تھل "ڈاکڑ مہر عبدالحق"

تھل کی لوک کہانیاں

مصنف:ڈاکڑ مہر عبدالحق

 

بڑھیا اور کوا


ایک بڑھیا بھڑ بھونجے سے چاولوں کے ” پھلے ” بھنوا کر لارہی تھی کہ کوے نے اسکی ” چنگیر میں سے ایک پھلا اچک لیا اور دور ایک ماہلی کے درخت پر جا بیٹھا ۔ بڑھیا نے کوے سے کہا ۔ کوے رے کوے پھلا دیتے ہو کہ نہ ؟ کوے نے کہا : نہ مائی نہ – بڑھیا نے کہا : اچھا ۔ میں کہوں ماہلی کو ، تمھیں اڑا دے ؟ کوبے نے کہا : ہاں ۔ بڑھیا نے مایلی سے کہا : مایلی ری مایلی ، تم کوے کو اڑاتی ہو کہ نہ : مایلی نے کہا : نہ ۔ بڑھیا نے کہا : اچھا تو میں کہوں بڑھتی سے تمہیں کاٹ ڈالے ؟ ماہلی نے کہا ہاں : بڑھیا نے بڑھئی سے کہا : بڑھتی رے بڑھتی عاملی کو کاٹو گے کہ نہ ؟ بڑھتی نے کہا : نہ مائی نہ ۔ بڑھیا نے کہا اچھا ، کہوں میں سردار سے تمہیں یہاں سے نکال دے ؟ بڑھتی نے کہا : ہاں ۔ بڑھیا نے سردار سے کہا : بڑھتی کو بستی سے نکال دو ۔ سردار نے کہا : نہ ۔ بڑھیا نے کہا : اچھا میں کہوں بیگمات سے تم سے روٹھ جائیں ؟ سردار نے کہا : ہاں بڑھیا نے کہا بیبیاں ری بیبیاں ، خان سے روٹھتی ہو کہ نہ ؟ بی بیوں نے کہا: ناں مائی ناں ۔ بڑھیا نے کہا : اچھا میں کہوں چوہوں سے تمہارے زیورات کے ڈبے ” کتر ” ڈالیں ؟ بیسیوں نے کہا : ہاں ۔ بڑھیا نے چوہوں سے کہا : چوہے رے چوہے بیسیوں کے زیورات کے ڈبے کاٹو گے کہ نہ ؟ چوہوں نے کہا : نہ مائی نہ ۔ بڑھیا نے کہا اچھا تو پھر کہوں بلیوں سے تمہیں کھا جائیں چوہوں نے کہا : ہاں ۔ بڑھیا نے بلیوں سے کہا : بلیوری بلیو ، چوہوں کو کھاؤ گی کہ : بلیوں نے کہا : نہ مائی نہ ۔ بڑھیا نے کہا : اچھا ؟ کہوں میں کتوں سے تمہیں مار ڈالیں ؟ بلیوں نے کہا : ہاں ۔ بڑھیا نے کتوں سے کہا : بلیوں کو مارو گے کہ نہ ؟ کتوں نے کہا : نہ مائی نہ ۔ بڑھیا نے کہا : اچھا کہوں میں ڈنڈوں سے تمہیں ماریں ؟ کتوں نے کہا ؛ ہاں ۔ بڑھیا نے ڈنڈوں سے کہا ؛ ڈنڈیو ، ڈنڈیو : کتوں کو مارو گے کہ نہ ؟ ڈنڈوں نے کہا : ناں مائی ناں ۔ بڑھیا د نے کہا اچھا کہوں میں آگ کو تمہیں جلا ڈالے ؟ ڈنڈوں نے کہا : ہاں ۔ بڑھیا نے آگ سے کہا آگ ری آگ ، ڈنڈوں کو جلاتی ہو کہ نہ ؟ آگ نے کہا : نہ مائی نہ ۔ بڑھیا نے کہا : اچھا کہوں میں پانی کو تمہیں بجھا دے آگ نے کہا : ہاں ۔ بڑھیا نے پانی سے کہا : پانی رے پانی ، آگ کو بجھاؤ گے کہ نہ آ پانی نے کہا : نہ مائی نہ ۔ بڑھیا نے کہا ، اچھا ، تو پھر میں کہوں ہاتھی سے تمہیں پی جائے ؟ پانی نے کہا : ہاں ، بڑھیا نے ہاتھی سے کہا : ہاتھی رے ہاتھی ، پانی پینو گے کہ نہ ؟ ہاتھی نے کہا میں پیتا ہوں ۔ پانی نے کہا مجھے نہ پیٹو میں آگ کو بجھاتی ہوں ۔ آگ نے کہا مجھے نہ بجھاؤ میں ڈنڈوں کو جلاتی ہوں ۔ ڈنڈوں نے کہا ہمیں نہ جلاؤ ہم کتوں کو مارتے ہیں ۔ کتوں نے کہا ہمیں نہ مارو ہم بلیوں کو مار ڈالیں گے ۔ بلیوں نے کہا ہمیں نہ مار ڈالو ہم چوہوں کو کھا جائینگی ۔ چوہوں نے کہا ہمیں نہ کھاؤ ہم بیبیوں کے زیوارت کے ڈبے کتر ڈالیں گے ۔ بیسیوں نے کہا ہمارے ڈبے نہ کتر ڈالو ہم سردار سے روٹھ جائینگی ۔ سردار نے کہا مجھ سے نہ روٹھو میں بڑھتی کو نکال دوں گا ۔ بڑھتی نے کہا مجھے نہ نکالو میں ماہیلی کو کاٹ ڈالتا ہوں ۔ ماہلی نے کہا مجھے نہ اپنا بھلا لے کر چلی گئی گھر ، قصہ گیا جھرا کاٹو میں کوئے کو اڑتی ہوں ۔ کوے نے کہا : مجھے نہ اڑاؤ – بی بڑھیا ، یہ لو اپنا پچھلا ! بڑھیا

