔ گبھرو کو غسل کرانے کی رسم کھارے چڑھن کہلاتی ہے ۔ کھارا تیلیوں کے بنے ہوئے بہت بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں ۔ پرانے زمانے میں اس میں پھول بھر کر بازار میں بجنے کیلئے لاتے تھے ۔ اس کھارے کو زمین پر اوندھا رکھ دیا جاتا کھارے کے اوپر کھڑا ہو جاتا ہے اس کے سر کے اوپر رنگین چادر تان دی جاتی ہے ۔ کھارے کے ارد گرد پانی سے بھرے ہوئے گھڑے پڑے ہوتے ہیں ۔ گبھرو کو ایک ہاتھ سے گھڑا اٹھا کر اپنے اوپر انڈیلنا ہوتا ہے ۔ گبھرو کو پہلے چیکوں ملا گیا تھا ۔ پھر کپڑوں سمیت نہلایا گیا تھا ۔ اب نائی اسے نئے کپڑے پہنا ئیگا ۔ اور گبھرو کے اتارے ہوئے کپڑے خود لے لیگا ۔ کھارے کے نیچے رکھے ہوئے چاندی کے سکے کمہار کے ہیں ۔ کھارے سے نیچے اترتے ہوئے گھرو کو اپنے پاؤں سے ایک چپنی توڑنی ہے ۔ اس کے نیچے روپیہ رکھا جاتا تھا جو کمہار کا حق الخدمت ہوتا تھا ۔ حاضرین درود شریف پڑھ کر سہرے پر شکار تے تھے ۔ گھرو کے ہاتھ میں تلوار یا خنجر یا چھری یا چھاتو دیا جاتا تھا اور سبالے کو ، جو عام طور پر گھرو کا بہنوئی ہوتا ہے ،
اس کا محافظ اور صلاح کار بنا دیا جاتا تھا ، کھانا کھا چکنے کے بعد جبج چڑھتی تھی ۔ افسوس ہے کہ ہم ساتھ سال پہلے کی جج کی کوئی تصویر پیش نہیں کر سکتے کیونکہ اس زمانے کے نہ رنگین کچاوے موجود ہیں اور نہ شیشوں والے ” در پردے ” مل سکتےہیں اور نہ اونٹوں کی اتنی لمبی قطار میں دستیاب ہیں ۔ ہوتا یہ تھا کہ اونٹوں کی قطار میں چالیس سے کم اونٹ نہیں ہوتے تھے کیونکہ شادی میں شرکت کرنے والے مہمان بھی اپنے اونٹ کچاووں پر آتے تھے اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق انہیں خوب سجا کر لاتے تھے ۔ ان کا مقصد اپنی آسودہ حالی کی نمائش سے زیادہ اپنے قریبی کی بارات کو بارونق بنانا ہوتا تھا ۔ چنانچہ سب اونٹ زیورات سے لدے پھندے اور سب کجاوے شیشے دار چادروں میں لیٹے ہوئے اونچے نیچے ٹیلوں پر سے گزرتے ہوئے عجب بہار دکھاتے تھے ۔ کنوار کے لئے مخصوص ” اٹھ کچاوے ” کو بہت زیادہ آراستہ کیا جاتا تھا ۔ یہ سب سے آگے ہوتا تھا اور اسے موہری اونٹ کہتے تھے ۔ اونٹوں پر رنگیں کچاوے رکھے جاتے تھے جن پر جابجا شیشے جڑے ہوتے تھے ۔ کچاوے کے اوپر محرابی وضع کی لکڑیاں لگی ہوتی تھیں جن پر رنگین زمین کا موما کپڑا ڈال دیا جاتا تھا اس کپڑے میں باہر کا نظارہ کرنے کے لئے خوشنما ” اکھے ” بنے ہوتے تھے اور باہر ” کٹ ورک ” کے پھول بنے ہوتے تھے ۔ کچاوے کے اس چھت نما کپڑے کو ” در پردہ ” کہتے تھے ۔ اسے جھالروں سے آراستہ کیا جاتا تھا اونٹوں کے مہار اور نکیل بھی رنگین ہوتی تھی ۔ ان کی دموں پر بھی پچھلے چڑھا دیئے جاتے تھے ۔ اور ان کے گھٹنوں پر بھی گھنگھرو باندھ دیئے جاتے تھے ۔ کچاوے کے اندر نرم گدیلے اور تکیئے رکھ دیئے جاتے تھے ۔ ہر اٹھ کچاوے کے ساتھ ایک شتربان پیدل چلتا تھا ۔ اگر کچاوے میں ” آنو ھر ” پیدا ہو جاتا ۔ یعنی یہ ایک طرف زیادہ جھک جاتا تو یہ شتریان اسے اسے ٹھیک کر دیتا اور اونٹ کو بھی کنٹرول میں رکھتا تھا ۔ جج کے آگے ڈھول شہنائیاں تو تیاں بجتی تھیں ، جھمر رقص کی ” شی ” اور اونٹوں کے زیوروں کی جھنکار دورتک گونج اٹھتی ۔ دیتے گھر میں بھی طرح کی رسمیں ادا ہوتی تھیں ۔ کنوار کو چیکوں مل کر منہلایا جاتا تھا پانی بھرنے کیلئے عورتیں کسی قریبی کنوئیں پر گاتی ناچتی جاتی تھیں اور گھڑے گھڑیاں بھر لائی تھیں ۔ اس رسم کو گھڑولی کہتے تھے اور اس خاص موقع پر جو گیت گائے جاتے تھے انہیں بھی گھڑولیاں کہتے تھے ۔ کنوار کو نہلانے کی رسم بھی کھارے چڑھن کہلاتی ہے نہلا دھلا کر اسے عروسی لباس زیب تن کرایا جاتا تھا جو سرخ رنگ کا ہوتا ہے اسے ” لانواں ” کا جوڑا کہتے تھے ۔ جہیز میں کئی بیور تریور رکھے جاتے تھے ۔ بیور دوکپڑوں یعنی چولا بوچھن کا نام ہے اور تربور تین کپڑوں کی مکمل پوشاک ہے ۔ کوئی جوڑا
تلا کناری کے بغیر نہیں ہوتا تھا ۔ مینڈھی کھل جانے کے بعد کنوار کو مائیں بٹھا دیا گیا تھا ۔ اس دوران یہ گھر کا کوئی کام کاج نہ کرتی تھی ۔ سہیلیاں اسے ہنسی مذاق کی باتوں میں مصروف رکھتی رہیں ۔ چیکوں بھی ملتی رہیں جو روزانہ گبھرو کے گھر سے آتا تھا ۔
دھیتے گھر والوں نے بارات کا خوب استقبال کیا ۔ میٹھے چاولوں سے تواضع کی ۔ اب گبھرو کو ” اندر خانہ ” میں بلایا گیا ۔ یہاں عورتیں کچھ رسمیں ادا کرتی تھیں ۔ انہیں ” سون سوسب ” کہا جاتا تھا ۔ مثلاً گھوٹ کنوار کو اکٹھا بٹھا کر ان کے سر آہستہ سے مکرائے جاتے تھے ۔ اسے سر میل کہتے تھے ۔ پھر نائن ایک انگوٹھی گھوٹ کو پہناتی اور کنوار سے کہتی اسے اتارو – پھر یہی انگوٹھی کنوار کو پہناتی اور گھوٹ سے اترواتی ۔ مراثن کپاس کے چھوٹے چھوٹے پھو ہے پھولوں کی طرح کنوار کے سر پر رکھتی اور گھوٹ سے کہتی انہیں زمین پر گرائے بغیر چنو . ۔ اس رسم کو پھلے چڑن کہتے تھے ۔ پھر نائن آٹے کے دو تین دیئے بنا کر لاتی اور گھوٹ ایک ہی جھپٹا مار کر انہیں توڑ پھوڑ دیتا ۔ یہ رسم کھنڈ کریں کھیڈن کہلاتی تھی ۔ پھر گھوٹ کنوار کو اکٹھا شمیشہ دکھایا جاتا تھا ۔ پھر گھوٹ کو کہا جاتا کہ کنوار کی بند مٹھی کھولو ۔ پھر دودھ کا ایک گلاس لایا جاتا ۔ کنوار سے کہا جاتا اس میں سے ایک گھونٹ پی لو ، پھر گھوٹ کو اس کا جھوٹا دودھ : پلایا جاتا ۔ سالیاں اس دوران گھوٹ کے جوتے چھپا دیتی تھیں اور جب تک منہ مانگا انعام وصول نہ کر لیتیں جوتے واپس نہ کرتی تھیں ۔ سبالا ان تمام رسوم میں گھوٹ کا صلاح کار رہتا تھا ۔ سون سوب ختم ہوتے تو گھوٹ کنوار کو قرآن پاک کے سائے میں ڈولی میں بٹھا دیا جاتا کنوار کو دولھا اٹھا کر ڈولی میں بٹھاتا تھا ۔ رخصتی کے اس موقع پر کنوار کی رشتہ دار عورتیں باری باری اس سے گلے مل کر روتی تھیں ۔ قریبی رشتے دار مرد بھی وداع کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے ۔ کنوار کے والدین گھوٹ اور اس کے والدین کو ” پارت ” دیتے تھے کہ ہمارے لاڈلی بیٹی اب تمہاری بہو ہے اسے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھنا ۔ بارات پہلے کی کی دھوم دھام کے ساتھ واپس آتی ۔ کنوار کے ساتھ اسکی کوئی سہیلی یا رشتہ دار بھی آتی تھی جو اسکی دلبستگی کا سامان کرتی تھی ۔ کنوار اپنے نئے گھر کے دروازےپر اگر رک جاتی تھی اور چوکھٹ کو پکڑ لیتی تھی ۔ جب تک سر اسے گائے یا اونٹ ریا کوئی اور قیمتی تحفہ پیش نہ کرتا گھر کے اندر قدم نہ رکھتی ۔ اس موقع پر ایک بکرے کی قربانی بھی دی جاتی ۔ چوکھٹ پر تیل ڈالا جاتا اور کنوار دایاں پاؤں گھر کے اندر رکھتی ۔ اسی طرح حجلہ عروسی میں پہنچ کر بھی دایاں پاؤں پلنگ پر پہلے رکھوایا جاتا تھا ۔ گھوٹ کی بہنیں اپنے دوپٹوں کے پلو گھوٹ کی پگڑی یا چولے کے دامن سے باندھ دیتی تھیں ۔ اور منہ مانگا انعام پاکر گرہ کھولتی تھیں ۔ کنوار پیج پر بیٹھ جاتی تو ایک شیر خوار لڑکا اس کی گود میں بٹھا دیا جاتا جیسے وہ پیار کرتی اور کچھ نذرانہ دیتی تھی ۔ شادی کے تین دن بعد کنوار ماں باپ سے ملنے واپس اپنے میک گھر آجاتی ہے ۔ اے ستو داڑا کہتے ہیں ۔ میکے والوں کی طرف سے جو کوئی اسے لینے جاتا تھا آنے کے میٹھے مکڑے گھی یا تیل میں نکلے ہوئے ساتھ لے جاتا تھا ۔ یہ ٹکڑے دیڑھے پاڑے میں بانٹ دیئے جاتے تاکہ معلوم ہو جائے کہ کنوار ستواڑے پر جا رہی ہے چند رانہ بج جانے کے بعد سے شادی والی رات تک گھوٹ کے گھر میں گانے بجانے کی محفلیں شروع ہو جاتی تھیں ۔ گھوٹ کی بہنیں ، پھپھیریں ، مسائیں ، طویر میں ، سوترین ( یعنی پھیپھی زاد ، خالہ زاد، خالہ زاد ، ، ماموں زاد اور چازاد
ان اور ان سب کی سہیلیاں جمع ہو جاتی اور ڈھولک کی تھاپ پر سہرے گاتی تھیں ۔ محفلوں کو آگا یا پیشگی کی محفلیں کہتے تھے ۔ رات بھر گانا بجانا جاری رہے تو یہ جاگا یا جگراتا کہلاتا ہے سہرا وہ نظم یا گیت ہے جس میں سہرے ، گجرے یا سکنے وغیرہ کا ذکر ہو ۔ مہرے کے چند گیتوں کے ابتدائی بول یہ ہیں ۔ :
۱ – بدھ گاناں بدھی آگاناں میڈا خیر اللہ دا بدھ گانا
۲ – پھلاں واکی لدائن سہرا پھلاں دا توا
جیونی پیو تے بھرا
ساڈا دل نہ رنجا
– تارا چین بدلی کوں مل دے
۔ ڈھلک ڈھلک دیڑھے آویں میڈا یار
ہریاں والا میڈا نوشہ برا
۵ توں راج مانٹیں بناں ۔

