تھل "ڈاکڑ مہر عبدالحق"

تھل کی جدید تاریخ

مصنف:ڈاکڑ مہر عبدالحق

آج سے ۲۳۰۰ سال پہلے پامیر کی پہاڑیوں سے شروع ہو کر گوادر تک پھیلی ہوئی وادی سندھ کا یہ مرکزی علاقہ تاریخ عالم کو حب وطن عسکری اور سیاسی تدبر اور جہانبانی اور جہانداری کے انمٹ نقوش مہیا کر رہا تھا ، جیسا کے آپ سابقہ ابواب میں پڑھ چکے ہیں لیکن آج اسکی اپنی تاریخ لکھنے کے لئے بھی ہمیں چھ مختلف اضلاع کی تاریخ میں مواد لینا پڑیگا اور وہ بھی صرف انگریزی دور میں مرتب کئے جانے والی گزیٹیرز کو سامنے رکھکرکیونکہ اس کے سوا ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں ۔ یہاں تک کہ سینه به سینه منتقل ہوتے رہنے والی روایات بھی کمیاب ہیں اور تاریخی یا نیم تاریخی یا دیو مالائی قصے یا مراثیوں کی یادداشتیں تو گویا رواج سے ہی خارج ہو چکی ہیں ۔جو حوالے دستیاب ہیں ان کی رو سے تھل کی تاریخ بھکر ، لیا ، دیره اسمعیل خان اور دیرہ غازی خان کے ملکی اور سیاسی حالات سے براہ راست منسلک ہے ۔ اس علاقے میں بلوچوں کے وسیع پیمانے پر آباد ہو جانے کا ذکر ہمیں سب سے پہلے تاریخ فرشتہ میں ملتا ہے ۔ ایک فلمی کتابچے میں بھی تفصیل دی گئی تھی ، مہتم بندوبست ملکر صاحب نے اس کتابچے کو اپنی رپورٹ میں شامل کر لیا ۔ ان مآخذ کے مطابق ۱۳۰۹ – ( ۸۷۲ ہجری )میں قطب الدین لنگاہ کے بیٹے سلطان حسین خان نے ملتان کی حکمرانی سنبھال لی ۔ اس کے قبضے میں ایک طرف چنیوٹ اور شورکوٹ کے قلعے تھے تو دوسری طرف کروٹ لال عیسن اور دین کوٹ کے قلعے تھے ۔ ( دین کوٹ کالا باغ کے قریب ہے ) ۔ ان دنوں ملتان پر پہاڑی ڈاکوؤں کے حملے مصیبت بنے ہوئے تھے ۔ دودی سردار ملک سہراب نے اپنے بیٹوں اسمعیل خان اور فتح خان اور قبیلے کے چند دوسرے لوگوں کے ساتھ اگر سلطان حسین لنگاہ کی ملازمت اختیار کر لی تھی ۔
سلطان ان دودی سرداروں کی آمد پر بہت خوش ہوا کیونکہ ان کی مدد سے پہاڑی ڈاکوؤں کی یلغار کا سد باب کیا جاسکتا تھا ۔ اس ” مصلحت کے تحت اس نے کروڑلال عین سے لیکر دین کوٹ تک کا علاقہ ملک سہراب کے حوالے کر دیا ۔ ملک سہراب نے کیچ مکران کی طرف سے مر سے مزید بلوچ قبائل بھی بلوا لئے اور انہیں دریائے سندھ کے کناروں کے ساتھ ساتھ اراضیات دے کر پھیلا دیا ۔ ان دو دائیوں نے محنت کر کے بنجر زمینوں کو آباد کر کے شاہی خزانے کو بھر دیا اور اپنے آپ کو بھی خوشحال اور مضبوط بنا لیا ۔ ان کی بہادریوں کے کارنامے اتنے مشہور ہو گئے کہ پہاڑی ڈاکوؤں کو ادھر آنے کی جرات ہی نہ ہوئی ۔ ملک سہراب کے حسن انتظام سے متاثر ہو کر حاجی خان بھی اپنے بیٹے غازی خان اور قبیلے کے دوسرے لوگوں کو لے کر پہنچ گیا ۔ جب دریائے سندھ کے کناروں پر ان لوگوں کا مکمل تسلط ہو گیا تو ملک سہراب اور حاجی خان نے اپنے بیٹوں اسمعیل خان ، فتح خان اور غازی خان کے نام سے تین ” دیروں ” کی بنیاد رکھی اور اس طرح ایک مضبوط ہےسیاسی حلقہ قائم ہو گیا ۔ مشہور مورخ فرشتہ بھی اس تاریخی حقیقت کی تائید کرتا . قبائلی رواج کے مطابق حاکم وقت کو حکومت کے اصل بانی کا نام دیا جاتا تھا ۔ چنانچہ دیرہ اسمعیل خان کے ہر آنے والے حاکم کو اسمعیل خان اور دیرہ غازی خان کے ہر آنے والے حاکم کو یکے بعد دیگرے غازی خان اور حاجی خان کہا جانے لگا ۔ سوا سو سال بعد ۱۵۴۰ءمیں جب شہنشاہ شیر شاہ بھیرے اور خوشاب کے دورے پر آیا اور اس نے جنوب مغرب کے ان سرداروں سے اطاعت لینا چاہی تو تینوں دودی سردار یعنی اسمعیل خان ، فتح خان اور غازی خان حاضر ہوئے یہ سردار اصل بانیوں کی اولاد میں سے تھے ۔ چونکہ رواج کے مطابق ان کے نام وہی تھے جو اصل بانیوں کے تھے ۔ اس لئے تاریخ کے طلبہ کومغالطہ ہو جاتا ہے ۔ دیرہ غازی خان میں غازی خان کے مقبرے پر اسکی وفات کی جو تاریخ لکھی ہے یعنی ۱۴۹۴۔ اس سے یہ مغالطہ دور ہو جاتا ہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پہلا غازی خان ۱۴۹۴ء تک حاکم رہا ۔ اس کے بعد دوسرے غازی خان اور اسمعیل خان وغیرہ حاکم ہوتے رہے ۔ تاریخی شواہد سے ثابت کہ ان علاقوں میں آباد ہونے والے لوگ دو بڑے قبیلوں پر مشتمل تھے لیکن ابتدا یہ ایک ہی خاندان ” دودی ” کی شاخیں تھیں ۔ بعد میں دودی کا لفظ گر گیا اور دیرہ غازی خان کے دودی میرانی صرف میرانی اور دیرہ اسمعیل خان کے دودی ہوت صرف ہوت کہلانے لگے ۔
بلوچوں کے روایات کے مطابق دودی بلوچ نسلی اعتبار سے خالص بلوچ نہیں ہیں کیونکہ یہ سمرا – سماتھا کی اولاد ہیں ” سمرا ۔ ساتھا ” کی اصل اولاد اس وقت لیہ میں موجود ہے ۔ واضح رہے کہ ساتھا کسی شخص کا ذاتی نام نہیں ہے ۔ اس لفظ کے معنے ہیں خاندان ، ساتھ ، سنگت ، قوم ، قبیلہ ، ٹولا وغیرہ ۔ سمہ ایک اور قوم ہے اس کے ساتھ بھی یہ لفظ لگایا گیا ہے ۔ یعنی سمہ ساتھا جو بدل کر سمہ سٹہ ہو گیا ۔ اسی طرح سمرا بھی کسی واحد کا ذاتی نام نہیں بلکہ ایک پوری قوم کا نام ہے ۔ تاریخ میں سمرا ساتھا کے آزاد اور خود مختار بادشاہوں کی فہرستیں مستند حوالوں سے دی گئی ہیں ۔ ان میں پندرھویں نمبر پر اسد الملت سلطان دو دو شہید کا نام ملتا ہے ۔ سندھی زبان میں دودا کے معنے پہلوان ، خوبصورت طاقتور نوجوان ، اور بہادر شخص کے ہیں ۔ تھل کا مشہور پہلوانی کھیل ” دودا بھی اس نسبت ۔ سے دودا کہلاتا ہے ۔ سمرا خاندان کا آخری بادشاہ ، ہمیر بہاء الدین کو بھی انہی معنوں میں دودو کہا گیا ہے ۔ سمرا خاندان کے بادشاہ دودو چہارم نے ایک بلوچ سردار کی بیٹی سے شادی کی ۔ اس بلوچی سے جو اولاد ہوئی دودی کہلائی ۔ ضلع دیرہ غازی خان کے گزیشیر میں لکھا ہے کہ سمرا اور رند بلوچ کے ملاپ سے دوری قبیلہ وجود میں آیا