 

بادشاہ اور سات بیٹیاں


ایک تھا بادشاہ ۔ بادشاہ آپ اللہ ہے ، یہ ” ٹوٹے پلے ” زمین کا بادشاہ تھا ۔ بادشاہوں کے ہاں کس چیز کی کمی ہوتی ہے ؟ مال خزانے ، نوکر چاکر ، ہر چیز عام تام – جس کو چاہیں امر بنا دیں ۔ جس کو چاہیں فقیر کر دیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ اس بادشاہ کی سات بیٹیاں تھیں ۔ ایک سے ایک بڑھ کر حسین اور دانا ، لیکن سب سے چھوٹی شہزادی . سب سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ عقلمند تھی ۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی سب بیٹیوں کو بلا کر باری باری ہر ایک سے پوچھا : میں تمھیں کتنا پیارا لگتا ہوں ؟ بڑی نے کہا : شہد کی طرح ، دوسری نے کہا شکر کی طرح ، تیسری نے کہا دودھ مکھن کی طرح چوتھی نے کہا گڑ کی طرح ، پانچویں نے کہا کوزی مصری کی طرح ، چھٹی نے کہا مٹھائی کی طرح ، ساتویں سب سے چھوٹی خاموش تھی ۔ سب اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ کہ یہ کیا کہیگی ! بادشاہ بولا : ہاں بھئی تم بھی تو بولو میں تمہیں کس چیز کی طرح پیارا لگتا ہوں چھوٹی شہزادی نے نہایت ادب سے کہا : ابو ! آپ مجھے نمک کی طرح پیارے لگتے ہیں ۔ بادشاہ بھڑک اٹھا : کیا کہا ؟ نمک کی طرح ؟ نکال دو اسے محلات سے اور ایسی جگہ چھوڑ آؤ جہاں بارہ بارہ کوس تک ہر طرف ویرانہ ہو ! بادشاہ کے حکم کی فوراً تعمیل کی گئی ۔ ایک بوڑھا وفادار نوکر شہزادی کے ساتھ تھا ۔ شہزادی نے گلے کے بار سے کچھ موتی نکال کر اسے دیئے کہ کہیں سے کھانے پینے کی چیزیں خرید لاؤ ۔ ایک کدال بھی لانا ، زمین کھود کر فصل بھی اگائیں گے اور جھونپڑی بھی ڈال لینگے ۔ نوکر سامان لے آیا ۔ ایک ٹیلے کا انتخاب کیا گیا کہ یہاں جھونپڑی بنائیں گے ۔ نوکر نے ایک جگہ کدال کی ضرب لگائی تو وہاں سے بہت بڑا خزانہ نکل آیا ۔ شہزادی نے جھونپڑی کی بجائے ایک بہت بڑا محل تعمیر کرا لیا ۔ اپنے باپ کے محل سے بھی بڑا ۔ پھر بہت سے نوکر چاکر ہاتھی گھوڑے مہیا کر لئے اور شاہانہ ٹھاٹھ سے رہنے لگی ۔ بادشاہ اسے بھول بھلا چکا تھا ۔ اسے یقین تھا کہ جنگلی جانور اسے کھا گئے ہوں گے ۔ شہزادی کی شان و شوکت کے قصے ہر طرف پھیل گئے ۔ بادشاہ کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ اتنی ہر دلعزیز شہزادی کون ہے ؟ شہزادی نے بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیا ۔ سینکڑوں قسم کے کھانے پکوائے لیکن باورچیوں کو حکم دیا کہ ہر کھانا میٹھا ہو ۔ کوئی ایک چیز بھی دسترخوان پر نمکین نہ آنے پائے ۔ بادشاہ کے سامنے سینکڑوں اقسام کے کھانے چن دیئے گئے ۔ ایک سے ایک میٹھا ۔ کسی میں شہد ، کسی میں کوزہ مصری ، کسی میں گڑ ، کسی میں شکر اور وہ بھی اتنی مقدار میں کہ مٹھاس سے ہونٹ مل جائیں ۔ بادشاہ نے پانی مانگا تو شربت پیش کیا گیا ۔ سخت پریشان ہوا ۔ نمکین چیز ایک بھی نہیں تھی ۔ گوشت بھی میٹھا ، دال بھی میٹھی ۔ سبزیاں بھی میٹھی ، یہاں تک کہ چٹنی بھی میٹھی تھی ۔ بادشاہ نمک کے لئے تڑپ اٹھا تو شہزادی سامنے آگئی ۔ اسنے کہا : ابومیں آپکو نہ کہتی تھی کہ آپ مجھے نمک کی طرح پیارے ہیں !
بادشاہ اپنی بیٹی کی عقلمندی پر بہت خوش ہوا ۔ کچی بات بظاہر کڑوی لگتی ہے لیکن بالا آخر اپنی اصلیت کو منوا کر رہتی ہے اور جھوٹ ایک نہ ایک دن ظاہر ہو جاتا ہے

