سمیر ، بابل کے ایک ضلع کا نام ہے ۔ یہاں کے قدیم ترین باشندوں کو سمبر تین کہتے ہیں ۔ مصر : بابل اور نینوا کے باشندے اپنے آپ کو سام بن نوح کی اولاد سمجھتے تھے اسلئے اپنے آپکو سامی النسل کہتے تھے ۔ ان میں عبرانی ، آرای ، عرب اور اسیری شامل تھے ۔ غیر سامی النسل لوگوں کو انہوں نے اپنے سے الگ سمجھتے ہوئے سمیر کین کا نام دے دیا جو کسی کا نام نہیں بلکہ علاقائی نام ہے ۔ سمیر کے لوگوں نے اعلیٰ درجے کی تہذیب کی بنیاد رکھی اور اسکو انتہائی عروج تک پہنچا دیا ۔ علم الا آثار کی جدید ترین تحقیقات سے اب یہ حقیقت پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے دنیا کی اولین تہذیب و تمدن کا مرکز منبع مصر نہیں بلکہ سمیر کا علاقہ تھا ۔ یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں برآمد ہونے والی پر جو عبارتیں کندہ ہیں ان کی زبان ابھی تک مکمل طور پڑھی نہیں جا سکی تاہم اتنا معلوم ہے کہ اس کے الفاظ اور ان کے بنیادی اجزا اس وقت دنیا کی کسی بھی زبان میں نہیں ملتے ۔ کچھ تھوڑی بہت مشابہت اگر ہے تو ترکی زبان کے قدیمی مآخذات سے ہے ۔ اس کے علاوہ اور کہیں نہیں ہے ۔ مرزا ابن حنیف صاحب نامور محقق ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کے آثار قدیمہ پر جو عملی اور تحقیقی کام کیا ہے وہ انتہائی قابل قدر ہے وادی سندھ کا میدانی علاقہ جو کالا باغ سے ساحل سمندر تک پھیلا ہوا ہے اور ملتان جس کا طبعی مرکز ہے ان کی اثری تحقیق کا خاص موضوع ہے ۔ ان کی اور رفیق مغل جیسے ماہرین کی مساعی جمیلہ سے جو بات واضح طور پر سامنے آچکی ہے وہ یہ ہے کہ سمیر کی
تختیوں تہذیب میں اور ہڑپہ ، رنگیل پور ، ڈیرہ اسمعیل خان سے کوئٹہ کے نواح تک اور پھر پتن منارا اور اس کے ارد گرد کے اثری مقامات سے لے کر موہن جودڑو اور کووٹ ڈیجی تک براسته بلوچستان جو تہذیبی اثرات ملے ہیں ان میں ایسی مماثلت اور یکسانی ہے جو دونوں تہذیبوں کو ایک ہی ماخذ سے منسلک کرتی ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے گہرے روابط کیونکر پیدا ہوئے . اس سارے خطے کی ثقافت ایک جیسی کس طرح ہو گئی کیا وسیع پیمانے پر انتقال آبادی کا سلسلہ جاری رہا ہے یا طویل عرصے تک دونوں علاقوں کے درمیان تجارتی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا ہے ؟ یا یہ دونوں عوامل ایک ساتھ کام کرتے ہیں ؟برفانی علم الارض کے ماہرین نے چار برفانی ادوار کا ذکر کیا ہے جن میں سابقہ تہذیبیں مٹ جاتی رہی ہیں اور ان کی جگہ نئی تہذیبیں بھرتی رہی ہیں ۔ زمین پر چوتھا اور آخری دور ۸۰۰۰ سال قبل مسیح آیا ۔ جنوب مغربی ایشیا میں بحیرہ اسود کے ارد گرد کے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تو وہ نیچے اتر کر سمیر کے علاقے میں جمع ہو گئے ۔ بحیرہ اسود کے اردگرد کا علاقہ سائیں تھیا کہلاتا تھا ۔ ( سائیتھ کے لفظی معنے درانتی کے ہیں ) لہذا ان آنے والوں کو سابقہ علاقے کی نسبت سے سائیتھین کہا گیا ۔ ان میں شمالی سائی تھیا اور جنوبی سائی تھیا سے آنے والوں کے دو بڑے گروہ تھے جن کی زبان بھی ایک تھی ، لباس بھی ایک تھا ، طرز بود و باش بھی ایک تھی اور ثقافتی دلچسپیاں بھی ایک جیسی تھیں ، مگر مذہبی عقائد اور طور طریقوں میں تھوڑا سا فرق تھا ۔ ایک گروہ کے مذہبی پیشوا قربانی کے مسلک پر سختی سے عمل کرنا چاہتے تھے کیونکہ قربانی کی چیزیں ، ان کے عقائد کے مطابق ، صرف انہی کی معرفت دیوتاؤں تک پہنچ سکتی تھیں اور اب یہ ان کی روزی کا مسئلہ بن گیا تھا ۔ دوسرا گروہ قربانی کے عقیدے اور مسلک کے خلاف تھا ۔ یہ دونوں گروہ خاصے طویل عرصے تک سمیر میں اکٹھے رہے ہیں ۔ اس اعتبار سے ہم انہیں سمیر کین بھی کہ سکتے لیکن چونکہ یہ لفظ اب علمی اصطلاح بن چکا ہے اور صرف ان لوگوں کیلئے بولا اور سمجھا جاتا من تہذیب و تمدن کے بانی تھے اس لیئے ہم انہیں سمیر تکین بھی کہنے سے احتراز کرتے ہیں ۔ البتہ انہیں سائی تھیں تم سمیر کمین کہہ دیا جائے تو کوئی ہرج نہیں ہے ۔ سامنچھ ہے جو سمیر کن تاپھرجولیےعام21کو جرمنی زبان میں جیٹی ، عربی میں زط ، سرائیکی اور سندھی میں جٹ اور جت اور سنسکرتی زبانوں میں ساکیہ اور ساکا کہا گیا ہے ۔ پھر یہی قوم سندھ میں سومرا ، سمرا اورسمرا سا تھا کے نام سے مشہور ہے اور وادی سندھ کے میدانی علاقے سے لیکر کاٹھیاواڑ تک میں پھیلی ہوئی ہے ۔ گویا انہوں نے اپنے آپ کو سائی تھیا اور سمیر دونوں علاقوں نسبت دی ہے ۔ خیر ناموں میں کیا رکھا ہے ۔ نسلی نام ہوں یا علاقائی ان سے صرف پہچان مقصود ہوتی ہے ۔ ہم بھی اسی پہچان کی خاطر مذکورہ دو بڑے گروہوں کو ساتھئین تم سمیر تین کہہ رہے ہیں ۔ یہ دونوں گروہ سمیر میں اکٹھے رہنے کے بعد بعض وجوہات کی بنا پر پھر ایک بار نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ۔ ایک گروہ ایران کی طرف چل پڑا ۔ کچھ نے یورپ کا رخ کیا اور وہ گروہ جو قربانی کے مسلک کے خلاف تھا اونچے اونچے دشوار گزار پہاڑوں ۔
بچتا بچاتا کوہ سلیمان کے چھوٹے بڑے نوے سے زائد درے عبور کرتا ہوا کالا باغ . گوادر تک پھیلی ہوئی ایک ہزار میل لمبی وادی سندھ میں اتر آیا اس لئے اسکی شکل کسی بڑے ریلے کی سی نہیں تھی جس سے دہشت پیدا ہوتی اور نہ ہی اس کے عزائم جارحانہ تھے اس لئے مقامی باشندوں نے انہیں خوش آمدید کہا . یہ تلاش معاش کیلئے نکلے تھے ، اور اس کے لئے دریائے سندھ اور اس کے دونوں کناروں کا میدانی علاقہ بہت وسیع تھا ۔ لہذا بہت جلد یہاں کے مقامی باشندے ان سمیرکین ثم سائیتھین لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے ۔ بالفاظ دیگر ایک نئی قوم وجود میں آگئی ۔ اس نئی قوم نے اپنے ماحول کے پیدا داری وسائل سے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنے سابقہ مسکن سمیر سے : سے بھی نہ صرف تہذیبی ، تمدنی ، ثقافتی اور تجارتی تعلقات قائم رکھے بلکہ انہیں ترقی دی ۔ دریائے سندھ صدیوں سے اس انتظار میں تھا کہ کوئی بہت بڑی قوم اگر اسے دنیا کی سب سے بڑی تجارتی شاہراہ بنا ڈالے۔ چنانچہ سائیتھین ثمر سمیر کمین ثم وادی سندھ کی اس نئی قوم نے (جسے انڈس کے حوالے سے بعد میں انڈین کہا گیا ) دریائے سندھ کی ایک ایک لہر پر کشتیوں کی حکمرانی قائم کر دی اور بین الاقوامی تجارت کی مکمل اجارہ داری حاصل کر لی ۔ جب یہ تجارت دو طرفہ بنیادوں پر جاری ہو گئی تو دریائے سندھ کے علاوہ اس کے معاون دریاؤں اورندی نالوں پر بھی تجارتی منڈیاں قائم ہونے لگیں ۔ ان چھوٹی چھوٹی آبادیوں سے قصبے وجود میں آگئے ، پھر مرکزی شہروں کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس طرح دنیا کی عظیم ترین تہذیب و مدنیت ارتقا کی آخری منزلوں تک پہنچ گئی ۔ دادی سندھ میں آثار قدیمہ کے ساتھ سے زائد مقامات دریافت ہوئے ہیں جو ان حقائق کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ اس تمدن کے عروج کا زمانہ ۲۵۰۰ سال ق م یا اس سے قدرے پیشتر متعین کیا گیا ہے ۔ سائیتھین ثم سمیر کین کا دوسرا گروہ جو ایران کی طرف روانہ ہوا تھا کچھ مدت کیلئے ایران کے صوبہ آریانہ میں مقیم رہا ۔ یہاں اس نے آتش پرست مذہب کی کچھ باتیں اپنا لیں ۔ زراعت میں دلچسپی لی ۔ نسلی افتخار کو قبول کیا اور شاہی دربار کی شوکت و سطوت سے اپنے دیوتاؤں کو آراستہ کیا ۔ آریانہ میں مقیم رہنے اور زراعتکاری کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام بھی آریا رکھ لیا اور سائیں تھیا اور سمیر کے پچھلے سارے رشتے توڑ دیئے ۔ یہاں سے یہ آگے بڑھ کر افغانستان کے بلند پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے کوہ ہندو کش تک پہنچ گئے ۔ پھر یہاں سے وادی سندھ کے انتہائی شمالی علاقوں میں سربفلک پہاڑوں کے درمیان مقیم ہو گئے ۔ ان کے یہاں پہنچنے کا زمانہ ۱۵۰۰ ق م سے ۱۲۰۰ ق م متعین کیا گیا ہے گویا ان دونوں سائیتھین غم سمیر تین گروہ کے ادھر وارد ہونے کے درمیان ایک ہزار سال کا وقفہ ہے ۔ اس ایک ہزار سال کے دوران دریائی اور میدانی علاقوں میں آباد ہو جانے والے لوگوں نے عالیشان شہری تہذیب تعمیر کی اور بین الاقوامی تجارت کو ترقی دی ۔ جبکہ کوہ ہندوکش کے راستے سے آنے والے آریا ، جو شہری زندگی کے تصور سے ہی آشنانہ تھے ، جنگلی زندگی گزارنے والے چرواہے ہی رہے حالانکہ بقول اے ۔ ایل – باشم ان کی عسکری تکنیک مشرق وسطیٰ کی تنظیم اور تکنیک سے زیادہ ترقی یافتہ تھی ۔ جسمانی طور پر بھی مضبوط اور توانا تھے ۔ یہ محقق مزید لکھتا ہے کہ ان کی مذہبی کتابوں میں جو بھجن ہیں ان کی تصنیف کے زمانے تک کے آریا وحشی تو نہیں تھے کیونکہ تہذیب کے دائرے کے بیرونی خط تک پہنچ چکے تھے اور ” قربانی کی رسومات ” کو فن لطیف کی شکل دے چکے تھے جیسا کہ ان کی شاعری کے معیار سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری اب واضح اور پابند قواعد ہو چکی تھی لیکن اس کے باوجود یہ بالکل ان پڑھ نےتھے شہری اور مہذب زندگی گزارنے کی بجائے لڑا کے چرواہوں کی سی زندگی کو پسند کرتے تھے ۔ اسی طرح کسی مرکزی حکومت کے نظم و ضبط میں آنے کی بجائے قبائلی نظام کو ترجیح دیتے تھے ۔ تیز نشے والے مشروبات بہت زیادہ مقدار میں پینے کے عادی تھے ۔ آوارہ مزاج اور غضبناک طبعیت کے لوگ تھے ۔ چونکہ شہری معاشرت سے ناآشنا تھے اس لئے ان کا کوئی اقتصادی نظام بھی نہیں تھا ۔ ڈاکٹر ہنس راج نے اپنی کتاب ” دی اینشنٹ انڈیا ” میں ان کے وادی سندھ کے اعلیٰ تہذیب یافتہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات تھے ان کی فہرست دی ہے ہم یہاں تفصیل میں نہیں جانا چاہتے البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ چونکہ وادی سندھ کے لوگوں کی معیشت کا انحصار ، ایک اقتصادی نظام کے تحت ، دریائی اور سمندری تجارت پر تھا اس لئے انہوں نے مقامی طور پر دستیاب ہونے والے خام مال سے جہاز اور کشتیاں بنانے کے فن میں اعلیٰ مہارت پیدا کر لی تھی جبکہ آریا دریا اور سمندر کے نام سے بھی ڈرتے تھے اور عبور کرنا ” مہا پاپ ” بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے ۔
وادی سندھ کے میدانی علاقوں کی جس قوم نے کشتی سازی اور جہاز رانی میں کمال حاصل کیا اسے ” مور ” کہا گیا ہے ۔ آریائی زبانوں میں ” مر ” اور ” مرد ” کا مادہسمندر کے معنوں میں مستعمل ہے ۔ یہمتعلقات مادہ یورپ کی مختلف زبانوں میں سمندری ن کیلئے استعمال ہوتا ہے ( جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے ) اور ان زبانوں تک اسے ہمارے ” مور ” لے گئے ہیں ۔ کشتی سازی کا فن اس قوم نے اس مہارت سے اپنا لیا اور سائنس کے اصولوں کو اپنے اس فن میں اس پختگی سے برتا کہ آج چھ ہزار سال بعد کی سائنس بھی حیرت سے انگشت بدنداں ہے ۔ توریت مقدس میں ” کاٹھ کانے ” سے کشتیاں بنانے والی اس قوم کا ذکر ہے جو ” دریاؤں میں بٹی ہوئی ” سرزمین میں رہتی تھی ۔ ” کا نھ کانے ” کی کشتیوں اور ” دریاؤں میں بٹی ہوئی سرزمین ” ہماری اپنی سرزمین ہی تو ہے جو کالا باغ سے ساحل سمندر تک سات دریاؤں کی سرزمین کہلاتی تھی ۔ اور جس کے ایک ایک ندی نالے میں بیک وقت سینکڑوں کشتیاں رواں دواں رہتی تھی ۔ توریت مقدس کے الفاظ یہ ہیں :سوڈان کے دریاؤں سے دور ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر وقت پرندوں کے پروں کی پھڑ پھڑاہٹ فضاؤں میں گونجتی رہتی ہے ۔ یہاں سے دریائے نیل تک اس ملک کے سفیر اپنی ” کا نھ کانے ” کی کشتیوں
