تھل "ڈاکڑ مہر عبدالحق"

چندر گپت موریہ

مصنف:ڈاکڑ مہر عبدالحق

تاریخ میں جذباتیت اور تخیل کی آمیزش نہیں ہو سکتی ، لیکن علم صحیح کی سطح سے کم تر سوچ رکھنے والے لوگ جب کسی تاریخی شخصیت کے محر العقول کارناموں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ تو جذبات کی رو میں بہہ کر اور تخیل کی ذمنی استراحت و محویت میں کھو کر اس کے کارناموں میں ایسے ایسے مبالغہ آمیز واقعات شامل کر دیتے ہیں کہ ٹھوس حقیقتوں کی تاریخ بھی دیو مالائی رنگ اختیار کر لیتی ہے ۔ یونانی حکمت اور فلسفےسے ہم متاثر ہوئے تو سقراط ، بقراط، افلاطون جالینوس اور ارسطو ہمارے ذہنوں پر ایسے سوار ہوئے کہ اپنے وطن کے وہ عظیم لوگ بھی فراموش کر دیئے گئے جو ان حکیموں ، طبیبوں اور فلسفیوں سے کہیں زیادہ آگے بڑھے ہوئے تھے ۔ سکندر مقدونی ، اپنے ہی ساتھ لائے ہوئے واقعہ نگاروں کی مرتب کردہ یاد داشتوں کی رو سے وادی سندھ کی رگ جان سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر لے جانے والا ظالم لیٹڑا اور مذہباً بت پرست تھا لیکن ہم اس سے مرعوب ہوئے تو ہم نے تخیل ، جذباتیت اور مبالغہ کی آمیزش سے کئی فرضی قصے گھڑ کر نہ صرف تاریخ کو دیو مالا میں تبدیل کر دیا اور انگریز حکمرانوں کی پیروی میں اسے ، ” اعظم ” کہنا شروع کر دیا بلکہ بچوں کے نام بھی اس بت پرست کے نام پر سکندر بخت ، سکندرحیات وغیرہ رکھنا شروع کر دیئے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس اندھی عقید تمندی نے ہمارے حافظے سے ان محبان وطن کے نام بھی مٹادیئے۔سکندر خان جنہوں نے اس جابر سلطان کو لوہے کے چنے چبوا دیئے تھے اور اس مداخلت بے جا کرنے والے غیر ملکی ” فاتح ” کی قدم قدم پر مخالفت کی تھی ۔ یہ لوگ کون تھے ؟ ہمارے آباؤ و اجداد ہی تو تھے ، ہمارے عظیم وادی سندھ کے جیالے بہادر ہی تو تھے ، ہمارے عظیم تر تھل کے غیرت مند سرفروش ہی تو تھے اور ہمارے اسی وطن عزیز کے فرض شناس سپوت ہی تو تھے ۔ کیا آج ہم انہیں صرف اس لئے فراموش کر دیں کہ ان کے نام ہمیں ہندوؤں کے ناموں جیسے لگتے ہیں ؟ اور عربی فارسی کے ناموں سے مختلف ہیں ؟ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ! علم اور تحقیق تو عصیتوں سے بالا تر چیز کا عام ہے ۔ آج جب ہم اپنے تشخص کو پہنچاننے کے لئے بیدار ہو رہے ہیں ، ہمیں علم اور تحقیق کو دیو مالائی قصے کہانیوں پر ترجیح دینی ہوگی کیونکہ یہی قصے ہی تو ہیں جو تاریخ کو ہمارے ذہنوں سے نکال دیتے ہیں آکسفورڈ ہسٹری آف انڈیا ” کا مصنف لکھتا ہے کہ :موریا خاندان کے شاہی سلسلے کا آغاز مورخین کے لئے اندھیرے سے
مختلف روشنی کی طرف آگے بڑھنے کی ایک شاہراہ ہے ” لیکن خومی قسمت سے خود مورخین نے بر عظیم ہندو پاکستان کے اس اولین شہنشاہ یعنی چندر گپت کے گرد اندھیرے دھندلکوں کے دبیز پردے حائل کر رکھے ہیں ۔ جن کے علمی ذرائع سے ہم اس فقید المثال شخص کی پیدائش ، ابتدائی تعلیم و تربیت ، لڑکپن اور جوانی اور اسکی مہمات اور معرکہ آرائیوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں وہ اتنے کم یکطرفہ اور تعصبات میں لیٹے ہوئے ہیں کہ ہمارے سامنے اس کی کوئی صاف اور واضح تصویر ابھر کر نہیں آتی ۔ ان ذرائع کی تفصیل یہ ہے:
1 – سکندر مقدونی کے یونانی ہمراہیوں کی یادداشتیں اور وہ تاریخیں جو ان کے ایک نسل بعد ” کے زمانے میں لکھی گئیں ۔
۲ – ارتھ شاستر کے نام کی کتاب جسے چندر گپت کے استاد ” مربی اور وزیراعظم و شنو گپت چانکیہ یا کوتلیہ نے ریاستی نظم و نسق کے موضوع پر تصنیف کیا ۔ – جین مذہب کے پیروکاروں کی مذہبی کتابیں ۔- ” مدرا راکھشس ” نام کا ایک سیاسی ڈرامہ جو چوتھی عیسوی میں چندر گپت کی وفات کے تقریباً سات سو سال بعد لکھا گیا تھا – سیلو کس کی طرف سے چندر گپت کے دربار میں بھیجے گئے سفیر میگستھنیز کی تحریریں ۔سمترا بوارین اور سکندر کے دوسرے مورخین کے وہ حوالے جو انہوں نےبراہمنوں کی روایات کے بارے میں اپنی تحریروں میں محفوظ کر لئے ہیں ۔ ان متفرق ذرائع سے چندر گپت کی زندگی کے اس حصے پر بخوبی روشنی پڑتی ہے جس میں اس نے سلطنت قائم کر لی تھی لیکن ابتدائی حالات معلوم نہیں ہوتے ۔ ڈرامہ جو شہنشاہ کی وفات کے تقریباً سات سو سال بعد لکھا گیا ہے تاریخی واقعات کی بجائے تخیلاتی ، آریاؤں کا نفرت آمیز رویہ مفروضات پر مبنی ہے جن میں سے صاف جھلکتا ہے ۔ چندر گپت موریا غیر آریہ اور غیر ہندو تھا ۔ آریہ برہمن وادی سندھ کے ان تمام لوگوں سے شدید نفرت کرتے تھے جو ان ایک ہزار سال پہلے یہاں آباد ہو چکے تھے ، اعلیٰ تہذیب و تمدن کی بنیادیں رکھ چکے تھے اور ان کے براہمنی مذہب کی رسومات کی پیروی نہیں کرتے تھے ۔ چندر گپت موریا وادی سندھ کے بالائی میدانوں یعنی تھل کا شہزادہ تھا اس میدانی علاقے سے اوپر پہاڑی علاقوں میں آریاؤں کے جتھے آباد تھے جو زیریں علاقے کے لوگوں کو ملیچھ اور شودر جیسے برے ناموں سے پکارتے تھے ۔یونانی مورخ بھی چندر گپت سے خوش نہیں تھے کیونکہ پوری وادی سندھ میں صرف یہی ایک شخص تھا جس نے مقدونی حملہ آور اور اس کے فوجوں کی راہ میں قدم قدم پر مصیبتیں کھڑی کر دی تھیں۔ انہی کی تحریروں کے مطابق یہ شخص ٹیکسلا کے فتح ہو جانے کے بعد لمحہ بھر بھی چین سے نہیں بیٹھا اور جب تک سکندر یہاں سے نکل نہیں گیا اس وقت تک یہ برابر اس کے لئے عذاب جان بنا رہا ۔ یونانی مورخین لکھتے ہیں کہ ۳۲۵ ق ۔ م میں یہ نوجوان بڑی دلیری کے ساتھ سکندر مقدونی کے روبرو پیش ہو گیا اور اس نے اس کے ساتھ کچھ ایسے بے باکانہ انداز میں گفتگو کی کہ سکندر نے حکم دے اس گستاخ کو قتل کر دیا جائے لیکن بہادر نوجوان جو اس سے پہلے مگدھ کے راجہ نندا کے مسلح عساکر کا سالار رہ چکا تھا سکندری فوجوں کے گھیرے کو توڑتا ہوا اس تیزی دیا کہ اس سے نکل گیا کہ یونانی اس کی گرد کو بھی نہ پاسکے ۔ پھر یہ اپنے وطن کے صحراؤں میں گرم ہو گیا ۔ مورخین میں سے کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ چندر گپت اور سکندر کی دو بدو گفتگو میں کیا باتیں ہوئیں اور سکندر اس جرات مند نوجوان کی کسی گستائی پر سیخ پا ہو گیا اور اس نے اس کے قتل کا حکم دے دیا ، تاہم ” میکرنڈل ” کے ایک اشارے سے معلوم ہوتا ہے کہ سکندر نے اسے اپنی افواج میں کسی اعلیٰ عہدے کی پیشکش کی مگر اس محب وطن نے اسکی پیشکش کو بڑی حقارت سے ٹھکرا دیا اور اس پر سکندر بھرنک اٹھا ۔ ” میکر نڈل کے الفاظ یہ ہیں : یہ چندر گپت کی وطن پرستی کا شدید جذبہ تھا جس کے تحت اس نے اپنے وطن کی آزادی سلب کرنے والے شخص کی ملازمت اور اس کے اعلیٰ مراتب کو قبول
کرنے سے انکار کر دیا ۔
گپت کے معنے ہیں ” چھپا ہوا ” ۔ حقیقت یہ ہے کہ سکندر کے منہ پر انکار کا تھپڑ مارنے کے بعد جس دن سے اس نے اپنے آپ کو چھپایا لیا تھا اس دن سے لے کر سکندر کے سندھ کی سرزمین کو خالی ہاتھ چھوڑ جانے کے آخری لمحے تک چندر گپت یونانیوں پر مسلسل گوریلا حملے کرتا رہا ، حملہ آوروں کے خلاف خفیہ منصوبے بناتا رہا ، انہیں مصیبتوں کے کانٹوں میں گھسیٹا رہا ، بغاوتیں کراتا رہا اور بالا آخر ان کی قائم کی ہوئی تمام چھاونیوں کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ یہ سارا کچھ اس نے تھل کے ان وطن پرست بہادر لوگوں کی مدد سے کیا جن کے ہاں یہ چھپا ہوا تھا ۔ دیو مالائی قصوں میں اگر کوئی علامت ہے تو اس کی تشریح ہم یوں کرینگے کے چندر گپت ہی وہ عقاب تھا جس نے جھپٹا مار کر سکندر کے ہاتھوں سے منہ تک آیا ہوا آب حیات کا پیالہ گرا دیا ۔