سسی پنوں کی کہانی

صدیوں پرانی بات ہے ۔ راجہ دلو رائے کی نگری آباد تھی ۔ جام پور سے چھ میل کے فاصلے پر شاہن والا کے گاؤں میں اس نگری کے آثار اب بھی موجود ہیں ۔ بادشاہ آپ اللہ ہے ۔ دلو رائے اس ٹوٹے پہلے زمین کا بادشاہ تھا ۔ اللہ کا دیا سب کچھ عام تھا ۔ ہیرے ، موتی ، لال جواہر ، مال مویشی ، کسی چیز کی کمی نہیں تھی ۔ لوگ بھی آسودہ حال تھے لیکن سارے ملک کی فضا اداس اداس سی لگتی تھی کیونکہ بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی ۔ تخت بخت لاوارث دکھائی دے رہا تھا ۔ اولاد کی چاہت میں بادشاہ اور ملکہ نے کوئی دوا دارو اور کوئی ٹونا ٹوٹکا نہ چھوڑا تھا ۔ ہوتا وہی ہے جو رب کو منظور ہوتا ہے ۔ ان کی قسمت میں کچھ اور ہی ماجرا لکھا تھا ۔ آخری عمر میں ان کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہو گئی ۔ لڑکی بھی ایسی کہ جس کے حسن کے آگے چاند تارے بھی شرمائیں ۔ چندے آفتاب چندے ماہتاب ! دستور کے مطابق نجومی اور رمال منگوائے گئے کہ حساب لگا کر معصوم بچی کی قسمت کا لکھا بتائیں – رمالوں نے پانسے پھینکے ، نجومیوں نے ستاروں کی چالیں دیکھیں جوتشیوں نے حساب لگائے اور پھر سب اداسی میں سر جھکا کر بیٹھ گئے ۔ ” بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤں تو عرض کروں ” بڑے جوتشی نے کہا ۔ ” ہم سب ایک ہی نتیجے پر پہنچے ہیں ” بادشاہ نے کہا جو کچھ تمہارا علم کہتا ہے صاف صاف بتا دو ۔ تقدیر کا لکھا کوئی نہیں مٹا سکتا ۔ جوتشی نے عرض کیا : ” جہاں پناہ ! آپکی چاند تاروں سے بھی زیادہ حسین بیٹی کے ستارے سخت منحوس ہیں ۔ اس بچی کا وجود آپکی اور ملکہ کی ذات کیلئے راجدھانی کیلئے اور ساری رعیت اور مخلوق کیلئے تباہی اور بربادی کا باعث بنیگا ، لہذا جتنا جلدی ہو سکے اس سے اپنی جان چھڑاؤ اور خلقت کو بھی اسکی نحوست سے بچاؤ ” جوتشی کی بات سن کر سب درباری سکتے میں آگئے ۔ اس نحوست سے کیسے نجات حاصل کی جائے ۔ ایک نے کہا اسے زمین میں زندہ گاڑ دو ۔ دوسرے نے کہا اس کا گلا گھونٹ دو ۔ تیسرے نے کہا اسے درندوں کے آگے پھینک دو ۔ کسی نے تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کا مشورہ دیا ۔ کسی نے زہر کھلا دینے کی صلاح دی ۔ جتنے منہہ اتنی باتیں ۔ ایک بوڑھے وزیر نے کہا بھئی یہ بھی تو آخر جیتا جی ہے ۔ اللہ کی مخلوق ہے ۔ اسے اپنے ہاتھوں سے کیوں مارتے ہو اسے ایک صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دو ۔ زندگی ہو گی تو بچ نکلیگی ورنہ دریائی جانوروں کا لقمہ بن جائیگی ۔ بادشاہ کو یہ آخری تجویز پسند آگئی ۔ چنانچہ ایک ایسا صندوق بنوایا گیا جس کے اندر پانی نہ جا سکتا تھا ۔ اس میں اس نوزائیدہ بچی کو لٹا دیا گیا اور ساتھ ہی کچھ ہیرے رکھ دیئے گئے اور پھر اسے دریا کی منجدھار میں بہا دیا گیا ۔ دلورائے کی نگری سے بہت دور بھنبھور شہر کے قریب ایک دھوبی دریا کے گھاٹ پر کھڑا کپڑے دھو رہا تھا ۔ اس نے صندوق کو پکڑ لیا ۔ کنارے پر اگر اس نے صندوق کھول کر دیکھا تو ایک جیتی جاگتی خوبصورت ہی بچی انگوٹھا چوستی نظر آئی جس کے پاس کچھ لعل جواہرات بھی پڑے تھے ۔ اس کے بھی کوئی اولاد نہ تھی ۔ خوش ہو گیا ۔ قسمت جاگ اٹھی تھی ۔ قدرت نے بچہ بھی از غیب دے دیا تھا ۔ اور دولت بھی عطا کر
دی تھی ۔ اس کی بیوی نے بھی بچی کو سینے سے لگالیا ۔ اس کی بامتا جاگ اٹھی ۔
قادر دل دھیائی رے واہ مہر دا مینہہ وسایا اڈ پنگھوڑا پا کسی کوں سچوں بہہ لڑایاما بنی دھیانڑیں اوندی لولی من پر چایا اکبر شاہ تقدیر تماشا کیویں کر ڈکھلایا دھوبی کا نام آتا تھا ۔ کسی چودہ سال آتا دھوبی کے گھر چلتی رہی ۔ اس کے حسن سلیقہ شعاری اور اعلیٰ اخلاق کی دھوم دور دراز تک پہنچ گئی ۔ بڑے بڑے رئیس امیر اور شہزادے شادی کے پیغام بھجوانے لگے تو آتا دھوبی نے کہا میں کسی کو اپنے سے جدا کبھی نہیں کروں گا ۔ جو کوئی میرے گھر کو اپنا گھر بنا لیگا ، میرے کاروبار کو ترقی دیگا اور میرے ہاں گھر داماد بن کر رہیگا میں کسی کا بازو بھی اسی کے ہاتھ میں دوں گا اور اس کے مال خزانے کا مالک بھی وہی بنیگا ۔ کسی نے ایک بڑا خوبصورت سا باغ لگوا لیا تھا جس میں ہر قسم کے پھول اور پھلدار درخت موجود تھے وہ سارا دن اپنی سہیلیوں کے ساتھ اس باغ میں دل بہلاتی تھی ۔ ایک دن اتفاق سے کیچ کے سوداگروں کا قافلہ اس کے باغ میں اترا ۔ یہ سوداگر بڑے ٹھاٹھ باٹھ والے تھے ۔ باتوں باتوں میں انہوں نے اپنے سردار پنوں خان کے حسن و جمال کی ایسی بڑھ چڑھ کر تعریقیں کیں کہ کسی کے دل میں اشتیاق کی آگ بھریک اٹھی ۔ اس نے بہانہ بنایا کہ قافلے والوں کے جانوروں نے باغ کا اجاڑا کر دیا ہے ۔ ۔ اور یہ الزام لگا کر قافلہ والوں کو قید کر دیا ۔ قافلے کے سردار نے پنوں خان کے والد عالی خان کو پیغام بھیجا کہ جب تک پنوں خان بھنبھور نہیں پہنچنگا ان کی خلاصی نہیں ہو گی ۔ عالی مجبور ہو گیا ۔ اس نے سوداگروں کے ایک اور قافلے کے ساتھ پنوں کو بھیج دیا ۔ راستے میں ان سوداگروں نے پنوں خان کے سامنے کسی کے حسن و جمال اور سیرت و کردار کی ایسی تعریفیں کیں کہ پنوں خان کسی کو بن دیکھے دل دےبیٹھا ۔پنوں خان بھنجور پہنچ گیا ۔ کسی سے آنکھیں چار ہوئیں ۔ دونو نے ایک دوسرے کے بارے میں جو سنا تھا اس سے کہیں زیادہ حسن و خوبی میں پایا ۔ پنوں خان نے آتا دھوبی کی تمام شرطیں مان لیں ۔ کیچ کا والی دھوبی بن گیا ۔ ہوت بلوچوں کے ماتھے پر بل پڑ گئے ۔ عالی خان سردار کو کیا جواب دیں گے ۔ تقدیر ہنس پڑی !