( صفحه ۲۱) بلوچوں کے روایت کے مطابق خالص بلوچ قبیلے صرف پانچ ہیں : 1 – رند ، ۲ – شاری ، ۳ – هوت ، ۴ – کرائی ، اور ۵ – جتوئی ، ان کے نام ان کے مورث اعلیٰ میر جلالن کے چار بیٹوں اور ایک بیٹی کے نام پر رکھے گئے ہیں ۔ دیرہ سمعیلخان کے ہوت اپنے آپ کو خالص بلوچ کہتے ہیں ۔ دیرہ غازی خان کے میرانی دودی ہیں ۔ مستند تواریخ کی رو سے دوری قبائل کی تاریخ یہ ہے : سندھ اور ملتان پر سمرا خاندان نے مختلف ادوار میں ۶۵۱ سال حکومت کی ہے ۔ ٹھٹھہ پر یہ ۵۸ سال تک حکمران رہے ہیں ۔ اس طرح ان کی حکومت کی کل مدت ۷۰۹ سال بنتی ہے ۔ ابوالفضل کے قول کے مطابق اس عظیم شاہی خاندان کے ۳۶ خود مختار فرمانروا ہوئے ہیں ۔ ان میں سے چار کو ، ان کے عسکری کارناموں کی وجہ سے ” دودا ” کہا گیا ہے ۔ رحیم یار خان سے آٹھ میل بجانب شرق پتن پور جو اب پتن منارا کہلاتا ہے ان کے آخری بادشاہوں کا دارالحکو کا دار الحکومت رہا ہے ۔ دسویں صدی عیسوی میں انہوں نے اپنے اس قدیم دار الحکومت کو از سر نو آباد کیا ۔ آخری تاجدار کا نام ہمیر بہالدین ہے ۔ ماڈ نے راجپوتانے کے اکثر بادشاہوں کو ” ہمیر ” کہا ہے ۔ غا غالباً یہ عربی کا لفظ امیر ہے ۔کرنل اسے سمر سا تھا کے ہاتھوں شکست ہوئی ۔ اس کے شہزادوں میں سے ایک نے بلوچ قبیلے سے ملاپ کر لیا اور اس طرح گورچانی نام کا ایک نیا قبیلہ وجود میں آگیا ۔ گزیشیر کے مطابق یہ واقعہ اس طرح سے ہے کہ گوریش سمرا شکار کھیلتے ہوئے کہیں دور نکل گیا اور رستہ بھول گیا ۔ چند بلوچوں نے اسے زخمی اور . نڈھال حالت میں پایا ۔ وہ اسے اٹھا کر اپنے خیمے میں لے آئے ۔ شفایاب ہونے پر اس نے اس لڑکی سے شادی کر لی جسے اس کی دیکھ بھال پر مامور کیا گیا تھا ۔ اس سے جو اولاد پیدا ہوئی وہ گورش کے نام پر گورشانی ( گورچانی ) کہلائی ۔ اسی گزیشیر میں زیادہ معتبر کہانی اس طرح دی گئی ہے کہ جب پتن منارا کی حکومت عروج پر تھی تو ارد گرد کے علاقے میں مختلف چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم ہو چکی تھیں ۔ چونکہ کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی اس لئے یہ حکمران آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے ۔ پھل وڈا ( موجودہ رحیم یار خان جس کا ایک نام نوشہرہ بھی تھا ) کا حاکم لاکھا ولد پھل تھا جو گولوں اور بھائوں کا بڑا قدر دان تھا ۔ اس نے ایک بھاٹ کو جسے سوامی کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ، کچھ گھوڑے انعام میں دیئے ۔ بھاٹ اپنے گھر واپس جا رہا تھا کہ پتن منارا میں بعض سمرا نوجوانوں نے اس کے گھوڑے چوری کرا لئے سوامی کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ بادشاہ ہمیر اور اس کے وزیر دھوڑا رائے کے ایما کے بغیر یہ چوری نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ اس نے یہ مصرعے تصنیف کئے جو آناً فاناً سارےشہر میں مشہور ہو گئے ۔ مصرعے یہ ہیں :دھاڑی دھوڑا رائے جیں سانکھیا پتن پیجو تھیو ، سیج و مایو ساہ ہمیرا پورا راج نہ کندا سومرانیعنی ڈاکو دھوڑا رائے پر لعنت نے جس چرن کو لوٹا ہے ۔ پتن برباد ہو جائے ۔ دریا اپنی گزر گاہ تبدیل کر لے اور ہیر سومرا اپنا راج پورا نہ کر سکے ۔یہ واقعہ بادشاہ اور تمام سمراؤں کیلئے اس قدر بدنامی کا باعث بن گیا کہ سب کو مجبور ہو کر ملک چھوڑنا پڑ گیا ۔ ان لوگوں نے بلوچستان کی پہاڑیوں میں جا کر پناہ لی جہاں اب یہ گورچانی کہلاتے ہیں ۔!یہاں تک کے واقعات تاریخ مراد میں درج ہیں ۔ لیکن ان میں تاریخ کم اور افسانوی رنگ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے ۔ تاریخ کو افسانے سے الگ کرنے اور واقعات کی چھان پھٹک میں انگریز کسی کی رعایت نہیں کرتے ۔ بلوچوں کی صحیح تاریخ مرتب کرنے میں جو کاوشیں کی ہیں وہ قابل صد ستائش ہیں ۔ ان کی تحقیقات کو جس شخص نے ان کی زیر نگرانی مرتب کیا اس کا نام رائے بہادر ہتو رام ہے ۔ آج بلوچوں کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مستند ماخذ اس کی مرتب کردہ تاریخ بلوچاں ہے جس کا ادبی نام ” گل بہار ” یہ کتاب پہلی بار ۱۸۶۲ء میں شائع ہوئی تھی ۔ اس میں صفحہ ۲۳۸ پر دودی بلوچوں ہے ۔ یہ کی اصلیت کے بارے میں بارے میں لکھا ہے کہ : جب دودا سمرا اور اس کے بھائی چنیسر سمرا کے درمیان جانشینی پر جھگڑا ہوا تو چنیسر نے خراسان کے بادشاہ سے مدد مانگی ۔ بادشاہ نے ایک بہت بڑا لشکر اس کے ساتھ کر دیا ۔ دورا نے دیکھا کہ وہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو وہ کیچ مکر ان کی طرف بھاگ گیا ” اس جگہ اکثر مردم بلوچی پیشتر مسکن گزین تھے ۔ شہک خان ( صالح ) سردار قوم رند تمندار بلوچی کی رائے دودا سے موافقت ہو گئی ، متفق ایک دوسرے کے گزران کرنے لگے ۔ بلکہ شہک خان نے دودا مذکور کو ناطه نسبت لڑکی اپنی مسمات بی بی مرہ کا دیا ۔ بموجب رواج بلوچیرائے دورا بنام دودا خان تمندار مشہور ہوا اور قوم ان کی دودی بلوچ نامزد ہوئی کہ اب تک یہ قوم اور مزرانی دودی بلوچ مشہور ہیں ۔ بطن بی بی مرہ مذکور سے لڑکا بخانہ دودا خان مذکور پیدا ہوا جس کا نام گورش خان رکھا گیا ۔ جب بعمر اٹھارہ سال کے گورش خان ہوا دودا خان فوت ہو گیا ۔ بجائے باپ کے گورش خان دستار تمنداری کی باندھی ۔ بعد دوتین برس شہک خان تمندار رند فوت ہو گیا ۔ میر چاکر بیٹا اس کا بجائے باپ سردار ہوا "واضح رہے کہ یہ وہی بلوچ سردار ہے جسے رند بلوچ چاکر اعظم کہتے ہیں ۔ مذکورہ حوالے کی رو سے یہ دودا سمرا کا سالا تھا ۔ گورش خان سے اس کے بہت گہرے دوستانہ
تعلقات تھے ۔ایم لانگ ورتھ کی مستند کتاب The Ethnology and Historical sketch of Bloch Race پہلی مرتبہ ۱۹۰۴ء میں شائع ہوئی تھی ۔ اس کا اردو ترجمہ ” بلوچ قبائل ” کے نام سے شائع ہو چکا ہے اس میں دودی سلسلے کا نسب نامہ اس طرح درج ہے:سہرابنشجرہ گیارہواں( دودی سلسلہ ) دودا (شمر)فتح خان اسمیل خان غازی خان علیگورش اگورچانی قبیلہ خاب کلاچی قبیله دیرہ غازیخان ملکانی کا میر رانی قبیله در کانی پایه اس شجرے کی رو سے گورش اور سہراب بھائی ہیں اور دودا سمرا کے بیٹے ہیں ۔ نیز دیرہ اسمعیل خان کے بانی سردار بھی دودی ہیں ہوت بلوچ نہیں ہیں ۔
شجرہ نسب تمندار گورچانی کی رو سے دودا اور چنمیسر دو بھائیوں کو سومرہ ساتھا کی اولاد ظاہر کیا گیا ہے اور گورش کو دودا کا بیٹا دکھایا گیا ۔ جسکانی ، پتافی ، لاشاری وغیرہ تمن گورچانی کی پھلیاں ہیں ۔ بلوچوں کی مختصر سی تاریخ اور نسب نامے ہم نے یہاں اس لئے دیئے ہیں کہ تھل کی تاریخ براہ راست ان بلوچ سے وابستہ ہے ۔ حاکم ملتان نے سہراب اور اس کے بیٹوں کو دریائے سندھ کے کناروں پر جو اراضیات دیں وہ سندھ اور چناب کے مقام اتصال سے اوپر یعنی بجانب شمال تھیں ۔ یہ قبیلے پہلے دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر آباد ہوئے پھر آہستہ آہستہ بائیں کنارے کی زمینوں پر بھی قابض ہوتے گئے ۔ دیرہ فتح خان کے کلاچی قبیلے کو کمتر رتبہ دیا گیا ۔ چنانچہ اٹھارویں صدی سے پہلے ہی ان پر اسمعیلخانی مسلط ہو گئے ۔ انہوں نے اپنا صدر مقام دریائے سندھ پر واقع ایک گاؤں بیر پر بنا لیا ۔ یہ گاؤں دیره اسمعیل خان سے ۲۰ میل جنوب میں ہے ۔ پھر انہوں نے دیرہ اسمعیلخان کی بنیاد رکھی ۔ ان کی حکومت کے عروج کے زمانے میں سنگھڑ سے لے کر مکل وادھ تک کا علاقہ ان کے قبضے میں تھا ، تاہم مغربی ” دمان ” کے قبائیلیوں پر ان کا کوئی اختیار نہیں تھا ۔ مشرق میں ان کی حکومت دریا خان اور بھکر کے شمال تک محدود تھی ۔ ان کے بارے میں تاریخی معلومات بہت ناکافی ہیں ۔ – ۱۷۷٠ء 1 میں ان کے آخری حاکم نصرت خان کو احمد شاہ نے معزول کر کے اور قیدی بنا کر کابل بھیج دیا تھا ۔ یہ اپنے اقتدار کے زمانے میں اپنے ہمسایہ پٹھانوں اور گنڈا پوروں سے مسلسل برسر پیکار رہتے تھے – ۱۷۳۸ء میں نادر شاہ کے حملے سے پہلے نور محمد کلہوڑا نے بھی ان پر حملہ کیا تھا بلکہ وہ تو ان کے سابقہ صدر مقام بیر تک ان کے علاقے میں گھس آیا تھا ۔ – نادر شاہ اور درانیوں کی فوجیں دیره جات کے علاقوں میں سے ، سیلاب کی طرح گزر جاتی تھیں ۔ مگر ان کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دیتی تھیں ۔ نصرت خان کی معزولی اور قید کے ۲۰ سال بعد تک حکومت کابل کے گورنر حکومت کرتے رہے ۔ 1691ء میں نصرت خان کو رہا کر دیا گیا اور اسے نئے سرے سے سے دیره اسمعیل خان کی حکومت کا پروانہ بھی دے دیا گیا ۔ لیکن تین سال کے بعد اسکی جگہ دوست محمد خان سدوزی کو گورنر بنا کر بھیج دیا گیا ۔ نصرت خان کے زوال کے ساتھ ہی ان ہوت ( یا دودی ) بلوچوں کی تاریخ ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ
۱۷۹۴ء کا واقعہ ہے . جس طرح ہوت بلوچوں کے ماتحت دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر بھی کچھ علاقہ تھا ، اسی طرح غازی خان سرداروں نے بھی صوبہ لیہ پر قبضہ کر رکھا تھا ۔ غازی خان میررانی دودی تھے ۔ غازی خان اول دودا سمرا کا ہوتا تھا ۔ بہاء الدین ہمیر سمرا کی حکومت پتن منارہ میں ۱۳۷۰ء میں ختم ہو چکی تھی اور اس کا سارا خاندان منتشر ہو چکا تھا شہزادگان نے پہلے دراگل پہاڑیوں کی طرف اور پھر لیہ کا رخ کیا اور اس کے علاوہ تھل میں مقیم ہو گئے ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ چھپ گئے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ انہیں حکومت سے محروم کر دینے والی قوم اب بہت طاقتور ہو چکی تھی اور اپنے حریفوں کو پوری طرح کچل دینے کے درپے تھی ۔ چونکہ میررانی انہی کی اولاد تھے اور اس علاقے میں عروج پر تھے اس لئے یہ یہاں زیادہ محفوظ تھے ۔ دریا کے اس پار نہ تو ہوت بلوچوں نے کوئی ر مقام بنایا تھا اور نہ ہی میررانیوں نے کوئی مضبوط قلعہ تعمیر کیا تھا ۔ سمرا احساس شکست خوردگی اور انتشار جمعیت کی پریشانی میں اس حد تک مبتلا ہو چکے تھے کہ ان کا اب عسکری قوت بن کر پھرنا ناممکن تھا ۔ ان حالات میں جسکانیوں کا طاقت پکڑنا بالکل فطری تھا ۔ چونکہ جسکانی گورچانیوں کی ” پھلی ” شمار ہوتے تھے اس لئے سمراؤں کیلئے بھی صدرقابل قبول تھے ۔ سترھویں صدی عیسوی کے اوائل ہی میں جسکانیوں نے اپنے سردار بلوچ خان کی سربراہی میں لیہ پر سے میرانیوں کی حکومت ختم کر کے خود مختاری حاصل کر لی تھی ۔ بھکر اور لیہ کے بلوچ قبائل اسی بلوچ خان کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ ان میں جسکانی ، مندرانی ، ممدانی ، کندانی اور سرگانی قابل ذکر ہیں ۔ باقی بلوچ شتر بانوں کی حیثیت سے سمراؤں کے ساتھ آئے تھے .جسکانیوں کی حکومت لیہ اور بھکر میں قائم ہو گئی تو انہوں نے چناب تک کے رے تھل پر قبضہ کر لیا ۔ اس زمانے میں پنجاب کے علاقے میں سکھ طاقت پکڑ رہے تھے ۔ ان کے ساتھ کبھی کبھی جسکانیوں کی مڈبھیڑ بھی ہو جاتی تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کاوادرکےکو چھ کرنےنصرت۔ایک اندھا سردار بلوچ خان نامی گنڈا سنگھ اور جھنڈا سنگھ کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا تھا ۔ یه ۱۷۴۶، یا قدرے بعد کا زمانہ ہو سکتا ہے کیونکہ اسی جھنڈا سنگھ نے ۱۷۷۲ء میں ملتان پر قبضہ کر لیا تھا ۔ ۷۲ – ۱۷۷۲ء سے لے کر ملتان پر کابل کے بادشاہ کی فتح تک کے دوران جنوبی پنجاب پر بھنگی سکھ چھا گئے تھے ۔ پھر انہوں نے ملتان کے ساتھ منکیرہ پر بھی قبضہ کر رکھا تھا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کالا باغ کے زیریں علاقوں پر تاوان لگا رکھے تھے ۔ ایک کہاوت ، چپٹی پئی مہراں تے مہراں گھتی شہراں تے ، اسی قہرمانی دور کی یاد گار – تاہم مقامی روایات سکھوں کی ان چھوٹی موٹی کامیابیوں کو تسلیم نہیں کرتیں ۔ بلکہ عام طور پر کہا یہ جاتا ہے کہ منکیرہ پر رنجیت سنگھ سے پہلے سکھوں کی کوئی حکومت نہیں رہی البتہ لوٹ مار کی وارداتیں ہوتی رہی ہیں جن کا مقابلہ تھل کے بہادر لوگ ڈٹ کر کرتےرہے ہیں ۔ہے ۔بلوچ نمان نابینا کے بعد اس کا بیٹا فتح خان حکمران ہوا ۔ اسکی حکومت کے آخری دنوں میں دیرہ اسمعیل خان کے ہوت سردار نصرت خان نے دریا پار کر کے حملہ کر دیا اور فتح خان کے بیٹے نصرت خان کو قیدی بنا لیا ۔ فتح خان نے اپنے وزیر حسن خان لشکرانی کو حکم دیا کہ و وہ دیره پر حملہ کر کے نصرت خان کو چھڑ لائے لیکن حسن خان لشکرانی بہانے بنا کر مال مثال کرتا رہا ۔ بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ نصرت خان جسکانی کی والدہ جو اپنے بیٹے کیلئے بیتاب تھی خود دیرہ اسمعیل خان میں نصرت خان ہوت کے پاس چلی گئی ۔ بلوچوں کے دستور کے مطابق مشکل وقت میں اور خطا بخشی کے لئے اگر عورت درخواست کرے تو اسے رد نہیں کیا جاتا ۔ لیکن اس کے برعکس نصرت خان ہوت نے اسے بھی گرفتار کرنا چاہا ۔ بہانہ کر کے وہ ایک دن کی مہلت لیکر چلی گئی اور بے عزتی کے خوف سے رات کو زہر کھا کر مر گئی ، صبح کو یہ خبر سنکر نصرت خان نے اس کے بیٹے کو چھوڑ دیا ۔ بیٹا بھی شرم کے مارے زہر کھا کر مر گیا اور پھر – مر گیا اور پھر فتح خان نے بھی زہر کھا لیا اس واقعہ کی خبر احمد شاہ والی کابل کو پہنچی تو اس نے سوچا کہ مملکت میں توسیع کرنے اور ان نیم خود مختار صوبوں پر قبضہ کرنے کا اچھا موقع ہے ۔ چنانچہ اس نے نصرت خان ہوت کو قیدی بنا لیا اور فتح خان کے نابالغ ہوتے حیات خان کو زیر سرپرستی حسن خان لشکرانی تھل کا حاکم بنا دیا ۔ اس شخص نے پہلے ہی فتح خان کی نافرمانی کر کے حالات خراب کئے تھے ۔ اب اس کے دل میں اور بھی فتور آگیا اور اس نے نابالغ یتیم حکمران کو قلعہ منکیرہ میں عملاً قیدی بنا ڈالا ۔ اسکی سخت نگرانی کی جاتی تھی ۔ تاکہ باہر کے کسی شخص . سے اس کا رابطہ قائم نہ ہو سکے ۔ حیات خان بالغ ہو گیا تو بھی حسن خان لشکرانی نے حقدار کو اس کا حق واپس نہ کیا ۔ تاہم حیات خان نے قلعہ کے اندر اپنے کچھ حمایتی پیدا کر لئے ۔ ایک دن وہ ان کی مدد سے قلعہ سے فرار ہو گیا ۔ سرگانیوں نے اسکی پذیرائی کی اور ان کی مدد سے اس نے حسن خان کو شکست دے دی ۔ اسے قید کر لیا گیا لیکن حیات خان کے بعض ملازمین نے جو اس سے رنجیدہ تھے اسے قتل کر دیا ۔سپاہی ایسے تھےجسکانیوں کی حکومت ان واقعات کے سبب روبہ انحطاط ہو چکی تھی ۔ حیات خان نے سرگانیوں پر بہت زیادہ نوازشیں کی تھیں جن کی وجہ سے وہ بہت طاقتور ہو گئے تھے ۔ حیات خان سے ایک غلطی ہو گئی جو اس کے خاتمے کا باعث بنی ۔ ہوا یہ کہ ایک بزرگ سید گل محمد شاہ نے روڈو سلطان کے جنگل میں سکونت اختیار کر کے اس علاقے میں اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا ۔ والی کابل تیمور شاہ درانی نے محمد حیات خان کے نام حکم بھیجا کہ سید گل محمد شاہ کو قید کر کے کابل روانہ کر دو ۔ اس حکم کی تعمیل میں محمد حیات خان نے قلعہ اچ گل امام پر چڑھائی کر دی ۔ اور سید گل محمد شاہ بھی اپنے مریدوں کو جمع کر کے مقابلے کیلئے نکل آیا ۔ محمد حیات خان کی فوج میں بہت جو گل محمد شاہ کے مرید تھے ۔ ابھی لڑائی شروع نہیں تھی کہ یہ لوگ سید گل محمد شاہ کے شکر سے مل گئے ۔ یہ حال دیکھ کر نواب محمد حیات خان بغیر لڑائی کئے واپس بھکر کو چلا گیا اور از سرنو لڑائی کی تیاری کرنے لگا ۔ سرگانی نواب محمد حیات خان کے اس عمل سے ناراض ہو کر اس کے خلاف ہو گئے ۔ انہوں نے دھوکے سے حیات خان پر حملہ کر دیا اور اسے قلعہ منکیرہ میں قتل کر دیا ۔ یہ ۱۷۸۷ء کا واقعہ ہے ۔ حیات خان کا جانشین اس کا بھائی محمد خان ہوا ۔ سرگانیوں نے اپنے سردار گولا خان کی سرکردگی میں اس کے خلاف بھی محاذ آرائی شروع کر دی لیکن جسکانیوں نے دیوان لدھارام کی سرکردگی میں ان کو شکست دے دی ۔ سرگانیوں کا سردار گولا خان اپنا ممنون بنا لیا ۔ ۱۷۸۹ء میں سرائیوں نے عبدالنبی کی سربراہی میں جسکانیوں کو شکست دے کرابااورجوشاه دیا.بہاول چاہتانواب رہے ۔انہیں ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا ۔ سرائی اصل میں کلہوڑے تھے جنہیں ۱۷۷۲ء میں سندھ سے نکال دیا گیا تھا ۔ انہوں نے طویل عرصے سے شاہان کابل کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی تھی ۔ یہ دیرہ غازی خان کے علاقے پر قابض ہونا چاہتے تھے ۔ لیکن وہاں میرانیوں نے محمود خان وزیر کی سرکردگی میں انہیں کامیاب نہ ہونے دیا ۔ تاہم یہ دوہری چال چلتے ہے ۔ کبھی مرانیوں کے طرفدار بن جاتے اور کبھی شاہان کابل کے حمایتی ہو جاتے ۔ اس طرح یہ میرانیوں کو کمزور بناتے رہے ۔ نور محمد ایک کلہوڑا شہزادہ دیره اسمعیل خان کے ہوت سرداروں سے بر سر پیکار رہا تھا ۔ لہذا بعید نہیں کہ نادر شاہ کے حملے سے پہلے کلہوڑوں نے لیہ کے جسکانیوں پر بھی غلبہ حاصل کر لیا ہو ۔ تاہم دیرہ غازی خان پر شاہان کابل کے اقتدار کے باوجود یہ وہاں کی حکومت کے دعویدار رہے جبتک کہ ۱۷۷۲ء میں انہیں تالپوروں نے سندھ سے نکال نہ دیا ۔ اب یہ بے بس ہو کر شاہان کابل کے رحم و کرم پر تھے ۔ چنانچہ انہیں واپس دیرہ غازی خان جانا پڑ گیا جہاں انہیں خاصی بڑی جاگیریں عطا کر دی گئی تھیں ۔
اس واقعہ کے بعد سے انہیں کلہوڑوں کی بجائے سرای کے نام سے پکارا جانے لگا ۔ ڈیرہ غازی خان تو یہ واپس پہنچ گئے لیکن انہیں ایسا محسوس ہوا جیسا کہ یہ ہر طرف گھرے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ ان کے پاس بڑی تعداد میں مسلح اور جنگجو نوجوان بھی موجود تھے ۔ محصوریت کے تصور سے گھبرا کر انہوں نے ایسے علاقے تلاش کرنے شروع کر دیئے جہاں وہ اپنی خود مختار حکومت قائم کر سکیں ۔ جسکانی اپنے اندورنی تنازعات کے باعث ٹوٹ پھوٹ چکے تھے ۔ ان کے بعض علاقے دیرہ غازی خان کے ساتھ محض روایتاً اور برائے نام وابستہ تھے ۔ سرائیوں سے قریب تر ہونے کی وجہ سے یہی وہ علاقے تھے جو ان کے عزائم کی تکمیل کیلئے موزوں تھے ۔ غلام شاہ کے بھائی عبدالنبی سرای نے تیمور شاہ والی کابل سے سند حاصل کر لی اور جو شیلے سرگانیوں کے ساتھ مل کر لیہ پر حملہ کر دیا ۔ محمد خان جسکانی شکست کھا گیا اور ٹوانوں کے علاقے کی طرف بھاگ گیا ۔ وہاں سے بہاول پور پہنچا یہاں کا نواب اس کے کھوئے ہوئے علاقے واپس کرانے میں اسکی مدد کرنا چاہتا تھا لیکن محمد خان نے بلوچکی ضد میں اگر شکاریات کی ایک نادر کتاب ” بازنامہ ” نواب کو دینے سے انکار کر دیا اور پھر ساری زندگی سنگھر کے سردار اسد خان نتکانی کی کفالت میں گزار دی ۔ اس طرح جسکانی سرداروں کی دو سوسالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا ۔ عبد النبی سرای لیہ پر صرف تین سال حکومت کر سکا ۔ کابل کے بادشاہ کے پاس اس کے ظالمانہ رویوں کی شکایتیں پہنچتی رہتی تھیں ۔ بادشاہ کو محمد خان سدوزئی کے لئے بھی کوئی عہدہ نکالنا تھا ۔ یہ ملتان کے صوبیدار نواب مظفر خان خان کا قریبی رشتہ دار تھا ملتان کے صو بیدار کے ماتحت خدمات سرانجام دیتا رہا تھا ۔ کچھ عرصے تک بادشاہ نے اسے ملتان کا قائم مقام صو بیدار مقرر کیا تھا اور وہ اس کے کام پر بہت خوش تھا ۔ چنانچہ اسے ایک سند عطا کر دی گئی جس کی رو سے اسے کلور کوٹ سے لے کر محمود کوٹ تک اور دریائے سندھ سے لے کر دریائے چناب تک کے علاقے کا نواب اور گورنر مقرر کیا گیا تھا ۔ محمد خان کو قبضہ حاصل کرنے کے لئے جنگ لڑنا پڑی ۔ عبدالنبی سرای نے لیہ کے قریب اس کا مقابلہ کیا ۔ سرائی فتحیاب ہو گئے ۔ اور نواب کی فوجیں بھاگ گئیں ۔ خود نواب بھی بھاگ جانا چاہتا تھا ۔ اس نے کہا فوج کے بغیر بادشاہ بھی کیا کر سکتا ہے ۔ لیکن اس کے جمعدار نے اسے روک لیا اور کہا بھاگ جانے سے مر جانا بہتر ہے ۔ چنانچہ اس نے فوجیوں کے ایک گروہ کو دوبارہ جمع کر لیا اور اب لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گیا ۔ ادھر سرائیوں کی قسمت انہیں دھوکا دے گئی ۔ بھنگ کے کسی کھیت سے کچھ ” لبانے ” باہر نکل آئے اور انہوں نے سرائیوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا ۔ عبدالنبی کا بیٹا محمد عارف جو سدوزئیوں کے خلاف بڑی بے جگری سے لڑا تھا ۔ ان کے ایک اتفاقیہ تیر سے مارا گیا سرائیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے سرائیوں کو ایک دن کی مہلت دی گئی کہ وہ اپنا ساز و سامان لے کر کشتی کے ذریعے جنوب کی طرف اپنے اصلی علاقے کو بھاگ جائیں ۔ نواب محمد خان کی آمد سے پہلے صورت حال یہ تھی کہ علاقے کے بڑے بڑے زمیندار اپنی اپنی جگہ خود مختار سرداریاں قائم کر رہے تھے ۔ نواب محمد خان نے سب سے پہلے ان کو اپنا مطیع بنایا ۔ پھر واں بھچر ان کے علاقے کو فتح کیا ۔ اس کے بعد اس نے ملک خان محمد ٹوانہ کے علاقے پر حملہ کر کے اسے شکست دی اس نے نور پور کو تو لوٹ لیا لیکن ٹوانوں کے علاقے پر قبضہ نہ کیا ۔ دریائے سندھ کے پار کے علاقے میں خور قوم نوا اطات بہت نے بلوٹ کے ایک نیک سید کو قتل کر دیا تھا ۔ نواب نے دیوان مانک رائے کی سرکردگی میں ایک مہم بھیج اور خسوروں کو شکست دی ۔ نواب نے ان کے علاقے پر قبضہ کر لیا اور وہاں ایک قلعہ تعمیر کرا دیا ۔