.” آکسفورڈ ہسٹری آف انڈیا ” کے مطابق بھارت کے برہمنوں نے روز اول سے ہی دریائے سندھ کی گزرگاہ کے علاقے کے علاوہ دریائے ستلج کے اس پار کے تمام علاقوں کو ناپاک سرزمین قرار دے دیا تھا ۔ کٹر ہندو تواب بھی دریائے سندھ کو عبور کرنے سے احتراز کرتے ہیں ۔ اور مذکورہ تمام علاقوں کو ناپاک مجھتے ہیں ۔ اس شدید نفرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شمال مغربی علاقے ایسے حملہ آوروں کی مسلسل زد میں رہے ہیں ۔ جو برہمنوں کے مذہبی طور طریقوں کے مخالف تھے اور اپنے علیحدہ طور طریقوں کی پابندی کرتے تھے ۔ قدرے بعد کے ویدک لٹریچر گھوٹکی تک کے بالائی سندھ کو حقارتا ناپاک سرزمین کہا گیا ہے کیونکہ یہاں برہمنوں والی قربانی کی رسمیں ادا نہیں کی جاتی تھیں ۔ آریاوں کا بڑا مقنن بودھان کہتا ہے کہ سندھ سود برا کے لوگ ” سنکر لیانی ” یعنی مخلوط النسل ہیں ۔ بات تو ٹھیک ہے کیونکہ کوہ سیلمان کے متعدد دروں سے آنے والے اور یہاں کے اصل باشندے آپس میں مدغم ہو گئے تھے لیکن بودھیاین نے یہ لفظ طنزاً گالی کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ ویدک لٹریچر ساری وادی سندھ کے لوگوں کو داسو ، خودر ، لچھے پشاچ ( کچا گوشت کھانے والے ( اور نشاد کہا گیا ہے ۔ لہذا چندر گپت کے بارے میں آریائی برہمنوں کی باتیں کس طرح تعصبات سے پاک ہو سکتی ہیں ؟
چندر گپت موریا تھل کا رہنے والا تھا ۔ بدھ مت کی مقدس کتابوں کی روایات کی رو سے یہ عظیم شخص ” پچھلی وان ” کے مور یا بادشاہ کی بڑی ملکہ کے ہاں پیدا ہوا ۔ اس ملکہ کے بارے میں جو خرافات مشہور کی گئی ہیں وہ تعصبات کی پیدا کردہ ہیں ۔ ” پچھلی دان ” وہی قصبہ ہے جیسے آج ہم ” پہلاں والی ” یا اختصاراً ” پہلاں ” کہتے ہیں ۔ چندر گپت کا باپ ہمالیہ سلسلے کی پہاڑیوں والی ایک ریاست کا بادشاہ تھا ۔ جدید تحقیقات کے مطابق یہ ریاست سکیسر سے جلال آباد ) افغانستان ) تک پھیلی ہوئی تھی ۔ مشہور کتاب ٹریڈ روٹس ان اینٹنٹ انڈیا ” کا مصنف موتی چندر لکھتا ہے کہ یہ علاقہ سکندر نے موریا بادشاہ سے چھینا تھا ۔ اس کی تصدیق یوں ہوتی ہے کہ جب سیلو کس نے چندر گپت کے آگے ہتھیار ڈال دیئے تو اس نے چندر گپت کو پہلا تحفہ یہی دیا کہ اس کے باپ کی ریاست اسے واپس کر دی ۔ ۱ – سون سکیسر کا یہ بادشاہ اتفاقاً کسی سرحدی تنازعے کی دوران مارا گیا ۔ بڑی ملکہ اس اچانک سانے سے تہنا کاور بے یار و مددگار رہ گئی ۔ پاٹلی پتر اس وقت غیر آریائی غیر ہندو ” شک” قوم کا مرکز تھا جہاں نندا خاندان حکمرانی کرتا تھا ۔ سکھیر ( ساکاسر ) کی رانی اسی ” ساکا ” راجدھانی کی طرف چل پڑی ۔ راستے میں ایک مویشی خانے کے قریب چاندنی رات کے اجالے میں اس کا وضع حمل ہو گیا ۔ ایک چرواہے نے زچہ اور بچہ کو فوراً اپنی پناہ میں لے لیا اور بچے کا نام چندر گپت رکھ دیا ۔ جس کے معنے ہیں ” چاند کے نور سے ڈھکا ہوا ” دی ـ کے سبرامین لکھتا ہے کہ ایک روز چانکیہ کاادھر سے گزر ہوا اور اس نے اتفاقاً اس بچے کو دیکھ لیا ۔ اسے اس بچے کے اندر اس کے تابناک مستقبل کی کچھ ایسی نشانیاں مل گئیں کہ اس نے چرواہے کو اسی وقت ایک ہزار کار شما پن ” ادا کر کے بچے کو خرید لیا ۔ رانی سے حالات معلوم ہوئے تو بچے کی تعلیم و تربیت میں اسکی دلچسپی اور زیادہ بڑھ گئی ، ٹیکسلا ان دنوں دنیا بھر کے علوم وفنون کااعلیٰ درجے کا بین الاقوامی مرکز تھا ۔ یہاں بادشاہوں، وزیروں ، امیروں ، رکھیوں اور بڑے بڑے تاجروں کے بچے ابتدا سے انتہا تک تعلیم پاتے تھے ۔ ۔ اس بین الاقومی شہر کی آبادی مختلف علاقوں سے آئے متنوع تہذیبوں والے خاندانوں پر مشتمل تھی ۔ سکندر کا مورخ سترابو لکھتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت زرتشتی مذہب کی پیروکار تھی اور معاشرتی رسوم و رواجات میسوپوٹیمیا والے ادا کئے جاتے تھے ۔ ٹیکسلا یونیورسٹی کے عالم فاضل اساتذہ برہمن کہلاتے تھے ۔ ان کا آریاؤں کے مذہبی براہمنوں سے کوئی تعلق نہ تھا ۔ چانکیہ انہی معنوں میں اس یونیورسٹی کا برہمن تھا ۔ اس نے چندر گپت کو اعلیٰ تعلیم و تربیت کی غرض سے یہیں اپنی سرپرستی میں رکھ لیا ۔