میں آتے رہتے ہیں ۔
تیز رفتار سفیر و ! اپنے گھروں کو واپس جاتے ہوئے ایک پیغام لیتے جانا یہ پیغام تمہاری اس سرزمین کے نام ہے جو دریاؤں سے بٹی ہوئی ہے یہ پیغام تمہاری مضبوط اور طاقتور قوم کے نام ہے ۔ یہ پیغام تمہارے ان لوگوں کے نام ہے جو طویل قامت اور ہموار جلد والے ہیں اور جن سے ساری دنیا خوف کھاتی ہے ۔ ” یہ الفاظ ایسا عیاہ پیغمبر کے ہیں جو آٹھویں صدی ق ۔ م کے اواخر میں بیت-ہے ،المقدس میں قیام پذیر تھے ۔ اپنی قوم کو متنبہ کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں : وقت آگیا ہے کہ خداوند قدوس اس دریاؤں سے بٹی ہوئی سرزمین کے طاقتور ، مضبوط ، طویل قامت اور ہموار جلد والے لوگوں کی دعائیں قبول کریگا اور یہ لوگ ، جن سے ساری دنیا خوف کھاتی . اپنی ” کا نھ کانے ” کی کشتیوں میں یہاں کوہ قیعان تک پہنچنگے جہاں صرف خداوند قدوس کی پرستش کی جاتی ہے ۔ ” کاٹھ اور کانے کے پورے کالا باغ سے لیکر ساحل سمندر تک دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر آج بھی اسی فراوانی سے دستیاب ہیں جس طرح چھ ہزار سال پہلے تھے ۔ کیا ان سے بنائی ہوئی کشتیاں اتنی مضبوط تھیں کہ دریائے نیل تک کا بحری سفر برداشت کر سکتی تھیں جبکہ اس طویل سفر میں دریائے سندھ کی تیز رفتاری اور سمندری مدوجزر بھی شامل ہیں ۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے ایران کے شہنشاہ دارا ئے اول نے ۵۱۶ قیام میں ایک مہم سکائی لیکس کی سرکردگی میں بھیجی تھی اور حکم دیا تھا کہ دریائے سندھ کے مضبع سے سواحل ایران تک کا نھ کانے کی کشتیوں میں سفر کر کےحالات اور امکاناتکا تفصیلی جائزہ لیا جائے ۔ سکائی لیکس نے گندھارا کے بالائی منبع سے یہ سفر شروع کیا اور تیرھویں مہینے اپنی منزل مقصود پر پہنچ گیا ۔ اس تجربے کی کامیابی پر شہنشاہ نے ہمارے اس سارے علاقے کو اپنی قلمرو میں شامل کر لیا اور اس کا نام جیویں اقلیم رکھا ۔ اس اقلیم کی آمدنی سے ، جو باقی العلیم کی آمدنی سے کئی گنا زیادہ تھی ، ایران کا شاہی خزانہ بھر گیا ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دریائے سندھ موجودہ گزرگاہ سے بہت دور کہیں مشرق میں بہتا تھا اور جو آج ویران نظر آتا ہے حد درجہ زرخیز اور خوشحال تھا ۔ کاٹھ کانے سے اب کشتیاں تیار نہیں ہوتیں ۔ تاہم خوش قسمتی سے مور قوم ابھی تک موجود ہے اور اپنے آبائی پیشے سے چھٹی ہوئی ہے ۔ عربوں نے اس قوم کو امیر البحر کہا تو ہم اب بھی اسے میر بخار کہتے ہیں ۔ اندرون ملک ان کا ٹریفک دریاؤں کے منبع سے ان کے ” مو نہیں ” تک جاری تھا ۔ اس لئے ہم نے ان کا نام ” موہانہ ” بھی رکھ دیا ۔ یہ قوم فن کشتی سازی کے رموز کو ابھی تک سینوں میں محفوظ رکھے ہوئے ہے ۔ ابھی تک کشتیوں میں رہتی ہے ، اپنی ایک مخصوص زبان رکھتی ہے جس پر ابھی تک کوئی منظم تحقیق نہیں ہوئی ۔ اگر ہو جاتی تو شاید سمیری تختیوں کے پڑھنے سے کچھ مدد مل جاتی ۔ انگریزوں نے انہیں خانہ بدوشوں میں شمار کر کے جرائم پیشہ قرار دیدیا تھا اور اسی نفرت کو دہرایا تھا جو آریاؤں نے ان کے خلاف دلوں میں پال رکھی تھی ۔ اس آزاد قوم کے ایک عمر رسیدہ اور تجربہ کار ملاح تک رسائی حاصل کر کے ہم نے فن کشتی سازی کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ کانتھ پانی کا پودا ہے اور کاناں خشکی کا پودا ہے ۔ تاہم یہ دونوں پودے دریائے سندھ کے دائیں بائیں کناروں پر بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ کاتھ اندر سے خالی ہوتا ہے یعنی اس میں گودے کی بجائے ریشے ہوتے ہیں لیکن اس کی کھال مضبوط موٹی اور پھسلواں ہوتی ہے ۔ کانے کے اندر کا گودا ہلکا ، مسامدار اور قوم کی طرح چمکدار ہوتا ہے جب یہ دونوں پودے پک جاتے ہیں تو ہم ان کی بانس نما شاخوں کو کاٹ لیتے ہیں ۔ یہ آٹھ دس فٹ لمبے ہوتے ہیں لیکن جڑ کی طرف سے زیادہ موٹے اور ” پاند ” کی طرف سے پتلے ہوتے ہیں ۔ انہیں چھیل کر ایکدوسرے کے ساتھ اس طرح باندھ لیا جاتا ہے کہ ایک کانے یا کاٹھ کا منڈھ ہوتا ہے تو دوسرے کا پاند تاکہچوڑائی میں فرق نہ آنے پائے ۔ پھر انہیں باریک ڈوری کے ساتھ ہر آگلی ( گانٹھ ) کے او پر مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ کوندر اور مرری دو دریائی پودے ہیں جن کے لیے لیے پتے بہت مضبوط ہوتے ہیں ۔ ان سے رسیاں بٹی جاتی ہیں ۔ لیکن جس باریک اور صدیوں تک خراب نہ ہونے والی ڈروی سے ہم کشتی کے فرش اور دیواروں کے کانوں کو باندھتے ہیں اسے ہم رودہ کہتے ہیں ۔ یہ گائے بھینسوں کی انٹریاں ہوتی ہیں ۔ انہیں صاف کر کے لمبائی کے رخ تاگے کی صورت میں کام لیا جاتا ہے ۔ پھر انہیں اک نام کے زہریلے پودے یا تھوہر کے دودھ میں کئی مرتبہ خشک و تر کرتے ہیں ۔ اب یہ لچکدار اور انتہائی مضبوط ڈوری بن جاتی ہے جسے نہ کیڑا لگتا ہے نہ دریائی جانور نقصان پہنچاتا ہے اور جو پانی میں رہ کر اور زیادہ مضبوطی پکڑتا ہے ۔ چھ ہزار سال پہلے ان لوگوں کو سائنس کے اس اصول کا بھی علم تھا کہ اگر کوئی برتن پانی کی سطح پر اوندھا رکھ دیا جائے اور اس کے اندر کی ہوا خارج نہ ہونے پائے تو یہ نہیں ڈوبے گا خواہ اس کے اوپر وزنی بوجھ بھی کیوں نہ رکھ دیا جائے ۔ چنانچہ اس اصول پر کام کرتے ہوئے مور کشتی سازوں نے مٹی کے پکے گھڑے ، کشتی یا جہاز کی مطلوبہ سائز کے مطابق اکٹھے کر کے انہیں مضبوط رسیوں سے جکڑ دیا اور پھر ان کی پشت کاٹھ کانے کے فرش بچھا دیئے ۔ کانے کے فرش کو پتل کہتے ہیں ۔ پتل کے اوپر ” سر ” بچھا کر پھر پتیں جما دی جاتی ہیں اور اس طرح کئی نہیں دے کر کشتی کے پیندے کو لچکدار اور مضبوط بنا دیا جاتا ہے ۔ فرش یا پیندا تیار ہو گیا تو اب اس کے اوپر جو کچھ تعمیر کرنا ہوتا ہے ضرورت کے مطابق کر لیا جاتا ہے ۔ اب کشتی تیار ہے ۔ یہ اگر کسی چٹان سے بھی ٹکرا جائے تو لچکدار ہونے کی وجہ سے تباہ نہیں ہو گی ۔ یہ الٹ بھی نہیں سکتی کیونکہ خالی گھڑوں کے اندر کی ہوا کا دباؤ مانع رہتا ہے چھوٹی موٹی مرمت بھی سفر کے دوران کی جاسکتی ہے کیونکہ ضرورت کی تمام چیزیں ہر وقت اور ہر جگہ دریا کے کناروں پر ہی دستیاب ہیں ۔ بچوں اور عورتوں تک کو اس کام میں پوری مہارت حاصل ہوتی ہے ۔ کاٹھ اور کانے کا لفظ ہمارے ہی وطن عزیز سے چل کر دنیا کی ان تمام قوموں کی زبان میں پہنچا ہے جو جہازران تھیں ۔ انگریزی میں یہ لفظ Cane کمین بن گیا ۔ تقدیم فرانسیسی میں Canne لاطینی اور یونانی میں Kanna اور عبرانی میں قانیہ ہو گیا کہا جا سکتا ہے کہ شاید یہ لفظ ان ممالک سے ہمارے ہاں آیا ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس پودے کے دوسرے حصے مثلاً سر اور مونج وغیرہ ان ملکوں کے ذخیرہ الفاظ میں نہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی غور طلب ہے کہ کا نھ اور کانے کے ساتھ خود ” مور ” قوم
کا نام بھی جہاز رانی کے حوالے سے ان ممالک میں پہنچا ہے ۔ اس لفظ کا مادہ ” میم – را ” ہے اسی مادے سے انگریزی کے الفاظ سمندر کے معنے دیتا Marine-MaritimeMariner اور Moorings بنے ہیں ۔ اس زبان میں اب مور کالفظ اس مسلمان قوم کے لئے استعمال ہوتا ہے جو ان کے خیال کے مطابق قوم بربر اور عربوں کے اختلاط سے وجود میںن آئی اور جو اس وقت شمال مشرقی افریقہ میں آباد ہے ۔ یونان والوں نے انہیں مارنطانیہ کے باشندہ ہونے کے حوالے سے مورد کہا ۔ ہسپانیہ میں یہ لفظ Moro ہے ۔ میم – ار ” کا مادہ مارنطانیہ ماریشس اور مراکش میں بھی موجود ہے ۔ سمندر کے معنے دینے والا یہ مادہ فرانسی میں Mer لاطینی میں Mare گاتھک میں Marr اور آئرش اور گائیلک میں Muir بن گیا ہے
سمیر والوں نے بھی جہاز رانوں کو مورد اور ماروت کہا ہے جو ہندو دیو مالا میں ماروت ، مورائٹ اور امورائٹ ہیں ۔ سکاٹ لینڈ کے ایک دانشور ، ڈاکٹر ایل اے ویڈل ، نے اپنی عمر کا بڑا حصہ میسوپوٹیمیا اور وادی سندھ سے برآمد ہونے والی آثار قدیمہ کی تختیوں کے مطالعے میں گزار دیا ۔ اس نے ان تختیوں پر لکھے ہوئے ناموں کی فہرستیں مرتب کیں اور پھر ان کا مقابلہ ان ” فہارس شمابان ” سے کیا جو آریاؤں نے اپنی مقدس کتابوں میں محفوظ کر رکھی ہیں ۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ان فہرستوں میں حد درجے کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ ان میں جو نام پائے جاتے ہیں وہ بالکل ایک جیسے ہیں ۔ یہ نام قبل از تاریخ بادشاہوں کے ہیں ۔ سندھ کی تخت ما تختیوں پر بھی وہی نام ، میسوپوٹیمیا کی تختیوں پر بھی وہی نام اور آریاؤں کے نسب ناموں میں بھی وہی نام ! اور پھر پشت به پشت نسلوں کی ترتیب بھی ایک ! اس تحقیق کے مطابق جو حقائق سامنے آتے ہیں وہ یہ ہیں کہ وادی سندھ سائیتھئین سمیرتین سےلوگوں کی اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت بہشت کا نمونہ تھی ۔ اوراش اور اس کے فنیقی قبیلے کے لوگ دریائی زندگی بسر کرنے والے لوگ تھے یعنی وہ کیسے ان کے شہر سے جو بندرگاہ بھی تھا اور جس کا نام لاگاش تھا ۔ ایسی چیزیں برآمد ہوئی ہیں جن کا تعلق دریائی زندگی سے ہے ۔ تصویری رسم الخط میں عام طور پر ہواؤں ، سمندروں اور پانی والی زمینوں کے لئے ” بادیاں ” کی تصویری علامت استعمال ہوتی ہے ۔ لاگاش سے اس علامت والی تختیاں بھی برآمد ہوئی ہیں ۔ اس علامت کا تلفظ ” سر ” یا ” مرد ” ہے ۔ یہیں سے مور کا لفظ وجود میں آیا ہے ۔ ” ” مین میخ نکالنا ۔ سیخ ہڈی کا گودا ہے جیسے ہم یکھ کہتے ہیں ۔ میں پچھلی کو کہتے ہیں ۔ پچھلی کی ہڈیوں سے یکھ نکالنا کتنا عبث کام ہے یہ اس محاورے کے مفہوم سے ظاہر ہے ۔ می کے معنے ماہی گیر ” ہیں ۔ دریاؤں کے کنارے ماہی گیروں کی بستیاں قائم ہوئیں تو انہیں ” می ” کی نسبت ۔ میانی کہا گیا ۔ می کران ( مکران ) کے معنے بھی یہی ہیں یعنی ماہی گیروں کا ساحل ۔ ہزاروں سال پہلے سب سے بڑا پیشہ ہی ماہی گیری تھا ۔ مچھلی کی آنکھوں سے موتی بنائے جاتے تھے ان موتیوں کو بھی مانک ( منگا ) کہا گیا ۔ میانی کے نام کے قصبے یا شہر یا قومیں جہاں کہیں بھی وادی سندھ کے نقشے میں نظر آئیں سمجھ لیجیئے کہ ان کا تعلق ماہی گیری سے ہے ۔ اس سے ” مور قوم کے زیر تسلط علاقوں کی وسعت کا بھی علم ہو جائیگا اور اس کی تجارتی شاہراہوں کا بھی اندازہ لگ سکیگا ۔ اسی طرح ” مور” کے لفظ اور اس کے مشتقات سے بھی بہت سے تاریخی حقائق سامنے آسکتے ہیں ۔ مور جھنگی ، کشمور ، موری ، مورد وغیرہ سب اس نسبت سے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ملتان کا نام پہلے ملستھان تھا کیونکہ یہاں کوئی ملوئی قوم آباد تھی ۔ پنجاب کا سٹس اینڈ ٹرائیز ” کہتا ہے کہ اسے اس قوم کے کوئی آثار نہیں ملے ۔ ملوئی یا ملی کے لفظ میں حرف میم پر زبر ہے جو لسانی اصول و قواعد کے تحت الف سے تو بدل سکتی ہے لیکن اس کا تلفظ واؤ یا پیش والا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ حقیقتاً یہ لفظ مور استھان تھا جو لسانی اصولوں کے تحت مورستھان اور ملتان بن گیا ۔ واؤ اور پیش ایک ہی چیز ہے ۔ اسی طرح ” را ” کا ” لام” سے بول جانا بھی قاعدے کے مطابق ہے ( جیسے سویرے اور سویلیے
میں ہے ) ۔
