میں راستوں کا بہت کچا ہوں، کبھی کبھی تو اپنے گھر کا راستہ بھی بھول جاتا ہوں اور دوسرے شہروں کے راستے تو مجھے بالکل یاد نہیں رہتے۔ حالانکہ محبی حبیب اکرم نے، جو پورے پاکستان کو اپنے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح جانتے ہیں، مجھے اچھی طرح سمجھایا تھا کہ ڈیر ہ اسماعیل خان جانے کے لیے جوہر آباد سے نکلنے والی سڑک لینا مت بھولنا، یہ سڑک اٹامک انرجی کمیشن سے ہوتی ہوئی آگے تھل کے ریگستان سے گزرتی ہے اور پھر یہ راستہ ڈیرہ اسماعیل خان کی سڑک سے جا ملتا ہے۔ مجھے ایسے راستوں پر سفر کرنا بہت پسند ہے جو تا حد نگا ہ سنسان ہوں، آس پاس کوئی آبادی نہ ہو، سڑک کے دونوں جانب صحرا یا جنگل ہو، دور دور تک جدید زندگی سے رابطے کو کوئی وسیلہ نہ ہو اور پھر کئی میل کی مسافت کے بعد اچانک ایک چھوٹا سا ڈھابہ آ جائے جہاں چائے پی جا سکے، اسی کے ساتھ ایک ٹوٹی پھوٹی سی دکا ن ہو جہاں فوری ضرورت کی دو چار چیزیں ملتی ہوں، وہیں پاس کوئی ایک آدھ کچا مکان ہو جس میں کوئی موجود نہ ہو، اور ذرا پرے سرکاری انداز تحریر میں قریب ترین پولیس چوکی کا پتہ لکھا ہو جو وہاں سے کم از کم دس میل کے فاصلے پر ہو۔ یہ سب کچھ ہو مگر ساتھ ہی اپنی گاڑی میں پٹرول پورا ہو، گرمیوں میں اے سی اچانک کام کرنا نہ چھوڑدے اور گاڑی چلتے چلتے اس سنسان علاقے میں بند نہ ہو جائے جہاں موبائل فون کے سگنل بھی مفقود ہوں۔ کسی فلم میں جب ایسا منظر دیکھنے کو ملتا ہے تو میں فلم چھوڑ کر بس اسی ماحول میں کھو جاتا ہوں۔ مدتوں پہلے ایک بھارتی فلم ’روڈ ‘ دیکھی تھی، یہ فلم ایسی ہی سڑکوں پر فلمائی گئی تھی۔ اپنے بلوچستان میں بے شمار راستے ہیں جہاں دور دور تک انسانی آبادی نہیں ملتی اور پھر کئی میل کے بعد جب کسی ڈھابے میں زندگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے تو بندہ جیسے دوبارہ جی اٹھتا ہے۔ میری زندگی کی چند خواہشات میں سے ایک خواہش بلوچستان کے انہی سنسان راستوں کا سفر کرنا بھی ہے۔ لیکن فی الحال پنجاب میں واپس آتے ہیں۔ پنجاب میں ایسی سنسان جگہیں خال خال ہی ملتی ہیں، اگر بظاہر ویران سڑک مل بھی جائے تو آبادی مسلسل نظر آتی رہتی ہے، کہیں گائوں کے کچے پکے مکانات کی شکل میں اور کہیں خستہ حال سرکاری اسکولوں کی صورت میں۔ مکرمی حبیب اکرم کو جب میں نے اپنی جملہ خواہشات کی فہرست سے آگاہ کیا تو انہوں نے کچھ دیر توفون پر اداکار طلعت حسین کی طرح توقف کیا اور پھر فرمایا کہ فلم ’ڈرنا منع ہے‘ والا مکمل پراسرار اور سنسان ماحول فراہم کرنا تو شاید ’فقیر‘ کے لیے ممکن نہ ہو البتہ اگر آپ نور پور تھل کے راستے سے ہوتے ہوئے جائیں گے تو کسی حد تک آپ کی نا آسودہ خواہشات کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ مگرافسوس کہ ہم راستے سے بھٹک گئے۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے پر چڑھنے کے بعد ہم بھیرہ سے باہر نکلے اور اپنی گاڑی شاہ پور کی جانب موڑ لی، یہ سڑک خاصی خراب ہے، ویسے تو خوشاب تک یہ راستہ چند کلومیٹر کا ہے مگر سڑک اِس قدر ٹوٹی پھوٹی ہے کہ ہمیں ایک گھنٹہ لگ گیا۔ آگے خوشاب میانوالی روڈ اچھی ہے، یہ ہمیں سیدھی دریائے جہلم تک لے گئی۔ دریا کے کنارے کھانے پینے کے کئی مقامات بنے ہیں جہاں بیٹھ کر آپ پورے دریا کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ اِس آگے ہم جوہر آباد سے تھل کی جانب مڑنے والا راستہ نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا میانوالی کی جانب ہو لیے۔ جب غلطی کا احساس ہوا تو دیر ہو چکی تھی۔ ہم نے گاڑی واپس موڑ کر وہ ’مسنگ لنک‘ تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے، سائنس دانوں کو آج تک وہ لنک نہیں مل سکا تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔ اب ہمارا رُخ میانوالی کی طرف تھا، وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ڈیرہ جانے کے لیے ہمیں چشمہ بیراج والا راستہ لینا ہوگا۔ ایک مرتبہ پھر ہم نے گاڑ ی واپس موڑی اور چشمہ کی جانب رُخ کر لیا۔ یہ راستہ بہت خوبصورت تھا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ دائیں جانب چشمہ بیراج کی جھیل تھی، سامنے پہاڑ تھے اور پہاڑ کے دامن میں سورج ڈوب رہا تھا۔ پاکستان میں ایسے حسین مناظر میں نے کم ہی دیکھے ہیں۔ یہ سڑک آگے بائیں جانب خیبر پختونخواہ کی طرف مڑ جاتی ہے، سو یہاں سے ہم ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر آگئے۔ یہ منظر بھی بہت دلفریب تھا، دائیں جانب چھوٹے چھوٹے دیہات تھے اوران سے پرے اونچی نیچی پہاڑیاں اور ان پہاڑیوں کے دامن میں ہرے بھرے کھیت۔ یہ سڑک آگے چل کرجب ایک کھلکھلاتی نہر سے ملی تو یوں لگا جیسے حسن اور عشق کا ملاپ ہوگیا ہو۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں داخل ہوتے ہوئے رات ہو گئی۔ شہر کے درمیان سے گذرتے ہوئے جب ہم اپنے ہوٹل کی جانب مڑے تو اچانک ہمیں پتا چلا کہ آگے دریائے سندھ ہے۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سڑک دریا میں جا کر ختم ہو رہی ہے مگر اصل میں یہ سڑک دریا کے ساتھ ساتھ چلتی ہے، یہاں قطار اندر قطار کھانے پینے کی دکانیں ہیں، ہمارا ہوٹل یہیں دریائے سندھ کے سامنے تھا۔ شیر دریا سندھ۔ مگر یہ شیر لگتا ہے اب بوڑھا ہو گیا ہے، اِس میں وہ طغیانی آتی ہے اور نہ اِس کی لہریں اب اُس طرح بپھرتی ہیں۔ صبح اٹھ کر سندھ کے کنارے جب طلوع آفتاب کا منظر دیکھا تو بے اختیار جوش کا شعر یاد آ گیا ”ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے، اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی‘۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے سفر کی دعوت ہمیں عامر رانا صاحب نے دی تھی، آپ کا مزاج جتنا دھیما ہے اتنا ہی لطیف بھی ہے، فرمانے لگے کہ گھر بیٹھنے سے آپ کا وزن بڑھ گیا ہوگا لہذا بہتر ہوگا کہ چند دن لاہور سے باہر گذار لیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں خیبر پختونخواہ اور وزیرستان کے علاقوں سے مختلف جامعات کے طلبا سے ملاقات بھی ہو جائے گی اور ڈیرے کے حالات جاننے کا موقع بھی ملے گا۔ وزن والی بات میں چونکہ وزن تھا اِس لیے میں نے فوراً ہامی بھر لی۔ عامر رانا صاحب اِس قسم کے میل ملاقات کا اہتمام کرتے رہتے ہیں اور ان کا دم غنیمت ہے کہ اپنے یہاں تو کھل کر بات کرنا بھی ایک عیاشی ہے جو نصیب میں نہیں۔ دو دن کے قیام میں زیادہ تو نہیں جان سکا البتہ ایک بات جو میں نے نوٹ کی وہ اِن طلبا کی سیاسی بالغ نظری تھی۔ خوش مزاج اور بچوں کی سی معصومیت والے بیباک صحافی سبوخ سید کے بقول دہشت گردی نے اِس خطے کو جہاں نا قابل تلافی نقصان پہنچایا وہاں اِن نوجوانوں کو شدت پسندی سے دور بھی کر دیا، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ شدت پسندی کا نتیجہ کس شکل میں نکلتا ہے، اب ان نوجوانوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی ہے اور یہ اپنا حق اِسی زندگی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ واپس جانے کے لیے ہم نے بھکر والے راستے کا انتخاب کیا۔ سندھ کی ایک جانب ڈیرہ ہے تو دوسری جانب بھکر۔ ڈیرے سے نکلتے ہی ہم ایک پُل پر چڑھ گئے جو پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی گویا سرحد ہے۔ آگے ضلع بھکر تھا۔ بھکر سے ہم نے حیدر آباد تھل کی جانب گاڑی موڑ لی کہ ریگستان دیکھنے کی جو خواہش ہماری حماقت کی وجہ سے پوری نہ ہو سکی تھی وہ اب پوری ہوجائے۔ خواہش پوری تو ہوگئی مگر ہمیں وہ ریگستا ن نہ ملا جس کی تلاش تھی۔ اول تو اِس راستے میں مکمل آبادی تھی، کوئی بھی ایسی جگہ نہیں ملی جس پر سنسان ہونے کا شبہ کیا جا سکے اور دوسرا، اِس میں صحرا والی کوئی بات نہیں تھی، کہیں کہیں رتیلے ٹیلے نظر آئے مگر مجموعی طور پر سبزہ ہی دکھائی دیا۔ البتہ رات کو سفر کرنے کے لیے یہ راستہ بے حد ’موزوں‘ ہے۔ یہاں ایک ٹیلے کے نیچے گاڑی کھڑی کرکے ہم باہر آئے، سگریٹ سلگایا، گاڑی کی روشنی بند کی اور ’میں کملی دا ڈھولا، ہائے رات دھمی لٹی جاندی اے‘ لگا لیا۔ یوں لگا جیسے کائنات سمٹ کر تھل میں سما گئی ہو۔
شکریہ ہم سب ویب سائٹ