۱۷۹۳ء میں تیمور شاہ کا انتقال ہو گیا ۔ زمان شاہ تخت نشین ہو گیا لیکن شہزادہ ہمایوں نے اسکی جانشینی کو تسلیم نہ کیا ۔ ۱۷۹۴ء میں اس نے شاہ زمان سے سلطنت حاصل کرنے کے لئے دوسری بار حملہ کیا لیکن شکست کھائی ۔ بھاگ کر سنگھ کے علاقے میں پہنچا ۔ یہاں کے سردار مستوخان نتکانی نے اس کی مدد کی اور اسے چوری چھپے کشتیوں کے ذریعے دیرہ فتح خان بے دیرہ فتح خان پہنچا دیا ۔ وہاں سے یہ لیہ آرہا تھا ، راستے میں ایک کنوئیں پر رک گیا ۔ اس نے کسان سے کچھ گنے لئے اور قیمت کے طور پر اسے ایک اشرفی دی ۔ بات تعجب خیز تھی ، جلد مشہور ہو گئی ۔ اتفاق سے نواب محمد خان لیہ آیا ہوا تھا ۔ اس نے یہ بات سنی تو اسے شبہ ہوا کہ یہ شہزادہ ہمایوں ہی ہو سکتا ہے ، زمان شاہ نے شہزادے کی گرفتاری کے عوص کثیر انعامات کا اعلان کر رکھا تھا ۔ نواب نے کچھ گھڑ سوار اپنے ساتھ لئے اور شہزادہ ہمایوں کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا ۔ بے یارو مدد گار شہزادہ لیہ سے ۱۵ میل کے واصلے پر ایک کنوئیں پر بیٹھا تھا کہ پکڑ لیا گیا ۔ ہمایوں کے ساتھ نہیں تھیں گھڑ سوار تھے ۔ انہوں نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے خوب مقابلہ کیا ہمایوں کا بیٹا مارا گیا اور یہ سب مغلوب ہو گئے ۔ انہیں قیدی بنا کر لیہ لایا گیا اور زمان شاہ کو اطلاع کر دی زمان شاہ نے حکم جاری کر دیا کہ ہمایوں کی آنکھیں نکال دی جائیں اور اس کے ساتھیوں کا پیٹ چاک کر دیا جائے ۔ اس حکم کی تعمیل لیہ میں کی گئی ۔ نوب کو سربلند خان کا خطاب دیا گیا اور دیره اسمعیل خان کی حکومت مزید عطا کر دی گئی ۔ یہ نیا علاقہ مکلوار سے سنگھر تک پھیلا ہوا تھا اور اس پر نتکانی سردار حاکم تھا اس سارے علاقے نے نواب محمد خان کی اطاعت قبول کر کی لیکن قبائلی پٹھان شاہ زمان اور اس کے گورنر کی اطاعت سے بدستور آزاد رہے ۔ البتہ انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ نواب کو جنگی خدمات کے خون گھوڑے یا روپیہ فراہم کریں گے ۔
گئی محمد خان نے میاں خیل قبیلے کو بھی مطیع بنا لینے کی بہت کوشش کی ، ان کے بہت سے گاؤں چھین لئے اور ان کے سردار کو فرار ہو جانے پر مجبور کر دیا ۔ مغرورسردار نواب کے دشمن گنڈا پوروں کے پاس پہنچ گیا ۔ آپس کے اندرونی تنازعات کے باوجود یہ قبیلے متحد ہو گئے ۔ انہوں نے سرور خان کی سرکردگی میں نواب کا مقابلہ کیا اور اسے اپنے عزائم ترک کر دینے پر مجبور کر دیا ۔ ادھر درانیوں کی حکومت بھی زوال پذیر ہو رہی تھی اور ادھر محمد خان کی طاقت بڑھتی جا رہی تھی ۔ ۱۸۱۳ء میں اس نے دیوان مانک رائے کی سرکردگی میں گنڈا پوروں کے خلاف ایک بہت بڑی فوج بھیج دی گنڈا پوروں کو مڈی کے مقام پر شکست ہوئی ۔ محمد خان کی فوج نے کلاچی شہر کو جلا ڈالا گنڈاپوروں پر اتنا زیادہ جرمانہ الا گیا کہ وہ ادا نہ کر سکے ۔ اس پر ان کی مشرقی علاقے کی اراضیات چھین لی گئیں ۔ اس کے بعد اسی طرح کے حملوں سے دیوان مالک رائے نے میاں خیل کی سرحدوں کو بھی پامال کر دیا ۔ محمد خان کی وفات سے پہلے یعنی ۱۸۱۶ء تک اسکی حکومت ٹانک کے سوا باقی سارے دامن کوہ پر قائم ہو گئی تھی ۔ اس نے کئی بار مانک کو بھی فتح کرنا چاہا لیکن اس کے ہر حملے کے وقت سرور خان علاقے میں سیلابی کیفیت پیدا کر کے اپنا دفاع کر لیتا تھا ۔ محمد خان بعارضہ اسہال ۱۸۱۶ء میں فوت ہو گیا ۔ وہ بلاشبہ عسکری صفات کا مالک تھا اسکی زندگی میں پنجاب کے سکھوں کو جرات نہ ہو سکی کہ دیرہ جات کے صوبے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکیں یا لیہ بھکر کی سرحدوں میں داخل ہو کر اس کی مقبوضات پر حملہ کر سکیں ۔ محمد خان کی وفات کے بعد اس کا داماد حافظ احمد خان اس کا جانشین ہوا ۔ سکھوں نے اس سے خراج مانگنا شروع کر دیا ۔ اس نے انکار کر دیا تو انہوں نے محمود کوٹ اور خان گڑھ کے قلعے فتح کر لئے اور پھر آس پاس کے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے شروع کر دیئے ، حافظ احمد خان کو مجبور ہو کر بھاری رقمیں ادا کر کے اپنے قلعوں کو سکھ فوج سے خالی کرانا پڑا ۔ اب سکھ بھی اپنے مطالبات بڑھانے لگ گئے ۔ رنجیت سنگھ کو اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کا بڑا شوق تھا ۔ جس کسی کے پاس کوئی قیمتی گھوڑا ہوتا یہ اس سے چھین لیتا ۔ نواب حافظ احمد خان کو بھی بہت سے عمدہ گھوڑوں سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ ۸۱۸ – ۱۸۱۸ء میں نواب مظفر خان کے بہادرانہ دفاع کے باوجود سکھوں نے ملتان پر قبضہ کر لیا ۔ نواب حافظ خان کو اپنے نواب بھائی اور رشتے دار کی مدد کرنے کی جرات