بلوچوں نے منصوبہ بنایا کہ پنوں کو بے ہوش کر کے اٹھا لیا جائے ، منت سماجت یا دھمکیوں سے بات نہیں بنیگی ۔ انہیں اپنی قید کا بھی بدلہ لینا تھا ۔ موقع پاکر انہوں نے بیہوشی کی دوائی شربت میں گھول کر پلا دی ۔ کسی کو اونگھ آگئی ۔ اس کی بدبختی کے ستارے جاگ رہے تھے ! بلوچوں نے بیہوش پنوں کو باندھ کر اونٹ پر لاد لیا
اور تیز رفتاری سے کیچ کی طرف روانہ ہو پڑے ۔علی الصبح آنکھ کھلی تو کسی کی دنیا اجڑ چکی تھی ۔ رنگ محل برباد ہو چکے تھے ۔ ہوائیں سسکیاں بھر رہی تھیں ۔ بلوچوں نے اب تو واقعی باغ اجاڑ دیا تھا کسی کے دل و دماغ پر بجلی سی گر پڑی ۔ عشق نے فیصلہ کر لیا کہ جدھر سر کا والی گیا ہے ادھر سر بھی چلا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ تھل مارو کے بے آب و گیاہ ریگستانوں کو عبور کر کے بھی محبوب کو جاملوں گی ۔ تپتی ریت ، گرم لو ، تنہائی سفر اور سینکڑوں کوس لمبی مسافت کی صعوبتوں کو برداشت کروں گی اور جبتک سانس باقی ہے تلاش یار کی جدوجہد میں کمی نہ آنے دوں گی ۔ دھکے دھوڑ نے کھاؤں گی لیکن سجن سے منہہ نہ موڑوں گی ۔ ماں باپ نے نصیحتیں کیں ، محلے داروں نے منع کیا سہیلیوں نے سمجھایا لیکن دل نے جو فیصلہ کیا تھا وہ اٹل تھا ۔کسی دیوانہ وار تھل کے نامہربان ٹیلوں کے اندر گھس گئی ۔ نوکدار کنکریوں نے پاؤں زخمی کر دیئے ۔ زبان پیاس سے سوکھ گئی ۔ تن بدن جھلس گیا ۔ ان دیکھے راہوں پر ” ہکلاں کو کڑیاں ” مارتی چلتی رہی ، نہ دن کو چین نہ رات کو آرام ، متواتر اور مسلسل چلتی رہی ۔ ایک مقام ایک چرواہا نظر آیا ۔ اس سے ایک گھونٹ پانی کا مانگا اور پوچھا : ادھر سے کوئی اونٹ گزرے ہوں تو بتا دو وہ کس طرف کو گئے ہیں ۔ چرواہا پہلے تو حیران ہو گیا کہ صحراؤں میں سے گزر کر یہ کیسے یہاں زندہ و سلامت پہنچی ہے ۔ پھر اس کی نیت میں فرق آگیا ۔ کسی نے یہ رنگ دیکھا تو پیاس اور سفر کی تکان سب بھول گئی اور دوڑ پڑی ۔ میرے مولا تو ہے عزت کا رکھوالا ۔ میرے عشق کی لاج رکھنیو اور مجھے اس نئی آفت سے بچا لیجو ۔ ابھی آخری کلمات زبان پر ہی تھے کہ زمین شق ہو گئی اور سی اس کے اندر سما گئی ۔ اس کے دوپٹے کے پلو کا تھوڑا سا حصہ باہر رہ گیا – پنوں کا نشہ اترا ۔ حقیقت حال معلوم ہوئی ۔ بھائی بندوں نے سخت پہرہ لگا رکھا تھا ۔ ایک دن موقع مل گیا تو یہ بھی بھنبھور کا رخ کر کے ریگزاروں کی طر کی طرف دوڑ پڑا ۔ راستے میں وہی چرواہا مل گیا ۔ اس نے ساری حقیقت کہہ سنائی اور اسے اس جگہ لے آیا جہاں دھرتی نے کسی کیلئے اپنا سمینہ کھول دیا تھا ۔ پنوں نے دوپٹے کے پلو کو پہچان لیا ۔ ایک دلدوز چیخ ماری ۔ دھرتی نے پھر اپنا سمینہ کھول دیا اور دو قالب ایک جان ہو کراس میں سما گئے ۔ عشق نے کہا : تھل مارد دا سارا پنیڈا تصمیم بک پلھانگ !