کھیل

کھیلنا ہر بچے کا فطری حق ہے ۔ تھل میں اب تو تعلیم کسی حد تک عام ہوتی جارہی ہے اور مدرسوں میں کھیلوں کو بھی منظم کر کے نصاب کا اہم حصہ بنایا جارہا ہے ۔ لوک گیت بھی بعض کھیلوں میں گائے جاتے ہیں ۔ لڑکیوں کے گیتوں میں بھائیوں کے لئے بہنوں کی محبت کا جذبہ پوری شدت سے نمایاں ہوتا ہے ۔ بہن ننھی سی بچی ہو یا جوان لڑکی ہو ، شادی شدہ ہو یا کنواری ہو یا کئی بچوں کی ماں ہو بھائی کی محبت کے پاکیزہ جذبے سے کبھی نہی دامن نہیں ہو سکتی ۔ گڑیوں کا کھیل کھیلا جا رہا ہو ، چرخہ کاتا
جا رہا ہو اور چند سہیلیاں مل کر گنگنا رہی ہوں یا چکی پیسی جارہی ہو
یا چھاچھ رڑکی جا رہی ہو یا چاندنی راتوں میں سینگیاں سہیلیاں میدانوں میں ہرنیوں کی طرح چوکڑیاں بھرتی ادھر ادھر دوڑیں لگا رہی ہوں یا کوئی بھی وقت ہو اور کوئی بھی مشغلہ ہو بہنوں کے پاس بھائی کے لئے گیت موجود ہے ۔ یہ گیت عروض و قوافی کے پابند نہیں ہوتے ۔ سیدھے سادے بول ، کچے جذبوں سے بھرے ہوئے :
چھا ڈیواں فقیراں کوں
مکھن ڈیواں ویراں کوں
گڑیا کا بیاہ رچایا جا رہا ہے ۔ ہم عمر سہیلیاں جمع ہو چکی ہیں ۔ گڈے کی بارات آیا ہی چاہتی ہے ۔ استقبالیہ پارٹی گیت پیش کریگی ۔ ” چڑھنے سے پہلے گھوٹ ( دولھا ) کو مہندی لگائی جائیگی اور ابٹنا پیش کیا جائیگا ۔ ” دھیتی ” پارٹی یہ چیزیں بڑے اہتمام سے لے جائیگی ۔ وہاں بھی استقبالیہ گیت پیش کیا جائیگا ۔

گولیوں کا کھیل

یہ کھیل شیشے ، پتھر اور مٹی کی پکی ہوئی گولیوں سے کھیلا جاتا ہے ۔ ہر کھلاڑی جتنی گولیاں چاہے کھیل میں شامل کر سکتا ہے ۔ کوئی ایک کھلاڑی سب کی گولیاں اکٹھی کر کے زمین پر پھینک دیگا ، جس کی گولی سب سے آگے ہو گی وہ کھیل شروع کریگا ۔ ایک گولی کو جسے سٹرائیکر کہہ سکتے ہیں دو انگلیوں میں پھنسا کر دوسرے ہاتھ کی انگلی سے فرش پر بکھری ہوئی گولیوں میں سے کسی کو نشانہ بنا کر ماریگا ۔ اور کوشش کریگا کہ یہ گولی پلی میں جا گرے – پلی ایک چھوٹے سے گڑھے کو کہتے ہیں جو اسی مقصد کے لئے بنا لیا جاتا ہے ۔ اس طرح وہ جتنی گولیاں پہلی میں گرا سکیگا وہ ان سب کا مالک بن جائے گا
۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں

جواب دیں

Back to top button

For copy this text contact us :thalochinews@gmail.com