تک نہ ہو سکی ۔۱۸۱۸ء ہی میں نواب حافظ احمد خان نے مخدوش سیاسی حالات کے باوجود اپنے کلٹر دیوان مانک رائے کے ذریعے مروت عیسی خیل اور میانوالی کے وہ علاقے فتح کر لئے تھے جو دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر واقع ہیں ۔ ملتان کی فتح کے تین سال بعد ۱۸۶۱ء میں رنجیت سنگھ نے دوسرے امور نمٹانے کے بعد نواب حافظ احمد خان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ وہ شاہ پور کے راستے سے دریائے سندھ کے کنارے ایک ایسے مقام پر پہنچا جو دیره اسمعیل خان کے بالکل سامنے تھا ۔ یہاں سے اس نے ۸۰۰۰ کی فوج دریا کے پار بھیج دی لیکن دیوان مانگ رائے نے اطاعت قبول کر لی اور شہر سکھوں کے حوالے کر دیا ۔ اسی طرح بھکر ، لیہ ، موج گڑھ اور خان گڑھ کے علاقے بھی کسی مزاحمت کے بغیر فتح ہو گئے ۔ اب صرف منکیرہ باقی تھا اس کے چاروں طرف مٹی کی مضبوط فصیل تھی اور اندر پختہ فوجی قلعہ تھا ۔ پھر یہ تھل کے عین درمیان میں واقع ہونے کے باعث زیادہ مضبوط تھا ۔ اسے فتح کرنے کے لئے ۱۸ نومبر کو ایک ڈویژن فوج بھیجی گئی ۔ سردار خان باروزی نے ، جو ایک جوشیلا پھر تیلا اور جرات مند نواب تھا نواب کو مشورہ دیا کہ قلعہ سے باہر نکل کر سکھ فوجوں پر حملہ کر دیا جائے ۔ لیکن نواب نے یہ بات نہ مانی اور قلعہ بند ہو کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ سکھوں نے فوج کو پینے کا پانی مہیا کرنے کے لئے کنوئیں کھودنے پر بیلدار لگا دیئے ۔ کنوئیں کھودے جانے کے وقفے تک کے لئے پانی اونٹوں اور بیلوں کے ذریعے موج گڑھ سے لایا گیا ۔ ۲۵ نومبر کو کنوئیں تیار ہو ۔ اب رنجیت سنگھ اپنے بڑے لشکر کے ساتھ منکیرہ پہنچ گیا ۔ ۲۶ نومبر کو حملہ شروع ہوا ۔ دس دن تک گولہ باری ہوتی رہی ۔ محاصرہ کرنے والوں کو بھی خاصہ نقصان اٹھانا پڑا لیکن اچانک ہوا یہ کہ ایک گولہ قلعہ کے اندر والی مسجد کے مینار کو آکر لگا ۔ اور مینار گر گیا ۔ نواب نے اسے برا شگوں جانا ۔ اس نے سوچا کہ عزت بچانے کے لئے اس نے اب تک کافی مزاحمت کی ہے ۔ لہذا اب صلح کر لینی چاہیے ۔ چنانچہ اس نے شرط پیش کر دی کہ اسے مال اور اسلحہ کے ساتھ قلعہ سے نکلنے ، دیرہ شہر اور اس کا علاقہ اپنے پاس رکھنے کی اجازت اور گزارے کے لئے جاگیر دے دی جائے تو وہ قلعہ اس کے حوالے کر دیگا ۔ تھل کی اس جانکاہ لڑائی میں سکھ پہلے ہی دل برداشتہ ہو چکنے تھے رنجیت سنگھ نے فوراً تمام شرطیں مان لیں ۔ نواب کو دیرہ پہنچا دیا گیا ۔ سکھوں نے منکیرہ کے علاوہ دریائےگئے.سندھ کے اس پار کے سارے علاقے اور دیرہ فتح خان پر قبضہ کر لیا ۔ پھر اس نے سنگھر، اور ٹانک سے بھی خراج مانگنا شروع کر دیا ۔ ادھر منکیرہ پر سکھ حکومت کے تحت صوبیدار مقرر کر دیا گیا اور اس کے انتظامات پھر کبھی مقامی کارداروں کے سپرد نہ کئے
گئے۱۸۲۸ء میں دائرہ دین شماہ کے جاگیردار نواب عبدالصمد بادوزی کو صوبیدار بنا دیا گیا تھا ۔ بیٹ کی کچھ زمینوں کی ملکیت کے بارے میں اس کے اور سنگھرہ کے سردار اسد خان کے درمیان جھگڑے چل رہے تھے ۔ دونوں کی فوجیں بیٹ بالو کے مقام پر گئیں ۔ نواب کا فوجی کماندار نصر خان پوپلزی اور اس کے ماتحت بھڈوال متصادم ہو بڑے بے جگری کے ساتھ لڑتے رہے لیکن نواب کے باقی سپاہی بھاگ گئے ۔ متنازعہ زمینوں پر اسد خان بدستور قابض رہا ۔ رنجیت سنگھ نے نواب عبد الصمد خان کی مدد کے لئے خوشحال سنگھ کی سرکردگی میں کچھ فوجی دستے بھیج دیئے ۔ خوشحال سنگھ منکیرے میں اگر رک گیا ۔ اس نے نواب عبد الصمد خان کو کہا کہ پچیس ہزار روپے دو گے تو اسد خان کو سنگھر سے نکال کر اسکی زمینیں بھی تمہارے حوالے کر دوں گا ۔ روپے لے کر وہ سنگھر پہنچ گیا اور اسی طرح پچیس ہزار روپے اس سے بھی بٹور کر وہ لاہور واپس آگیا ۔ نواب عبد الصمد خان پچیس ہزار روپے سے محروم ہو جانے اور اسد خان سے لڑائیاں لڑتے رہنے کی وجہ سے مالی طور پر بہت کمزور ہو گیا ۔ محصولات ادا نہ کر سکا تو اسکی دائرہ دین پناہ والی جاگیر ضبط کر لی گئی ۔ ۱۸۳۱ء میں راج کور کو اور پھر اس کی جگہ خالصہ خزان سنگھ کو محصولات کا اجارہ دار مقرر کر دیا گیا ۔ اور بالا آخر ۱۸۳۷ء میں دریائے سندھ کے اس پار کے سارے علاقے دیوان ساون مل کی عملداری میں دے دئیے گئے جسے سکھ حکومت نے ملتان کا صوبیدار بنا رکھا تھا ۔ دیوان ساون مل بڑا زیرک حاکم تھا . کر زمین کی مال گزاری اور محصولات کے انتظام میں بہت قابل تھا ۔ دریائے سندھ کے اس علاقے پر اس کے نام پر اس کے بیٹے کرم نار امین اور ہوتے وزیر چند بڑی کامیابی کے ساتھ حکمرانی کی ۔ ۱ – ۱۸۲۵ء میں دیوان ساون مل مر گیا ۔ اس کا بیٹا دیوان مولراج اس کا جانشین ہوا ۔ تاہم اس کے فوراً بعد سکھوں کی دوسری لڑائی چھڑ گئی اور انگریزوں نے سارے ملک کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا ۔ خاص انگریزوں نے نظام جاگیرداری کا مطالعہ بڑے قریب سے کر لیا تھا ۔ ہوس اقتدار
کو بھی غور سے دیکھا تھا یہاں کے لوگوں کے عسکری مزاج کو بھی سمجھ لیا تھا ۔ قبائلی وفاداریوں کا بھی جائزہ لے لیا تھا ۔ جذبہ حریت کا تجزیہ بھی کر لیا تھا ۔ سکھوں سے بھی وہ نمٹ چکے تھے ۔ جنگ آزادی ختم ہو چکی تھی ۔ اسکی ناکامی کے اسباب کو ہم نہ سمجھ سکے لیکن وہ سمجھ گئے تھے ۔ ایک سو سال تک ہندوستان پر حکومت کا تجربہ بھی کر چکے تھے ۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر ان کے جہاں دیدہ سیاست دانوں نے بڑے غور فکر کے بعد پنجاب پر حکومت کرنے کے لئے ایک پالیسی مرتب کی ۵۰ – ۱۸۴۹ کی پنجاب ایڈ منسٹریشن رپورٹ کا پیرا گراف نمبر ۱۴ یہ ہے :-
” دریائے بیاس سے لے کر دریائے چناب تک ہندو نسل پھیلی ہوئی ہے اگر چہ مسلمان بھی ادھر ادھر خاصی تعداد میں موجود ہیں اور جنوبی ہیں ۔ مسلماں حصے میں تو واقعی ان کی اکثریت ہے تاہم یہ مسلمان اصلاً اور نسلاً ہندو نسلیں جو ایشیا کے عرب فاتحین کی اولاد ہیں ۔ ابھی تک قدیم ایام عروج کی آزادی ، عصبیت اور بہادری کے صفات کی حائل ہیں اور حکومت کرنے کو اپنا موروثی حق سمجھتی ہیں ۔ ان کا اپنے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ ہم ایسی قومیں ہیں جو اس سر زمین پر حکمرانی کرنےکیلئے ہی آباد ہیں ۔ ” اس واضح اور غیر مہم پالیسی کے تحت عملی اقدامات یہ کئے گئے : (۱) اقتدار پرست طبقہ پیدا کیا گیا اور اس طبقے میں انہی لوگوں کو شامل کیا گیا جو ” تاج و تخت ” کے وفادار تھے ۔
(۲) ان چیدہ چیدہ افراد کو بے پناہ اختیارات اور مراعات سے نوازا گیا تاکہ یہ اپنے ہی لوگوں کو دبائے رکھیں اور انہیں ابھرنے نہ دیں ۔