مومل میندھرا

ایک تھا بادشاہ ۔ بادشاہ آپ اللہ ہے ، وہ ” ٹوٹے پہلے ” زمین کا بادشاہ تھا ۔ ویسے تو بادشاہوں کے ہاں کی چیز کی کمی نہیں ہوتی مگر اس بادشاہ نے بے حد وحساب خزانے جمع کر لئے تھے ۔ اسے دن رات یہی دھڑکا لگا رہتا کہ کوئی غنیم اگر اس کے خزانے لوٹ لیگا ۔ خزانے کو محفوظ رکھنے کے لئے اس نے ایک عالی شان محل تعمیر کروایا جس کے چاروں طرف ٹھاٹھیں مارتا دریا بہتا تھا ۔ اس دریا کا نام تھا ” کاک ندی ” بڑے بڑے تیراک بھی اسکی مواج لہروں کو دیکھ کر گھبرا جاتے تھے ۔ کسی کو اس کے پار اترنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا ۔ بادشاہ قضائے الہی سے مر گیا ۔ اس کے کوئی بیٹا نہیں تھا ۔ اکلوتی بیٹی مومل تھی جو تخت اور تاج اور محلات اور مال خزانوں کی مالک بنی ۔ حسن میں پریوں کو شرماتی تھی ۔ عقلمندی میں بھی بے مثال تھی ۔ اس نے اعلان کرا دیا کہ میں ایک طلسم بناؤں گی ، جو کوئی میرے طلسم کو توڑ دیگا میں اس سے شادی کروں گی اور یہ محلات اور مال خزانے بھی اسی کے ہوں گے ۔ اس کے حسن کا چرچا تو پہلے ہی ہر جگہ ہو چکا تھا اب اسکی عقلمندی کی دھوم مچ گئی ۔ بڑے بڑے شہزادوں اور دلاوروں نے قسمت آزمائی کرنی چاہی لیکن پہلے تو خوفناک کاک ندی کی آدم خور لہروں کو دیکھ کر اکثروں کے حوصلے پست ہو جاتے پھر اگر کوئی ہمت کر کے اسے پار کر لیتا تو محل کےبڑے دروازے جو دو طلسمی شیر بٹھا رکھے گئے تھے ان کی بہت سے کوئی آگے قدم بڑھانے کی جرات نہ کرتا تھا ۔ کوئی ہتھیلی پر جان رکھکر یہاں سے بھی گزر جاتا تو آگے استقبالیہ کمرے میں سات پلنگ رکھے تھے جن کی وضع قطع بالکل ایک جیسی تھی اور ان پر بہتر استراحت بھی ایک ہی رنگ کے بیچھے تھے ۔ ان میں سے صرف ایک پلنگ ایسا تھا جس پر بیٹھا جا سکتا تھا ۔ باقی چھ کچھ سوت سے بنے گئے تھے اور ان کے نیچے ایک عمیق گڑھا تھا
جس کی نہ میں تیز دو دھاری تلوار میں اور نیزے اور برچھیاں گاڑ دی گئی تھیں ۔ ہمیر سمرا وقت کا بادشاہ ، اپنے امیروں وزیروں کے ساتھ شکار کھیلتا پھرتا تھا ۔ راستے میں ایک سیلانی فقیر سے ملاقات ہو گئی ۔ اس نے مومل کے حسن ، مال دولت اور طلسم کا حال سنایا ۔ بادشاہ کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا ۔ وزیروں امیروں کے ساتھ ، جن میں اس کا برادر نسبتی میندھرا بھی تھا ، وہ کاک ندی کی طرف چل پڑا ۔ یہ لوگ ابھی محل سے دور ہی تھے کہ مومل کو ان کی ادھر روانگی کا علم ہو گیا ۔ اس نے اپنی ملازمہ کو بھیجا کہ ان لوگوں کے سردار کو ادھر لے آؤ ۔ باندی بڑی چھالاک تھی ۔ ہمیر کو ساتھ لے کر چلی مگر راستے ہی میں غائب ہو گئی ۔ ہمیر طلسمی ندی کی چھولیاں دیکھ کر گھبرا گیا اور واپس آگیا ۔ اگلے دن باندی بڑے وزیر کو ساتھ لے گئی لیکن راستے ہی میں چکمہ دے کر غائب ہو گئی ۔ وزیر بھی مایوسی کے عالم میں واپس آگیا ۔ کئی دن تک یہی کچھ ہوتا رہا ۔ سب امیر وزیر ہمت ہار بیٹھے اور ناکام پلٹ آئے ، آخر میندھرا کی باری آگئی ۔ اس نے سوچا کہ یہ باندی بھی تو ہر روز ندی عبور کر کے آتی ہے اور عجیب بات ہے کہ اس کے کپڑے تک گیلے نہیں ہوتے ۔ آخر اس میں کیا راز ہے ؟ باندی کے آنے سے پہلے وہ کاک ندی کے گھاٹ پر پہنچا ۔ ایک جگہ چھپ گیا اور گھاٹ کی طرف دیکھتا رہا ۔ کچھ دیر کے بعد اس نے دیکھا کہ باندی محل سے باہر نکلی ہے ۔ اس نے پانی کو ہڈی کی طرح کی کسی چیز سے چھوا ہے ۔ ندی پھٹ گئی ہے اور بالکل خشک راستہ سا پیدا ہو گیا ہے ۔ باندی کسی رکاوٹ کے بغیر اس پار آگئی ہے ۔ میندھرا اس کے رو برو آگیا ۔ اس نے سوچا اس سے ہڈی چھین لینا مناسب نہیں ہے ۔ یوں کیا جائے کہ باندی کو اپنے پیچھے رکھا جائے آگے نہ بڑھنے دیا جائے ۔ پیچھے رہیگی تو راستہ خود بخود بنتا چلا جائیگا اور یہ غائب بھی نہ ہو سکیگی ۔ اس نے تحکمانہ لہجے میں باندی سے کہا : دیکھو میرے پیچھے چلو
، باندیاں سرداروں سے آگے بڑھ کر نہیں چلا کر تہیں ۔ باندی مجبور ہو گئی ۔ دریا پھٹتا اور راستہ بنتا چلا گیا دونو دریا پار کر کے محل تک پہنچ گئے ۔ دروازے پر دو خوفناک شہر دیکھ کر کر میندھرا پہلے تو گھبرا گیا پھر سوچا کہ اگر شیر اصلی ہوتے تو باندی کو نہ کھا جاتے ، ضرور یہ نقلی پہنچ گیاہیں ۔ اس نے اپنا نیزہ ایک شیر کے سر پر مارا تو وہ تانبے پتیل کے برتن کی طرح بج اٹھا بے خوف ہو کر محل کے اندر ؟ یہاں استقبالیہ کمرے میں ایک ہی وضع قطع کے رنگین پلنگ رکھتے تھے ۔ جن پر ایک ہی طرح کے بستر بچھے ہوئے تھے ۔ اس نےسات رسوچا یہاں بھی کوئی دھوکا ہے ۔ بیٹھنے کو تو ایک ہی پلنگ ہونا چاہئیے ، یہاں سات کیوں رکھے ہیں ۔ اپنے نیزے سے اس نے ایک پلنگ کو کچوکا دیا تو اس کے کچے دھاگے ٹوٹ گئے اور نیچے خوفناک غار نظر آگیا ۔ اس نے باری باری تمام دھوکا دینے والے پلنگوں کو توڑ ڈالا اور اصلی پلنگ پر بیٹھ گیا ۔ مومل یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔ وہ اپنی شرائط ہار چکی تھی ۔ اس کا طلسم ٹوٹ چکا تھا ۔ وہ اب میندھرا کی تھی ۔ محلات بھی میندھرا کے تھے اور مال خزانے بھی ۔ نکاح ہو گیا تو میندھرا نے مومل سے رخصت چاہی کہ بادشاہ کو اپنی کامیابی کا حال سنا آؤں ۔ بادشاہ اور دوستوں نے بڑی دلچسپی سے واقعات سنے ۔ بادشاہ نے کہا ہمیں بھی تو اپنی دلہن کا دیدار کراؤ ۔ میندھرا نے کہا کیوں نہیں ۔ لیکن آپکو بھیں بدل کر جانا ہو گا ۔ بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے ۔ میندھرا نے اسے عام چرواہے کا لباس پہنا دیا اور دلہن سے ملوا لایا ۔ بادشاہ کے دل میں اپنی ناکامی اور میندھرا کی کامیابی سے ایک حسد پیدا ہو چکا تھا ۔ اس نے بظاہر یہ الزام لگا کر کہ تم نے مجھے چرواہے کا لباس پہنا کر مری توہین کی ہے اسے قید کر دیا ۔ اس غریب پر مومل سے ملاقات کے دروازے بند ہو گئے ۔ ادھر مومل بھی فراق میں تڑپنے لگی ۔ دونو کا صبر و قرار جاتا رہا ۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا بے چینی بڑھ رہی تھی ۔ ملاقات ملاقات کی کوئی صورت پیدا نہ ہو رہی تھی ۔ آخر ایک رات محافظوں کے گھیر کو توڑ کر میندھرا نکل بھاگا ۔ لیکن تقدیر کا لکھا کون مٹا سکتا ہے ۔ اندھیرے میں شب خوابی کے کمرے میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ مومل کے بستر پر کوئی اور آدمی سو رہا ہے ۔ ۔ پیروں تلے کی زمین نکل گئی ۔ غم کا پہاڑ سر پر ٹوٹ پڑا ۔ حقیقت حال معلوم کئے بغیر الٹے پاؤں واپس آگیا اور تہیہ کر لیا کہ باقی زندگی غم و اندوہ میں گھلتے رہنے میں گزار دوں گا ۔ جذبات اندھے ہوتے ہیں ۔ ان میں شدت آجائے تو عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے ۔ ہوا یہ تھا کہ مومل بچاری فراق کی ماری نے غم غلط کرنے کیلئے اپنی ایک سہیلی سومل کو مردانہ لباس پہنا کر اپنے پلنگ پر لٹا دیا تھا ۔ میندھرا پہنچا تو غلط فہمی کا شکار ہو گیا ۔ اگلے دن مومل کو میندھرا کے محل میں آنے اور غم و غصہ میں واپس چلے جانے کا علم ہو گیا ۔ اس نے غلط فہمی دور کرنے کی لاکھ کوشش کی لیکن میندھرا کے دل میں جو شک پیدا ہو گیا تھا وہ دور نہ ہوا ۔ تنگ اگر مومل نے محلات چھوڑ دیئے اور میندھرا کے شہر آگئی یہاں اس نے میندھرا کے محل کے سامنے ایک محل تعمیر کروایا جس کی کھڑکیاں میندھرا کے محل کی طرف کھلتی تھیں ۔ مومل نے سوچا تھا کہ اور نہیں تو محبوب کا دیدار ہی ہو جایا کریگا ، پر میندھرا بھی اپنی بٹ کا پکا تھا ۔ اس نے کھڑکیوں کے آگے دیوار کھڑی کر دی ۔ مومل نے دوسری طرف سے ایک اور محل بنوایا لیکن میندھرا نے پھر دیوار کھڑی کر دی ۔ مومل نے ہر طرف سے محل تعمیر کوائے لیکن میندھرا نے بھی ہر طرف سے دیوار میں بنوا ڈالیں ۔ آخری بار مومل کے دل سے ایک چیخ نکلی ۔ سینہ پھٹ گیا اور مریض عشق نے صداقت کے حضور جان کا نذرانہ پیش کر دیا ، ادھرمیندھرا پر بھی اصلیت کھل گئی اس کے سینے سے بھی ایک شیخ نکلی اور وہ بھی ختم ہو گیا ۔ مومل اور میندھرا کے ” است ماڈ ” داستان غم سنانے کیلئے باقی رہ گئے ۔

یہ بھی پڑھیں

جواب دیں

Back to top button

For copy this text contact us :thalochinews@gmail.com