چندر گپت مور خاندان سے تھا ۔ اس قوم کے بارے میں مورخین اور آثار قدیمہ کے ماہرین نے جدید ترین تحقیقات کی روشنی میں بہت بڑے انکشافات کئے ہیں ۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے دونوں کناروں پر اس قوم کا تسلط تھا کیونکہ اس کا شمار دنیا کے اولین جہاز رانوں میں ہوتا تھا ۔ تھل ، بہاولپور کا چولستان ، راجپوتانے کا مغربی صحرا اور سندھ کے تھر ( تھل ) کا علاقہ انہی کی تحویل میں تھا کیونکہ بین الاقوامی تجارت کے بھی ، جو کشتیوں کے ذریعے جاری ، یہی مالک و مختار تھے ۔ آریا سمندروں سے ڈرتے تھے بلکہ دریا تک عبور نہیں کرتے تھے ۔ ان کا موریا قوم سے نفرت کرنا قدرتی امر تھا ۔ چونکہ دریاؤں کے یہ بادشاہ مچھلی اور دریائی جانور کھاتے تھے اس لئے آریاؤں نے حقارت سے انہیں پشاچ بھی کہا ۔ کرنل ٹاڈ نے وادی سندھ کے وسطی علاقوں کی صحرائی قوموں کے حسب نسب پر جو تحقیقی کام کیا ہے وہ قابل قدر او قابل اعتماد ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ۔ اگنی کل ” کا سب
تھی .سے پہلا اور طاقتور حلیف ” پر مار ” ہے اس کی قوم کی ۳۵ لڑیاں ہیں جن میں سے اکثر کوخود مختار بادشاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ ان لوگوں نے دریائے ستلج سے لے کر ساحل سمندر تک کے علاقے کو اپنے درمیان نو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا ۔ پرماروں کی بڑی لڑی کا نام موری ہے ۔ پر ماروں کے ایک کتبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ یعنی مورتستا اور بینک کی نسل سے ہیں ان کے مرکز اقتدار چتوڑ سے بھی اس کی مکمل تائید ہوتی ہے ۔ سکندر کا مخالف چندر گپت مور تھا ۔ مقدس شجرہ ہائے نسب میں موروں کو تکشک نسل ے تعلق رکھنے والے دکھایا گیا ہے ۔
پر ماروں کی دوسری لڑی کا نام سوڈا ہے جسے یونانیوں نے سوگدئی لکھا ہے ۔ قدیم زمانے میں یہی وہ لڑی تھی جس نے صحرائی خطوں پر تسلط جما رکھا تھا ۔ ۔ ان کی ایک شماخ اومرا سومرا کہلاتی تھی ۔ انہوں نے اومر کوٹ اور اومرا سومرا نام کے دو شہر بسائے جو سکھر والے بھکر کے سامنے ہیں ۔ پس ان وضاحتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ” ” مور ” اور ” سومرا ” ایک شاہی نسل سے ہیں اور وادی سندھ کے سمیربین بادشاہ ” ارواش ” کے براہ راست جانشین ہیں موروں نے دریا سنبھال لئے اور سمراؤں نے صحراؤں اور میدانوں پر حکمرانی کے جھنڈے گاڑ دیئے ۔
ان وضاحتوں سے چندر گپت کے چھپ چھپ کر حملے کرنے ، راجاؤں کو سکندر کے خلاف اکسانے وادی سندھ کے تمام صحراؤں لوگوں کا چندر گپت کی حمایت کرنے بلکہ اس کے منصوبوں میں عملاً شریک ہونے کی بات بھی سمجھ میں آجاتی . ہےجیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے چندر گپت کو اوائل عمری میں ٹیکسلا بھیج دیا گیا تھا تا کہ وہاں وہ شہزادے کی حیثیت سے تعلیم حاصل کرے ۔ ایچ ۔ سہی ۔ رانین لکھتا ہے کہ ٹیکسلا میں لڑکپن ہی کے دوران وہ ایرانی طور طریقوں سے متاثر ہوا ۔ اس یونیورسٹی میں وه ۱۲ سال کی عمر تک رہا ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد اس کیلئے امور سلطنت میں عملی مہارت پیدا کرنا ضروری تھا ۔ چانکیہ نے ، جو اس کا استاد اور سرپرست بھی تھا ، اسے مگدھ کے باد بادشاہ سے متعارف کرا دیا ۔ یہاں نوجوان شہزادے کو اپنی صلاحیتیں ابھارنے اور ذہانت و قابلیت ظاہر کرنے کے خوب مواقع ملے ۔ بادشاہ اس کے جوہر دیکھ کر اتنا خوش ہوا کہ اس نے اسے اپنی فوج میں جرنیل کا عہدہ دے دیا ۔ چندر گپت اس سارےعرصے کے دوران مقدونی افواج کی طوفانی پیش قدمیوں کو دیکھتا رہا اور اپنے وطن کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں کی آپس کی چپقلشوں کا خاموشی سے مشاہدہ کرتا رہا ۔ یہ محب وطن نوجوان اپنی سرزمین کو کشت و خون سے لالہ زار بنتے دیکھتا تو تڑپ کر رہ جاتا ۔ وہ دل سے چاہتا تھا کہ وطن عزیز کی تمام راجدھانیاں اپنے اندرونی اختلافات مٹاکر متحد ہو جائیں اور اپنی مشترکہ عسکری قوت سے مغرور اور خود سر حملہ آور کو کچل دیں ۔ اس جذبے کے تحت اس نے اپنے بادشاہ نندا کے سامنے خیالات کا اظہار کیا اور اس سے مدد چاہی ۔ نندا نے اسکی تجویز کو غلط معنے پہنا دیئے ۔ وہ ڈر گیا کہ شاید یہ نوجوان سازش کر کے اسے تخت سے اتارنا چاہتا ہے ۔ اس نے فوراً اسے فوج سے برخاست کر دیا ۔ مجبور اور مایوس ہو کر چندر گپت کو پاٹلی چھوڑ دینا پڑا ۔-چانکیہ ، اس کا مربی ، صلاح کار اور استاد ، اس سارے عرصے کے دوران اس کے ساتھ رہا اور مشورے دیتا رہا ۔ تاہم ہم نہیں جانتے کہ خود چندر گپت کو اپنے استاد کی دانشمندی اور رہنمائی پر کتنا اعتماد تھا ۔ اس بارے میں ایس ۔ کے سبرامین نے ایک واقعہ لکھا ہے جو بڑا معنی خیز ہے ۔ جرنیلی سے علیحدہ ہو جانے کے بعد ایک دن چندر گپت نے دیکھا کہ اس کا استاد جنگل میں کیا گھاس کی بڑوں میں شربت ڈال رہا ہے اس متعجب ہو کر وجہ پوچھی تو چانکیہ نے کہا : دشمن سے انتقام لینے کا یہی سب سے اچھا طریقہ ہے ۔ اس س گھاس نے میرے پاؤں زخمی کر دیئے تھے ۔ ۔ میں اسے تباہ کر دینا چاہتا ہوں ۔ شربت کی بو پا کر لاکھ چیونٹیاں آناً فاناً اسکی جڑوں سے چمٹ جائینگی اور دیکھتے ہیں دیکھتے اسے تباہ برباد کر دینگی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ آنکھ جھپکنے کی دیر میں کیا گھاس کا وہاں نشان تک نہ رہا ۔ چندر گپت اپنے رہنما کی دانائی سے بڑا متاثر ہوا ۔ اس نے اپنے آیندہ کے سارے منصوبے اس آنکھوں دیکھے تماشے کی روشنی میں بنا ڈالے ۔ دشمن کے سامنے آنے کی بجائے وہ پس پردہ چھپ گیا اور پھر اس نے ایسے ایسے کارنامے کر دکھائے جو بڑے بڑے صح اور طاقتور لشکر بھی سرانجام نہ دے سکے تھے ۔ ان کارناموں کی فہرست خاصی طویل ہے ۔ کچھ تقدیم تحریروں میں محفوظ ہیں ، کچھ سینہ بہ سینہ روایات کے ذریعے مورخین تک پہنچے ہیں اور کچھ تعصبات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔ مقدونی فوجوں کےاندر بغاوت اور شکستہ دلی پیدا کر دینا ، مفتوحہ علاقوں کے لوگوں کو یونانیوں کے خلاف ابھارنا ، سکندری فوجوں کو مشکلات میں پھنسانا ، سندھ کے راجاؤں کو اور ان کی رعایا کو سکندر کے خلاف منظم کر کے اسے نقصان پہنچانا ، اور آخر میں سندھی ملاحوں کو فرار کر کے سکندری جہازوں کو تباہ کر دینا ، وغیرہ ایسے تاریخی واقعات ہیں جن سے ۔ کسا گھاس والی پالیسی پوری طرح کامیاب ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔چندر گپت کی سکندر سے جو ملاقات ہوئی اس کے مقاصد کے بارے میں ہمیں بہت سی قیاس آرائیاں ملتی ہیں ۔ ان میں سے ایک جس کے صحیح ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں ۔ پلو ٹارک نے بیان کی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ چندر گپت نے سکندر سے کہا کہ اگر وہ نندا کی ریاست پر حملہ کر دے تو وہ اسے آسانی سے فتح کر لیگا کیونکہ رعایا بادشاہ کے خلاف ہے ۔ جب سکندر کو یہ بتایا گیا کہ اس حملے کیلئے سکندر کو دریائے بیاس عبور کرنا پڑیگا تو وہ گھبرا گیا کیونکہ اس کے علم کے مطابق دریائے بیاس کے پار تو کچھ تھا ہی نہیں ۔ سکندر اور اس کے جرنیلوں کو اس علاقے کا جغرافیہ صرف اتنا معلوم تھا کہ اس دریا کے پار ( DESERTA INCOGNITA ( یعنی صحرائے نامعلوم ہے جو زمین کا آخری کنارا ہے ۔ مورخ ارین کہتا ہے کہ اس وقت سکندری فوج بہت خوفزدہ تھی کیونکہ ان کے اندر یہ افواہ پھیلا دی گئی تھی کہ سکندر انہیں ایسے ملک میں لے جانا چاہتا ہے جہاں کا تازہ دم جرار لشکر بیشمار جنگی سازو سامان اور مضبوط و توانا ہاتھی گھوڑوں کے ساتھ ان کے مقابلے کیلئے تیار کھڑا ہے ۔ جرنیل اور سپاہی سب کہے ہوئے تھے ۔ انہیں باور کرا دیا گیا تھا کہ دریائے بیاس کے پار کی زمین بڑی زرخیز ہے اور لوگ بہت نڈر دلیر اور جنگجو ہیں ۔ ان کے بادشاہ کے پاس بڑی قدوقامت والے ہاتھی اور تیز رفتار گھوڑے ہیں جو تعداد میں بہت زیادہ ہیں ۔ پلو مارک مزید لکھتا ہے کہ پورس کے ساتھ شدید جنگ لڑنے کے بعد مقدونی سپاہ فوری طور پر کسی مزید پیش قدمی کیلئے آمادہ نہیں تھی ۔ سب یہی سمجھتے تھے کہ وہ زمین کے آخری سرے تک پہنچ چکے ہیں ۔ چنانچہ چندر گپت کی بات پر سکندر شک میں پڑ گیا کہ یہ نوجوان مجھے اور میری افواج کو صحرا میں پھنسا کر تباہ کر دینا چاہتا ہے ۔ جسٹن اور پلو مارک کے حوالے سے باے ۔ ایل ۔باشم مزید لکھتا ہے کہ نوجوان چندر گپت کی بے باک اور دلیرانہ تقریر کو سکندر نے گستائی پر محمول کیا اور اس کے قتل کا حکم دے دیا ۔ سمینہ بہ سمیہ روایات بات کہتی ہیں کہ چندر گپت نے سکندر کے منہ پر زور سے ، تھپڑ مارا اور بجلی کی سی تیز رفتاری کے ساتھ