۵۴ – ۱۸۵۳ء میں منکیرہ کی تحصیل کو ختم کر دیا گیا ۔ خوشاب کا علاقہ شاہ پور کو دے دیا گیا ۔ چوبارہ نواں کوٹ اور موجگڑھ کے تعلقے لیہ سے منسلک کر دیئے گئے ۔ بھکر کا باقی علاقہ دریا خان میں شامل کر دیا گیا ۔ پہلاں اور ہرنولی کو کاٹ کر میانوالی کےسب ساتھ لگا دیا گیا ۔ منحہ ٹوانہ اور نور پور کو بھکر کی بجائے میانوالی اور پھر شاہ پور کو منتقل کر دیئے گئے ۔ ۱۸۵۷ء میں دیرہ کے وہ علاقے جو دریا کے اس پار تھے بھکر کو دے دیئے گئے ۔ یکم جنوری ۱۸۶۱ء کو لیہ کا ضلع بھی ختم کر دیا گیا حالانکہ یہ کبھی صوبے کا صدر مقام تھا ۔ دیرہ جات کا ایک نیا ڈویژن قائم کیا گیا جس کا آخری شمالی ضلع بنوں تھا ۔ دریا کے اس پار کی تحصیلیں بنوں ، مروت اور عینی خیل جو پہلے دیرہ اسمعیل خان میں تھیں اور میانوالی کی تحصیل جو دریا کے اس پار تھی مل کر ایک ضلع بن گئیں جس کا صدر مقام بنوں تھا ۔ لیہ کے لوگ بجا طور پر کہتے تھے : ” فلاں گیا بنوں ۔ ول آوے تان منوں ” پھر ۱۸۶۲ء میں کوہستان کے مشرقی علاقے کو جسے پکھر یا کھدری کہتے ہیں ضلع جہلم سے کاٹ کر ضلع شاہ پور کے حوالے کر دیا گیا ۔ نور پور ، میانوالی اور عیسی خیل کی تحصیلوں کو ملا کر ایک . ، ڈویژن قائم کر دیا گیا جس کا صدر مقام میانوالی تھا ۔ اسی طرح لیہ بھکر کی تحصیلوں کو ملا کر ایک اور سب ڈویژن قائم کر دیا گیا اور اسے دیرہ اسمعیل خان کو دیدیا گیا ۔ 9 نومبر 1991ء کو شمال مغربی سرحدی صوبہ وجود میں لایا گیا تو عینی خیل ، بھکر ، لیہ اور میانوالی کو ملا کر ایک نیا ضلع بنایا گیا جس کا صدر مقام میانوالی تھا اور جو ملتان ڈویژن میں تھا ۔ یکم اپریل 1909 کو لیہ تحصیل کو میانوالی سے کاٹ کر ضلع مظفر گڑھ میں شامل کر دیا گیا اور باقی ضلع کو جس کی صرف تین تحصیلیں رہ گئی تھیں راولپنڈی میں شامل کر دیا گیا ۔ اب تک کا ہمارا تہذیبی سفر تھل کے شمالی ، وسطی اور مغربی خطوں کے سیاسی آویزشوں میں اچھا رہا ہے ۔ اس کا زیرین حصہ بھی تاریخی ربط و تسلسل کے اعتبار سے کچھ کم اٹھا ہوا نہیں ہے ۔ جغرافیائی حدود یہاں پہنچ کر سکڑ گئے ہیں ۔ بائیں کنارے کے تین در یا مل کر ایک ” دریائے چناب ” کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ تکون تنگ ہوتی جا رہی ہے اور جو جو رقبہ اس نے گھیر رکھا ہے اسے تحصیل مظفر گڑھ اور علی پور کا نام دیا گیا ہے ۔ دائیں کنارے پر دریائے سندھ بدستور ٹھاٹھیں مار رہا ہے ۔ تھل کا یہ آخری کونا اب ملتان اور دیرہ غازی سے زیادہ قریب ہو گیا ہے اور اس وجہ سے ان دونوں کے سیاسی حالات و واقعات سے زیادہ متاثر ہے تاہم جنوب کی سیاست بھی اثر انداز ہو گی ۔ ملتان اور سندھ پر تقریباً دو سو سال تک خلافت بغداد کی صو بیداریاں قائم رہیں میں بعض سیاسی وجوہ کی بنیاد پر ۸۲۰ ) ۳۱۱ ہجری ) میں زیرین سندھ بالائی سندھ سے الگ ہو گیا تھا ۔ اس علیحدگی کا اثر یہاں کی صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت پر تو کچھ زیادہ نہ پڑا ۔ وہ زبان جو پوری وادی سندھ میں ایک تھی دو حصوں میں بٹ گئی ۔ بالائی سندھ پنجاب کے سکھوں کی یلغاروں سے محفوظ نہ رہ سکا تھا زیرین سندھ پر مشرق کی طرف سے کوئی یور شمیں نہیں ہوئی تھیں ۔ لہذا جنوبی وادی سندھ کی زبان اپنے ماحول میں اور بالائی وادی سندھ کی زبان اپنے ماحول میں پرورش پاتی رہیں ۔ عرب فاتحین زیرین وادی سندھ میں وسیع پیمانے پر آباد ہو گئے تھے اور وہاں انہوں نے مقامی خاندانوں سے رشتے داریاں قائم کر لی تھیں ۔ یہاں عربوں کی آخری حکومت ہباری خاندان کے پاس تھی ۔ جب یہ حکومت زوال پذیر ہونے لگی تو انہوں نے حکومت اپنے قریبی رشتہ قوم سمرا کے سپرد کی جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے خفیف سمرا اول سندھ اور ملتان کا بادشاہ منتخب ہو گیا ۔ سمرا خاندان نے ۱۱۸۶ء تک سندھ اور ملتان ہر حکومت کی ۔ سمہ ساتھا نے سمراؤں کو اقتدار سے محروم کر دیا ۔ اس خاندان کے جانشین علی پور کے انڈ ہیں جنہیں جام کے لقب سے پکارا جاتا ہے ۔ سندھ سے آنے والے ہر مسلمان کو یہاں کے لوگ جام کہتے ہیں ۔ سمرا اور سمہ حکومت میں سیال ، گورا ہے ، بھٹی اور چھجڑے بھی مشرقی علاقوں سے نقل مکانی کر کےیہاں آگئے تھے ۔مختلف دوسرا واقعہ جو اس علاقے کی تاریخ پر اثر انداز ہوا وہ ملتان پر لنگاہ قوم کی حکومت کا قیام ہے جو ۱۴۲۵ء سے ۱۵۲۶ء تک رہی ۔ اسی زمانے میں سیت پور ( سائیتھ پور ) کے علاقے میں ہنر قوم نے حکومت بنا لی اور اسی زمانے میں بلوچ اقوام بھی پہاڑوں سے اتر کر میدانوں میں آباد ہو گئی تھیں ۔ پھر یہ بھی ہوا کہ اس علاقے پر چار حکومتوں نے تسلط جما رکھا تھا ، دریاؤں کے مقام اتصال ڈھاکہ بھنجری سے شمال کی طرف ڈوالا کے مقام تک پہلے ہنڑوں کی پھر سیت پور کے مخادیم کی حکومت رہی ۔ آخر میں نواب بہاولپور حکمران رہا ۔ پھر میرانی بلوچ ، پھر گجر اور آخر میں بہاولپور کے نواب قابض رہے ۔ اب وہ علاقہ دیکھیئے جو ملتان کے مغرب میں دریائے چناب کے دائیں کنارے کے ساتھ ساتھ ہے تو تھل کے اس حصے پر اکثر و پیشتر ملتان کے صوبیداروں کا تسلط رہا ۔ پندرھویں رھویں صدی کے اواخر میں بلوچ اقوام دریائے سندھ کے مغربی کنارے کےساتھ ساتھ کروڑ سے لے کر سیت پور تک آباد ہو چکی تھیں ۔ ۱۳۸۴ء میں حاجی خان میرانی دیرہ غازی خان کی بنیاد رکھی اور پھر ان کا شاہی سلسلہ چل پڑا ۔ غازی خان اول نے لنچھر ( کانھے جھر) کا قصبہ آباد کیا ۔ محمد خان گجر نامی ایک شخص آخری غازی خان کا وزیر بن گیا ۔ اس نے یہ بہانہ بنا کر ، کہ وہ سازشیوں کا قلع قمع کرنا چاہتا ہے ، سندھ کے غلام شاہ کلہوڑا کو بلا لیا ۔ اس نے دیرہ غازی خان پر قبضہ کر لیا اور غازی خان کو قیدی بنا کر سندھ بھیج دیا جہاں وہ مر گیا ۔ محمود خان گجر صو بیدار بن گیا ۔ اس نے ۳۰ سال حکومت کی . ۔ اسے خراسان کے بادشاہوں کی سرپرستی حاصل تھی ۔ انہوں نے اسے نواب اور جان نصر کا خطاب دیا ۔ یہ مر گیا تو اس کے بعد اس کا بھتیجا برخوردار جانشین ہوا لیکن خراسان کے باشاہوں نے اسے معزول کر کے اپنی طرف سے صوبیدار بھیج دیا ۔ خراسان سے صوبیدار آنے شروع ہو گئے تو علاقے میں بد امنی پھیل گئی ۔ نواب بہاولپور کو موقع ہاتھ آگیا اس نے 1691ء میں دیرہ غازی خان پر حملہ کر دیا ۔ ملتان میں لنگاہوں کی حکومت -۱۵۲۹ء میں ختم ہو گئی تھی ۔ افغانوں نے ، جو باہر
کی طرف سے برائے نام سر براہی کر رہے تھے ان سے حکومت چھین لی ۔ اکبر کے زمانے میں ملتان کا صوبہ حکومت دہلی میں شامل کر لیا گیا تھا ، لیکن آئین اکبری میں صرف رنگپور اور سیت پور کا ذکر ملتا ہے ۔ کتب تواریخ میں اس صوبے کو کبھی خراسان کے بادشاہوں اور کبھی دہلی کے سلاطین کے ماتحت دکھایا گیا ہے ۔ حقیقت یہ تھی کہ اس صوبے کے نظم و نسق میں ان دونو بادشاہیوں کا کوئی دخل نہیں تھا ۔ مقامی سرداریاں جگہ جگہ قائم ہو چکی تھی ، کوئی کابل سے پروانہ حکمرانی لکھوا لاتا تو کوئی دہلی ۔ سے سند حکومت لے آتا ۔ عملاً طوائف الملوکی تھی جیسا کہ مقامی کہاوت سے ظاہر ہے : اوڈے دلی دی سلطنت وچ فتور ایڈے کابل دیاں نظراں توں دور ! سروزی پٹھانوں کا پہلا شخص جو اس علاقے میں آیا وہ حسین خان تھا ۔ اسے اور نگزیب کے زمانے میں رنگپور کی جاگیر دی گئی تھی ۔ ۱۷۳۸ء میں ملتان کا نواب بن گیا ۔ اس کے جانشینوں کی حکومت کے دوران ایک بار پھر طوائف الملوکی نے زور پکڑا تو ۱۷۷۷ء میں شجاع خان کو ملتان کی صوبیداری مل گئی ۔ اس کے زمانے میں بھنگی سکھوں نے حملے کر کے ملتان پر قبضہ کر لیا ۔ شجاع خان کے بعد اس کا بیٹا مظفر خان کو ملتان کی صوبیداری ملی لیکن ۱۷۷۹ء تک وہ ملتان کو سکھوں سے واپس نہ لے سکا ۔ پھر شاہ کابل تیمور شاہ نے سکھوں کو نکالا اور مظفر خان کو نواب کا خطاب دے کر ملتان کا صوبیدار بنا اسکی حکومت ۱۸۱۸ء تک قائم رہی ۔ اسے مسلسل سکھوں کے خلاف لڑائیاں لڑنی پڑیں ۔ اس کے زمانے میں ملتان کے صوبے میں رنگپور ، مراد آباد ، مظفر گڑھ ، خان گڑھ کے تعلقے شامل تھے – ۱۸۱۸ء میں مظفر خان پانچ بیٹوں سمیت شہید ہو گیا اور ملتان دیا ۔کی حکومت سکھوں کے ہاتھ آگئی ۔ اس عہد تک جنوبی تھل کی تاریخ یہی کچھ ہے ۔ اب شمال مشرقی تھل کا تھوڑا سا علاقہ باقی رہ گیا ہے ۔ اس کی تاریخ اور بھی زیادہ مختصر ہے نور پور ٹوانوں کا شہر تھا ۔ خوشاب سے دیرہ اسمعیل خان تک خط کھینچا جائے تو یہ شہر وسط میں ہو گا ۔ یہ کوہستان نمک سے نیچے کا جنوبی علاقہ ہے ۔ چونکہ جہلم اور سندھ دونوں کے طاس سے اونچا ہے اس لئے دونو کے پانیوں سے محروم ہے ۔ اسے ریت کا سمندر کہا جائے تو بے جانہ ہو گا ۔ اس کے بڑے بڑے ٹیلوں کا رخ شمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف ہے ۔ کہیں کہیں صحرائی جھاڑ جھنگار اور گھاس دکھائی دے جاتے ہیں ۔ نور پور کے مغرب میں دو میل چوڑی ایک پٹی ہے جو بہت دور تک دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلی جاتی ہے ۔ اس پٹی میں کنوئیں کھود کر آبپاشی کی گئی ہے ۔ تھل کے عین وسط میں بھی کنوؤں کے نشان ملتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت میں یہ علاقہ آباد اور زرخیز تھا ۔ مغلیہ خاندان کے زوال سے پہلے کے تاریخی واقعات کسی ربط اور تسلسل کے ساتھ نہیں ملتے ۔ چندر گپت اور اشوک اعظم کے بعد تھل کا یہ علاقہ بیرونی حملہ آوروں کی آماجگاہ بنا رہا ہے ۔ شاہان دہلی نے بھی اسے قربانی کا بکرا بنا کر پہلی دفاعی صف کے طور پر استعمال کیا ۔ پھر اس تھل پر دیرہ اسمعیل خان اور دیرہ غازی خان کے بلوچوں کا قبضہ رہا ۔ بیرونی حملہ آور شمال ، مغرب اور مشرق سے اگر اسے صدیوں تک پامال کرتے رہے ۔ مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد یہاں بد امنی حد سے زیادہ بڑھ گئی ۔ سکھوں کی یلغاروں نے آباد اور غیر آباد ہر طرح کے علاقوں کو تہس نہس کر دیا ۔ نور پور اور اس کے نواحی علاقوں پر ملک شیر خان کی سرکردگی میں ٹوانہ قوم قابض ہو گئی تھی ۔ ورچہ کے سردار گل جہانیاں کی وفات پر انہوں نے شیخو وال اور چند دوسرے مواضعات بھی ساہی وال کے بلوچوں سے چھین لئے تھے اور نمک کی پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ رہنے والے ادانوں پر بھی غلبہ پالیا تھا ۔ پھر انہوں نے خوشاب کو فتح کرنا چاہا لیکن کامیاب نہ ہوئے ۔ اسی افراتفری کے دوران رنجیت سنگھ نے پنجاب کے اکثر علاقوں کو فتح کر لیا تھا ۔ پنجاب فارسی لفظ ہے اسے سب سے پہلے ابوالفضل نے سیج، بیاس ، راوی ، چناب اور جہلم کے مشرق کے علاقوں کے لئے استعمال کیا تھا ۔ سکھوں نے زور پکڑا تو اپنے علاقے کو ، جہاں کے یہ رہنے والے تھے ، پنجاب کہہ کر ایک علیحدہ تشخص دے دیا ۔ رنجیت سنگھ کے قبضے میں خوشاب ، ساہیوال اور جھنگ کے علاقے آچکے تو مٹھ ٹوانہ کی طرف بڑھا ۔ اس نے ۱۸۱۶ء میں مصر دیوان چند کی سرکردگی میں کچھ فوجی دستے اسے فتح کرنے کیلئے بھیجے تو مٹھ‎ ٹوانہ کے ملک نور پور میں پناہ گزین ہو گئے ۔ ان کا خیال تھا کہ خوراک کی کمی اور پانی کی نایابی سکھوں کو آگے بڑھنے نہ دیگی لیکن سکھوں نے جابجا کنوئیں کھود ڈالے اور خوراک کے ذخیرے جمع کر کے آگے بڑھ آئے ۔ ٹوانوں نے دیکھا کہ وہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو وہ بھاگ کر دیرہ اسمعیل خان کے نواب کے پاس جا کر پناہ کے طالب ہوئے ۔ نواب کے ساتھ ان کی پرانی دشمنی تھی ۔ ویسے بھی بلا مزاحمت بھاگ کر آنے والوں کو کون پناہ دیتا ہے ۔ نواب نے انہیں لوٹ لیا اور بے سروسامان کر کے بھگا دیا ۔ ملک خان محمد ٹوانہ اور اس کے بیٹے تقریباً دو سال تک کس پرسی کی حالت میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے ۔ آخر ہمسایہ قوموں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے سے تنگ اگر انہوں نے جان کی بازی لگا کر اپنی ملکیتیں واپس لینے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے چھوٹی سی ایک بے قاعدہ فوج بنا ڈالی اور اپنے شہر کی طرف روانہ ہو پڑے ۔ پھر اچانک اپنے شہر کی فصیل پر نمودار ہو گئے تو سکھ پریشان ہو گئے ۔ ان کا توپخانہ اس اچانک حملے کیلئے تیار نہیں تھا ۔ سکھوں نے شہر خالی کر دیا اور ٹوانوں نے بڑی آسانی سے اپنی اراضیات پر قبضہ کر لیا ۔ لیکن ان کی یہ کامیابی عارضی ثابت ہوئی ۔ ۱۸۱۸ء کے شروع میں سکھوں کا شکست خوردہ گورنر ایک بڑی فوج لے کر ان کے سر پر آن پہنچا ۔ ٹوانے ایک بار پھر بے خانماں ہو گئے ۔ ان کی ملکیتیں ہری سنگھ کلوہ کو دے ہی گئیں ۔ یہ تادم زیست یعنی ۳۰ اپریل ۱۸۳۷ء تک ان پر قابض رہا ۔ ٹوانوں نے اپنی ملکیتیں دوبارہ حاصل کرنے کی جو کوشش کی تھی اس سے رنجیت سنگھ بہت متاثر ہواتھا ۔ اس نے سوچا کہ ٹوانوں سے دوستی اس کے لئے فائدہ مند رہیگی ۔ چنانچہ جب ملک خان محمد ٹوانہ اپنی اطاعت کا یقین دلانے لاہور کے سکھا شاہی دربار میں پہنچا تو اس کی نہ صرف پذیرائی کی گئی بلکہ اسے بہت سی جاگیریں بھی عطا کر دی گئیں اور کئی دوسری مراعات سے بھی نوازا گیا ۔ اس طرح تھل کا یہ خاندان پنجابی سکھوں کا وفادار حلیف بن گیا ۔انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر حکومت قائم کر لی تو ٹوانے انگریزوں کے وفادار بن گئے اور تمام سابقہ مراعات حاصل کرتے رہنے ۔ چونکہ مٹھ ٹوانا لیہ کے صدر مقام سے دور تھا اس لئے ۱۸۵۷ء میں اسے لیہ سے نکال کر شاہ پور کے ساتھ لگا دیا گیا ۔ ۱۸۶۱ء میں احمد پور اور گڑھ مہاراجہ کا علاقہ بھی مظفر گڑھ سے نکال کر جھنگ کودے دیا گیا ۔

 نوٹ : یہ مضمون ڈاکڑ مہر عبدالحق سمرا کی کتاب "تھل” سے لیا گیا ہے 

 

یہ بھی پڑھیں

جواب دیں

Back to top button

For copy this text contact us :thalochinews@gmail.com