وہاں سے ایسا بھاگا کہ سکندر کے جرنیل اور فوجی شہسوار منہ دیکھتے رہ گئے ۔ چندر گپت کی دوسری بڑی کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب ہم سکندر کے اپنے مورخین کی کتابوں میں سکندری فوج کی بغاوت کی تفصیل پڑھتے ہیں ۔ مورخین نے وہ مکالے لفظ بلفظ لکھ دیتے ہیں جو براہ راست سکندر اور فوجی سپاہیوں کے درمیان ہوئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ چانکیہ کی چیونٹیوں نے واقعی کسا گھاس کی جڑوں کو کاٹنا شروع کر دیا
تھا ۔اس جرات مندانہ اقدام کے بعد چندر گپت متواتر سکندر کے تعاقب میں رہا ۔ اس نے اپنے ” سکاؤٹس ” ساحل سمندر تک پھیلا دیئے تھے جو اسے لمحہ لمحہ کی خبریں پہنچاتے رہتے تھے ۔ راجہ سامھو کی بغاوت تھی یا ماؤسی کینوس کی یا کسی اور راجے مہاراجے کی مخالفانہ منصوبہ بندی تھی یا پٹالہ کے راجہ ” مور ” کی حکمت عملی تھی ان سب کے پیچھے چندر گپت کا ہاتھ تھا ۔ ہند ایرانی سرحد کے ساتھ ساتھ سکندر کے اطلاعاتی دستے اسکی افواج کے ساتھ چلتے رہتے تھے ۔ چندر گپت نے ان کو بھی منقطع کر دیا ۔ سکندر نے ماڈی کینوس پر بغاوت کا الزام لگا کر اسکی رعایا تک کو وحشیانہ طریقوں سے سزا دی تھی یعنی راجے کو پھانسی دی ، آبادیوں کو جلا ڈالا ، جان و مال کو تباہ اور برباد کر دیا ۔ اور سب سے بڑھ کر سفاکی یہ کی کہ عالم فاضل درویشوں کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا ۔ چندر گپت اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا تھا کہ جب سکندر راجہ سامسجو کی راجدھانی کی طرف آگے بڑھا تو اس نے دیکھا کہ بادشاہ تو رعیت سمیت فرار ہو چکا ہے ۔ یہی صورت حال چار قدم آگے پٹالہ کے راجہ ” مور” کی راجدھانی میں پیش آئی ۔ سکندر توقع رکھتا تھا کہ بادشاہ اس کا شاندار استقبال کریگا ۔ اور سمندر تک پہنچنے کیلئے اسے جن سہولتوں کی ضرورت ہوگی وہ تمام و کمال اسے میسر آجائینگی ۔ لیکن ہوا یہ کہ جب وہ یہاں پہنچا تو کوئی ایک نفس بھی موجود نہیں تھا ۔ بادشاہ رعیت سمیت استعمال کی ہر چیز برباد کر کےپہاڑوں اور ریگستانوں میں چھپ گیا تھا ۔ سکندری فوج کے کھانے پینے کے لئے اناج کا ایک دانہ اور پانی کا ایک قطرہ تک موجود نہیں تھا ۔ سکندر نے کچھ سپاہی کنوئیں کھودنے پر مامور کر دیئے مگر . ر ” مور ” بادشاہ کے چھاپہ ماروں نے ان پر حملہ کر دیا اور مار دھاڑ کر کے اپنے ریگستانوں میں چھپ گئے ۔ چونکہ ساری مقامی آبادی روپوش ہو چکی تھی اس لئے سکندر کے دریائی پیڑے کے بحفاظت سمندر تک پہنچانے والا بھی کوئی نہیں تھا ۔ سکندر نے فوج کو حکم دیا کہ پھیل جاؤ اور کوئی نہ کوئی ملاح پکڑ لاؤ جو دریا کی ڈیلٹائی شاخوں کا واقف ہو ۔ کچھ لوگ پکڑے گئے تو سکندر نے انہیں بیڑے کی رہنمائی پر لگا دیا یہ ملاح پیڑے ڑے کو ایک براٹ ( دریائی جزیرے ) پر لے آئے اور پھر رات کے اندھیرے میں فرار ہو گئے ۔ سکندر نے پھر فوجی ٹولیاں بھیجیں کہ کوئی اور ملاح ڈھونڈ لائے جائیں ۔ مگر دور دور تک کوئی متنفس تک دکھائی نہ دیا ۔ دنیا کے جس فاتح کو راجے مہاراجے اپنی باہی رقابتوں اور نااتفاقیوں کی وجہ سے شکست نہ دے سکے تھے اب چندر گپت کے موروں کے ہاتھوں زچ ہو چکا تھا ۔ مجبور ہو کر اسے اپنی اور اپنے فوجیوں کی زندگی کو نامعلوم دریا کے رحم و کرم پر چھوڑنا پڑا ۔ سکندری بیڑا سمندر کے قریب پہنچا ہی چاہتا تھا کہ دریا میں جوار بھاما آگیا ۔ یونانیوں کو اس کا پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا ۔ سر بفلک لہروں نے سارے پیڑے کو تباہ کر دیا ۔ پھر ان کی حیرانی کی حد نہ ما حد نہ رہی جب اچانک پانی اتر گیا اور انکی ٹوٹی پھوٹی کشتیاں پانی سے کوسوں دور ریت میں پھنسی پڑی تھیں ۔ خوفناک بدصورت سمندری جانور ہزاروں کی تعداد میں ادھر ادھر رینگ رہے تھے ۔ وہ نہیں سمجھ سکتے تھے ۔ کہ انکی کشتیاں خشکی پر کیسے پاش پاش ہو گئی ہیں ۔ اور پھر دریا کے اندر اتنا بڑا سمندر کیسے گھس آیا ہے ۔ فوج بھوک سے نڈھال ہو گئی کیونکہ کشتیوں کے ساتھ سامان رسید بھی تباہ ہو چکا تھا ۔ کہیں کوئی آبادی بھی نہیں تھی ۔ سپاہی سے لے کر سکندر تک کے دماغ میں یہی بات آئی کہ دیوتاؤں نے انہیں وحشیانہ مظالم کی سزا دی ہے ۔ انہیں کیا خبر کہ یہ ساری ابتلا کسا گھاس کی چیونٹیوں کی لائی ہوئی ہے ! چوراں تے پےگئے ” مور ” !!سکندر جون ۳۲۳ ق م میں بابل ( موجودہ بغداد ) پہنچ کر مر گیا ۔ اس وقت اپنی عمر کے تینتیسویں سال میں تھا ۔ مورخ سترا بو لکھتا ہے کہ ابھی سکندر کے گھوڑوں کی اڑائی ہوئی گرد بھی نہ بیٹھی تھی کہ سکندر کے مقرر کئے ہوئے گورنروں کے خلاف بغاوتوں کے شعلے بھراک اٹھے ۔ چندر گپت نے چند محبان وطن سپاہوں کو منظم کر کے یونانی فوجی چھاونیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ کچھ دن پہلے مگدھ میں بھی انقلاب پیدا کر دیا گیا تھا ۔ نندا خاندان کو نکال دیا گیا تھا اور اب وادی سندھ کا تمام علاقہ دشمنوں سے پاک ہو چکا تھا ۔ پاٹلی پتر سے ٹیکسلا تک اور ٹیکسلا سے ساحل سمندر تک پھیلے ہوئے پرمار ، سومرا ، سوڈا ، مور سب خوش تھے ۔ کہ ان کے شاہی خاندان کے دانا ، دلیر اور جرات مند نوجوان نے فقید المثال کارنامہ سرانجام دے کر وطن عزیز کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرا دیا ہے ۔ مگدھ کا تخت شاہی اس کا منتظر تھا ۔ تاہم یہاں کی بادشاہی اس کی خدمات کے صلے سے بہت کم تھی ۔ ارباب قضاء قدر نے ابھی اس کے ہاتھوں سے برعظیم ہند و پاکستان کی سب سے پہلی تاریخی شہنسا ہیت کی بنیاد رکھوائی تھی ! سکندر نے اپنی فتوحات کو مستحکم بنانے والا کوئی قابل وارث اپنے پیچھے نہیں چھوڑا تھا ۔ اس کے تمام مفتوحہ علاقے اس کے فوجی جرنیلوں نے آپس میں بانٹ لئے تھے فوجی جرنیل اچھے حکمران ثابت نہیں ہوتے ۔ ایشیا کی سب سے بڑی سلطنت کیلئے دو جرنیلوں اینٹی گونوس اور سیلوکس کے درمیان تنازعہ پیدا ہو گیا ۔ طویل کشمکش کے بعد ۳۱۶ ق ۔ م میں سیلوکس نے بابل پر قبضہ کر لیا ۔ اس کے چھ سال بعد اس نے اپنی بادشاہی کا اعلان کر دیا ۔ تاریخ میں اسے نیٹور سیلوکس فاتح شاہ شام لکھا جاتا ہے ۔ اس حیثیت سے واقعی وہ پورے مغربی ایشیا کا بادشاہ تھا ۔ قدم جمالینے کے بعد ، اس امید پر کہ وہ سکندر کے مقبوضہ علاقے پہلے کی طرح بآسانی دوبارہ حاصل کرلیگا ، وہ فوجیں لے کر ہمارے وطن عزیز پر چڑھ دوڑا ۔ چندر گپت نے اسے دریائے سندھ عبور کرنے دیا ۔ جب تھوڑا سا آگے بڑھا تو اس نے دیکھا کہ وہ تو ایک انتہائی منظم ، تربیت یافتہ اور تازہ دم فوج کے درمیان گھر گیا ہے جس کے پاس بیشمار ہاتھی گھوڑے ہیں اور اعلیٰ درجے کا اسلحہ جنگ ہے ۔ وہ گھبرا گیا ۔ سکندری یلغاروں کے دوران یہ سپہ سالار تھا یہاں کے حکمرانوں کی باہمی ناچاقیوں اور رقابتوں کو دیکھ چکا تھا ۔ جو سکندر کیلئے آسانیاں پیدا کرتی چلی گئی تھیں ۔ اس نے سوچا تھا کہ اب بھی وہی صورت حال ہوگی مگر چندر گپت کی مضبوط شخصیت نے تو یہاں کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی ۔ پوری قوم منظم تھی اور بچہ بچہ اپنے نجات دہندہ کے اشارے پر کٹ مرنے کو تیار تھا ۔ سیلوکس کے لئے ” نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ” والی بات بن گئی تھی ۔ مجبور ہو کر اسے ، بالفاظ مورخین شرمناک شکست قبول کرنی پڑی صلح کی شرائط کی رو سے سیلوکس نے پروپنی سدائی آریانہ آرا کوسیا کے صوبے چندر گپت کے حوالے کئے ۔ ان علاقوں کے صدر مقام علی الترتیب یہ تھے : کابل ، ہرات اور قندھار —- ان صوبوں کے علاوہ اسے گدروسیا ( مکران ) بھی دینا پڑا اور ——— اس شکست خوردہ جرنیل بادشاہ نے اپنی بیٹی بھی چندر گپت کے عقد میں دے دی ۔ ان تمام چیزوں کو قبول کرتے ہوئے چندر گپت نے تحفتاً پانچ سو جنگی ہاتھی اسے دیئے ۔ سیلوکس کے اس ناکام حملے کی تاریخ ۳۰۵ ق – م ہے ۔ سے باہر نکل جانے کے تین سال بعد یعنی ۳۰۲ ق ۔ م میں سیلو کس نے خیر سگالی کو اور زیادہ مستحکم کرتے ہوئے چندر گپت کے دربار میں اپنا ایک مستقل سفیر بھیجا جس کا نام میکستھنیز ہے ۔ اس نے شاہی دربار کے آنکھوں دیکھے حالات پر ایک نہایت مستند اور بلند پایہ کتاب لکھی جس میں اس نے اس وسیع اور عریض سلطنت کے جغرافیے ، پیداواری ذرائع ، حکومت ، معاشرتی اداروں اور نظم و نسق کی موریاسلطنت تفاصیل بیان کی ہیں ۔چندر گپت نے ۲۴ سال حکومت کی ۔ اسکی شہنشاہت میں جو علاقے شامل تھے ان کی حدود یہ ہیں :افغانستان کا پورا ملک قدیم صوبه آریانه ہندو کش تک کا سلسلہ کوہ ) انگریز کے وقت والا پنچاب سابقہ صوبجات متحده اگره و اودھ یعنی ہو ۔ پی ۔ جسے اب اتر پردیش کہتے
ہیں صوبہ بہارجزیرہ نما کاٹھیا واڑاور شاید بنگال اور دکن بھی ۔ہے ۔جب ہم اس مرد آہن کی موت کے واقعات و حالات پر غور کرتے ہیں تو اس کے عزم و ثبات اور صبرو تحمل اور استقلال کا ایک اور ہی نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا . ہم حیرت میں کھو کر اپنے آپ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی تھل کا نوجوان پہاڑ کی طرح اٹل ارادے والا صحرا کی طرح کشادہ دل اور آسمانوں کی طرح عالی ظرف ہے ۔ کتنے تابناک جوہر رکھ دیئے ہیں فطرت نے تھل کے رہنے والوں کی سیرت و کردار میں ان کا اندازہ لگانے کیلئے چندر گپت کی زندگی کے آخری واقعات کو سامنے رکھیئے ۔ اس غیر ہندو ، غیر آریا تھل کے جٹ نے ، جس کے شاہی محلات کی شان و شوکت شاہان ایران کے قصر و ایوان کی سطوت کی یاد تازہ کرتی تھی ، آخری عمر میں جین مذہب اختیار کر لیا کیونکہ یہی اسکی رعایا کی اکثریت کا مذہب تھا ۔ اور وہ اپنے عوام سے ایک لمحہ بھی۔ الگ ہو کر نہیں رہنا چاہتا تھا ۔ اہل علم جانتے ہیں کہ جین مت اور بدھ مت دونوں ہندو براہمنوں کے مذہبی عقائد اور طور طریقوں کے خلاف شدید رد عمل کے طور پر ابھرے تھے ۔ دونوں مذہب عوامی تھے اور بت پرستی سے بہت دور تھے ۔ دونوں دوسروں کو دکھ میں مبتلا کرنے کی بجائے اپنے آپ کو اذیتوں میں ہتلار کھکر روحانی ارتقا حاصل کرنے کے قائل تھے ۔ اسلام سے پہلے اس پوری وادی سندھ کا مذہب بدھ مت تھا ۔ ہوا یوں کہ جینیئوں کے مذہبی پیشوا ” بھدر باہو ” نے پیش گوئی کی کہ شمالی ہند میں قحط آئے گا جو بارہ سال تک رہیگا ۔ کچھ دنوں کے بعد قحط کے آثار واقع شروع ہو گئے تو بھدر با ہو بارہ ہزار جینیئوں کو ساتھ لیکر جنوبی علاقوں کی طرف چل پڑا ۔ چندر گیت بہت متفکر ہو گیا ۔ وہ اپنی رعیت کی حالت زار دیکھ کر برداشت نہ کر سکا ۔ اس نے سوچا کہ قحط ذمہ داری خود اسی پر عائد ہوتی ہے لہذا سزا غریب رعیت کی بجائے اسے ملنی چاہیئے ۔ چنانچہ اس خیال کے آتے ہی اس نے تاج اور تخت اور قصر شاہی کے عیش و آرام اور ناز و نعم کو خیر باد کہہ دیا ۔ شہنشاہت چھوڑ کر فقیری اختیار کر لی اور بھکشو ) درویش ( بن کر اپنے بارہ ہزار تارک وطن جینیئوں کے ساتھ چل پڑا ۔بے نواؤں کا یہ قافلہ چلتا چلاتا اور دربدر کی ٹھوکریں کھاتا میسور پہنچ گیا ۔ یہاں بھدر باہو ” اس کا مذہبی پیشوا مر گیا ۔ چندر گپت اس کے مرنے کے بارہ سال بعد تک زندہ رہا لیکن جو روش اختیار کر چکا تھا اس میں تبدیلی نہ آئی ۔ اپنے لوگوں کی ہر تکلیف میں برابر شریک رہا ۔ اس کے ہمراہی ادھر ادھر بکھر گئے لیکن اس کے عوام میں لغزش نہ آئی ۔ بلکہ اس نے مزید یہ سوچا کہ ان کڑی آزمائشوں سے بھی کفارہ ادا نہیں ہوا ۔ اب فاقہ کشی کر کے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دینی چاہیئے ۔ کتنا بھیانک تھا شہنشاہ معظم کا یہ فیصلہ اور کس صبر استقلال سے اس فولادی عزم کے انسان نے اپنے اس فیصلے پر عمل کیا ہم تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ؟چندر گپت موریا ۔۔۔۔۔۔ تھل کا عظیم سپورت ۳۲۲ ق ۔ م میں تخت نشین ہوا تھا اس نے ۲۴ سال شہنشاہی کی ۔ تخت چھوڑنے کی وقت اس کی عمر پچاس سال سے بھی کم تھی ۔

 نوٹ : یہ مضمون ڈاکڑ مہر عبدالحق سمرا کی کتاب "تھل” سے لیا گیا ہے 

یہ بھی پڑھیں

جواب دیں

Back to top button

For copy this text contact us :thalochinews@gmail.com